’گھریلو ملازم اختر علی کی موت شدید تشدد کے باعث ہوئی‘

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب
،تصویر کا کیپشنچائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن اور رکن پنجاب اسمبلی صبا صادق 12 سالہ بچی عطیہ کی ساتھ
    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں خاتون رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی فوزیہ بی بی کے خلاف جواں سال لڑکے کے مبینہ قتل کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق دہشتگردی کی ان دفعات کا اندراج 16 سالہ اختر علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اختر علی کی موت شدید تشدد اور اس کے نتیجے میں ہونے والے صدمے کی باعث ہوئی۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی کے مطابق اختر علی کے جسم پر پائے جانے والے زخموں کی نوعیت ایسی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کے 16 سالہ لڑکے کو کند طریقے سے ضربیں لگائیں گئیں۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اختر علی کے جسم پر لگے تمام زخم موت سے پہلے کے ہیں جو ان کے جسم پر مختلف اوقات میں لگائے گئے۔

'گو کہ یہ واضح نہیں کہ زخم کس ہتھیار سے آئے تاہم ان کے جسم پر 16 پرانے زخموں کے داغ پائے گئے ہیں۔ یہ زخم کسی کند ذریعے سے دیے گئے۔'

رپورٹ کے مطابق اختر علی کی موت بار بار کیے جانے والے تشدد کا نتیجہ تھی اور یہ کہ ان کی موت ممکنہ طور پر تشدد کے آٹھ سے 24 گھنٹے دوران ہوئی۔

یاد رہے کہ منگل کے روز پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے رہائشی محمد اسلم کی شکایت پر لاہور کے تھانہ اکبری گیٹ میں خاتون رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی فوزیہ بی بی کے خلاف ان کے بیٹے اختر علی کو مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم میڈیکل کی رپورٹ آنے سے قبل ہی فوزیہ بی بی نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی تھی جو اس ماہ کی 20 تاریخ کو ختم ہو گی۔

اکبری گیٹ تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق محمد اسلم نے پولیس کو بتایا کہ اس کو اختر علی کی طبیعت کی خرابی کی اطلاع منگل کی صبح ملی تھی جس کے بعد دوپہر کو اس کی موت کی خبر آئی۔

ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور مبشر میکن نے بی بی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اختر علی کو تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جائے گی کہ 20 تاریخ کو ملزمہ کی ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر ان کو گرفتار کر لیا جائے۔

محمد اسلم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنے بیٹے اختر علی اور 12 سالہ بیٹی عطیہ کو گذشتہ چار سالوں سے خاتون رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہاں کے گھر پر ملازمت کے لیے چھوڑا ہوا تھا۔ تاہم کچھ عرصے سے دونوں بچے گھر والوں اور خصوصاً فوزیہ بی بی کی جانب سے ان پر تشدد کیے جانے کی شکایت کرتے تھے مگر محمد اسلم نے بہلا پھسلا کر ان کو وہیں رہتے رہنے کو کہا۔

عطیہ ہی نے منگل کے روز بھائی اختر علی پر تشدد اور اس کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع باپ کو دی تھی۔ مسلسل کوشش کے باوجود محمد اسلم سے رابطہ ممکن نہیں ہو پایا۔ پولیس کے مطابق واقع کے فوراٌ بعد سے ان کا موبائل فون بند جا رہا ہے۔

عموماً ایسے مقدمات جن میں صاحبِ حیثیت شخصیات ملوث ہوں ان میں ملزمان مدعی کو پیسے دے کر مصالحت کر لیتے ہیں۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن اور رکن پنجاب اسمبلی صبا صادق نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مقدمے میں ایسا ممکن نہیں۔

'ایسا بالکل نہیں ہو گا۔ وزیرِ اعلِی کی ہدایت پر اس میں مدعی ہم خود ہوتے ہیں۔ کوئی چیز نہ تو چھپائی گئی ہے، نہ چھپائی جائے گی۔ اختر کا خاندان ہماری ترجیح ہے۔ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی ہے، ان کو انصاف ملے گا۔'

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو
،تصویر کا کیپشنچائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن اور رکن پنجاب اسمبلی صبا صادق کا کہنا ہے اختر علی کے خاندان کو انصاف ملے گا

صبا صادق کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر اختر علی کے خاندان کہ ساتھ کھڑی ہیں اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی جانب سے ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ عدالت میں بھی ان کی معاونت کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملزم کو کسی بھی طرح نکلنے کا راستہ نہ ملے۔

پاکستان میں بچوں سے مشقت کروانے کے خلاف قوانین موجود ہیں تاہم ان کا اطلاق گھروں کے اندر کام کرنے والے بچوں پر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس قسم کے تشدد اور اس سے ہونے والی اموات کے واقعات گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔

صبا صادق نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی سے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ یعنی بچوں کی حفاظت کے حوالے سے قانون میں ترامیم کا ایک بل پیش کر رکھا ہے جو کابینہ سے منظور ہو چکا ہے اور اس کو جلد اسمبلی میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔

'مجوزہ ترامیم میں بچوں سے مشقت کروانے والے والدین کے لیے بھی سزائیں تجویز کی گئیں ہی اور کچھ سزاؤں کی حد بڑھائی گئی ہے۔'

صبا صادق کا کہنا تھا کہ اختر علی کی 12 سالہ بہن عطیہ جو خود بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنتی رہی اس کی تعلیم اور دیگر اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔

صبا صادق کے مطابق بچی اپنے والدین کی ساتھ رہنا چاہتی ہے تاہم اس کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے اٹھانے کی حامی بھری ہے۔