کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ اسلام آباد سے بازیاب

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق دس سالہ طیبہ کے والدین ہونے کے دعویداروں کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیا جائے گا

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی ایک کمسن گھریلو ملازمہ کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سے بازیاب کرا لیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے مضافاتی علاقے برما ٹاؤن سے طیبہ کو بازیاب کرایا اور انھیں پیر کو میڈیکل رپورٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کیپٹن الیاس کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد کے حوالے سے ان کی تفتیش مکمل ہوچکی ہے تاہم اگر متاثرہ لڑکی مزید کوئی بیان دینا چاہے تو اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق دس سالہ طیبہ کے والدین ہونے کے دعویداروں کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کے اصل والدین کون ہیں۔

اس حوالے سے حتمی رپورٹ 11 جنوری کو سپریم کورٹ میں ہونے والی آئندہ سماعت میں پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پولیس کی خصوصی ٹیم طیبہ کو لینے کے لیے فیصل آباد اور جڑانوالہ بھی گئی تھی تاہم وہ متاثرہ لڑکی اور اُن کے والدین تک پہنچنے میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر پر کام کرنے والی دس سالہ لڑکی طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد کے قریبی دیہات سے تعلق رکھنے والی طیبہ گذشتہ دو سالوں سے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کے مکان پر ملازمہ تھیں اور ان کی اہلیہ نے مبینہ طور پر اس بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کی خبر مقامی ذائع ابلاغ میں اس بچی کی تصاویر کے ساتھ نشر اور شائع کی گئی جس میں لڑکی کے چہرے پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔