لاہور دھماکے پر پنجاب میں سوگ، تحقیقات جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیر کی شب ہونے والے دھماکے کے بعد منگل کو صوبے بھر میں حکومتی سطح پر ایک دن کا سوگ منایا جا رہا ہے۔
دھماکے کی تحقیقاتی ٹیم نے منگل کو جائے وقوع کا دورہ کر کے مزید شواہد بھی اکھٹے کیے ہیں۔
پیر کی شب چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والے سات پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ منگل کو بیدیاں روڈ کے پولیس سینٹر میں ادا کی گئی جس میں کورکمانڈر لاہور، گورنر پنجاب اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
منگل کو سوگ میں لاہور کی تمام سرکاری عمارتوں کے پرچم سرنگوں اور دکانیں بند رہیں ـ مال روڈ کے تاجران اور لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی یوم سوگ کا اعلان کیا البتہ شہر کے تمام سکول کھلے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن بھی لاہور دھماکے کے خلاف آج یومِ سوگ منا رہی ہے۔

پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کےمطابق آج پورے ملک میں ہڑتال کی جائے گی۔
بیان کے مطابق پورے ملک میں فارما اور آلٹرنیٹ بزنس کے مینو فیکچر، ریٹیلر، ہول سیلر اور ڈسٹری بیوشن کے ہر سطح پر دفاتر بند رہیں گے۔
بیان کے مطابق پنجاب ڈرگ ترامیم واپس ہونے تک حکومت سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

پنجابِ کے آئی جی مشتاق سکھیرا نے پیر کی شب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ پیر کی شام چھ بج کر دس منٹ پر ہوا اور ہلاک ہونے والے 13 افراد میں سے سات سکیورٹی اہلکار تھے۔
آئی جی مشتاق سکھیرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈی آئی جی کے گن مین نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔
پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے اور اس نے پیدل حملہ کیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔
پولیس کے مطابق اس دھماکے میں چھ سے آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا۔
پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں 70 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج گنگا رام، میو، جناح اور سروسز ہسپتال میں جاری ہے۔
زخمیوں میں سے سات کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
پیر کی شب ڈی جی رینجرز سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا اور دھماکے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا جبکہ فارینزک ڈپارٹمنٹ نے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان سے الگ ہونے والے شدت پسند دھڑے جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سات فروری کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے خطرے کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا تھا اور حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
نیکٹا کی جانب سے یہ مراسلہ سیکریٹری داخلہ پنجاب، صوبائی پولیس آفیسر (پی پی او) اور ڈی جی پاکستان رینجرز پنجاب کو بھیجا گیا تھا۔
اس مراسلے میں ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ لاہور میں تمام اہم تنصیبات، ہسپتالوں اور سکولوں کی سخت نگرانی کی جائے۔
یہ لاہور میں گذشتہ برس مارچ میں گلشنِ اقبال پارک میں ہونے والے دھماکے کے بعد شدت پسندی کی سب سے بڑی واردات ہے۔ 27 مارچ 2016 کو ہونے والے حملے میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے۔










