ملتان: 12 سالہ لڑکی کے انتقامی ریپ پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس آف پاکستان نے صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان میں ایک لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔
ملتان کے علاقے مظفرآباد میں مبینہ طور پر پنجائت کی جانب سے ریپ کرنے کا حکم جاری کرنے کی خبریں میڈیا میں آنے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس نوٹس لیا اور آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
خیال رہے کہ خاندان کے دو گروہوں کے افراد، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، نے کچھ روز قبل ایک 12 سے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے میں آپس میں فیصلہ کیا کہ اس میں ملوث ملزم کے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ بھی اسی طرح انتقامی جنسی زیادتی کی جائے۔
محمد امین نامی شخص کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم عمر وڈا کی 17 سالہ چچا زاد بہن کے ساتھ بدلے کہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔
پولیس کے مطابق اس کے بعد دونوں فریقین میں مبینہ طور پر صلح ہو گئی۔
پولیس کو معاملے کا علم وومن پولیس سٹیشن ملتان میں درج ایک درخواست کے ذریعے ہوا۔
سٹی پولیس آفیسر ملتان احسن یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کوئی روایتی پنچایت نہیں تھی بلکہ ایک ہی خاندان کے لوگوں نے آپس ہی میں تمام معاملات طے کر لیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ 17 سالہ لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں فریقین میں صلح ہو گئی جس کا صلح نامہ بعد میں تفتیش کے دوران پولیس کو بھی دکھایا گیا تھا۔
احسن یونس نے بتایا کہ 20 افراد زیرِ حراست ہیں تاہم لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص تا حال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔








