’سوشل میڈیا کے حوالے سے ڈاکٹروں کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے کی اشد ضرورت ہے‘

فیس بک

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان کی نیشنل بایو ایتھکس کمیٹی کے رکن پروفیسر عامر جعفری نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ضابطہ اخلاق کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں ان قوانین کی غیر موجودگی کے بارے میں کیے گئے سوال پر پروفیسر عامر جعفری نے کہا کہ 'پاکستان کی نیشنل بایو ایتھکس کمیٹی کے کام کا طریقہ ایسا ہے کہ اسے کسی مسئلے کی جانب نشاندہی کی جاتی ہے جس پر وہ سفارشات کے تحت عمل کرتی ہیں۔

'ابھی تک تو ابھی سوشل میڈیا کے حوالے سے کوئی نئی تجویز نہیں آئی ہے لیکن حال میں سامنے آنے والے واقعے کے بعد ہو سکتا ہے کہ پی ایم ڈی سی اور بایو ایتھکس کمیٹی اس بارے میں کوئی قوانین مرتب کریں۔'

پروفیسر عامر نے کہا: 'پاکستان میں میڈیکل سکول اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز میں بھی ڈاکٹروں کو اخلاقیات کے بارے میں تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی اور سوشل میڈیا کے حوالے سے تو انھیں کوئی علم ہی نہیں ہے اس لیے ضابطہ اخلاق کی اشد ضرورت ہے۔'

ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر عامر نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا بنایا ہوا اخلاقیات کا ضابطہ اخلاق بہت پرانا ہے اور سوشل میڈیا کے حوالے سے مسائل اب سامنے آ رہے ہیں۔

'دنیا بھر میں ان نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق بنائے جا رہے ہیں اور اب نہ صرف پی ایم ڈی سی بلکہ اداروں اور میڈیکل کالجوں کو بھی لازمی طور پر یہ قوانین بنانے چاہییں۔'

پروفیسر عامر نے کہا کہ ’اس وقت کسی بھی قانون کی غیر موجودگی کی وجہ سے ڈاکٹروں کا سوشل میڈیا کا استعمال ذاتی فعل ہے اور ہر شخص اپنی حدود خود مقرر کر رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ پہلے کیونکہ ڈاکٹر اور مریض کا تعلق محدود حد تک تھا لیکن اب سوشل میڈیا کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔

'اب سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے ڈاکٹر اور مریض کا تعلق بڑھ گیا ہے اور ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کا فرق مٹ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹروں کو تعلیم دی جائے اور بتایا جائے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔'

پروفیسر عامر جعفری نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انھیں انڈیا میں ڈاکٹروں کے لیے ایسے ضابطہ اخلاق کی موجودگی کا علم نہیں ہے لیکن امریکہ اور برطانیہ دونوں جگہ ڈاکٹروں کے لیے مختلف قسم کے ضابطہ اخلاق مرتب کیے ہوئے ہیں۔