بلوچستان: پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد

کوئٹہ لاشیں، فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان لبریشن فرنٹ نے ایک بیان میں ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ لیویز نے ضلع کیچ سے ضوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں۔

کمشنر مکران بشیر احمد نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ ان افراد کی ہلاکت کا واقعہ منگل کی رات پیش آیا اور ہلاک شدگان غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بشیر احمد کے مطابق ان افراد کو بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تربت کے علاقے گروک میں گاڑی سے اتار کر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

لاشوں کو کیچ کے ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے۔

ہلاک شدگان میں سے چار کا تعلق ضلع سیالکوٹ، تین کا ضلع منڈی بہاؤ الدین، دو کا ضلع گوجرانوالہ، جبکہ ایک، ایک کا واہ کینٹ اور گجرات سے بتایا گیا ہے جبکہ چار لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ ہے۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بھی ایک بیان میں ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانے والے افراد عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ملازمین تھے اور ضلع کیچ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے سرحدی شہروں مند اور تفتان کے راستے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پاکستان سے غیر قانونی طور پر یورپ اور خلیجی ممالک جانے والے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔

اگرچہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جانے کا دعوی کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے راستے پنجاب سے یورپی اور خلیجی ممالک کو انسانوں کی سمگلنگ کا سلسلہ مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔

کوئٹہ میں ایف آئی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ انسانی سمگلنگ کے دھندے میں کئی بااثر شخصیات ملوث ہیں اور اس وجہ سے انسانی سمگلنگ کے ایجنٹ گرفتار ہونے کے باوجود ثبوت اور گواہ نہ ہونے کی بنیاد پر عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں۔