چیف جسٹس: عدالت کے باہر جو کچھ کہا جا رہا ہے اس پر ہمارے صبر کی داد دیں
پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کی داد دیں کہ عدالت کے باہر عدلیہ کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے اس پر ہم ٹس سے مس نہیں ہو رہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ’کسی کے کہنے سے ہماری شان یا انصاف میں کمی نہیں آئے گی‘۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے باہر عدلیہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین اور قانون کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ کہاں کی حب الوطنی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔
پڑھیے کے بدھ کو ہوا کیا تھا

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
عدالت سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں ان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر منگل کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کل ان کا بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں سامنے آ گیا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جو الفاظ آئے ہیں اس میں وہ بغض ڈھل گیا ہے۔'
اس کے بعد حکمراں جماعت کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نظرثانی کی درخواست میں میاں نواز شریف کے خلاف اُن کے بقول سخت الفاظ کہنے پر بھی سپریم کورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدلیہ ان تمام باتوں کے باوجود ایسے واقعات کو مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونے دیتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی کے لیے اپنے کام میں ڈنڈی کیوں ماریں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ کے جج صاحبان کو جتنی عزت ملی ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی کیا دے سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس اس وقت دیے جب درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے سنہ 1997 میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 1997 میں ہونے والے انتخابات میں عمران خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عمران خان سنہ 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں وزیر اعظم کے امیدوار بھی تھے۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی باتیں باہر جا کر کریں۔
عمران خان کے سنہ 1997 میں ہونے والے انتخابات کے کاغذات نامزدگی طلب کرنے کے بارے میں چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ ہو کہ مقدمہ طوالت اختیار کر جائے جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ’مائی لارڈ میں نے اس مقدمے کو التوا میں ڈالنے کے لیے کبھی تاریخ نہیں لی‘۔
عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے موکل کے کاغذات نامزدگی میں کوئی کمی رہ جاتی تو وہ مسترد کردی جاتی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بھی دلائل دینے کو تیار ہیں لیکن اُنھیں کچھ وقت دیا جائے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی۔









