چینی انجینیئروں کی لاشیں برآمد، پاکستانی کان کن کی تلاش جاری

کانکن

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ میں سیسے کی کان میں پھنسے دو چینی کارکنوں کی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ پاکستانی کانکن کی لاش 29 دن گزرنے کے باوجود بھی نہیں نکالی جاسکی۔

یہ کان کن 24 نومبر کان میں پھنس گیا تھا۔

اس کان کنوں کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا لیکن ان کو زندہ نکالنے کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔

محمکہ انسپیکٹوریٹ آف مائنزبلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ یہ کوششیں کان کے اندر شدید گرمی اور پانی جمع ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کو نکالنے کے لیے چین سے سے بڑی مشینیں منگوانے کے بعد ریسکیو کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دو روز قبل چینی انجنیئروں کی لاشوں کو نکال کر چین روانہ کردیا گیا۔ تاہم پاکستانی کان کن کی لاش کو تاحال نہیں نکالا جاسکا۔

پاکستانی کان کن ضلع لسبیلہ کا مقامی رہائشی تھا۔

سینیئر اہلکار کے مطابق چونکہ پاکستانی کان کن زیادہ گہرائی میں پھنس گیا تھا جس کی وجہ اس کی لاش کو تاحال نہیں نکالا جاسکا۔

اہلکار کے مطابق پاکستانی کان کن کی لاش کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

سیسے کی یہ کان کنراج میں دودھڑ کے علاقے میں واقع ہے۔

سیسہ نکالنے کا یہ منصوبہ ایک چینی کمپنی اور حکومت بلوچستان کامشترکہ پراجیکٹ ہے۔

چینی کمپنی نے اس منصوبے پر سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کام شروع کیا تھا۔