مردم شماری پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شیراز حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے آئندہ سال مردم شماری کروانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے انھوں نے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے اور اس کی بنیاد پر وسائل کی منصفانہ تقسیم کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا شوکت علی یوسفزئی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'جب تک مردم شماری نہیں ہوگی وسائل کی تقسیم درست طریقے سے نہیں ہوسکتی اور یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا۔'
خیال رہے کہ حکومت نے نو سال کی تاخیر کے بعد ملک میں مردم شماری آئندہ برس 15 مارچ سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل ملک میں پانچویں مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ اس میں ضرور فوج شامل ہو اور اگر فوج زیادہ تعداد میں نہیں آسکتی تو کم از کم فوج اس عمل کی نگرانی تو کر سکتی ہے۔‘
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے بھی مردم شماری کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'ہماری خواہش یہ ہے کہ پچھلی خانہ شماری میں جو مسائل اور بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئی تھیں وہ نہ ہوں۔ '
ان کا کہنا تھا کہ 'خواہش ہے کہ سنہ 1998 کی مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہونے کے باوجود اہلیان کراچی اور شہری سندھ کا یہ جائز شکوہ تھا کہ ہمیں کم گنا گیا ہے کیونکہ نفوس کو گننے کے بعد قومی مالیاتی کمیشن کے وسائل تقسیم اور حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔'
فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مردم شماری کے بعد نشستوں میں اضافہ ہوگا، وسائل میں زیادہ حصہ ملے گا۔ اس کی بنیاد پر شہری سندھ کی نہ صرف ایک سیاسی آواز مستحکم ہوگی اور تعمیروترقی کے لیے وسائل ملیں گے بلکہ شہریوں کی زندگی بحیثیت مجموعی بھی بہتر ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پیپلزپارٹی نے ایک سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کی ہے۔ جس میں ایک کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جو مردم شماری کے قانون، اس کے ڈھانچے اور طریقہ کار کو دیکھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ان کے تحفظات یہ پیں کہ ممبران، بورڈ، فنکشنل ممبران تمام وفاقی حکومت تعینات کرتی ہے اور اس میں صوبائی حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
'ہمارے صوبے میں مردم شماری ہونی ہے تو ہمارے بھی ممبران شامل ہونے چاہییں۔ اور ان کی غیرموجودگی سارے ڈھانچے میں ایک بہت بڑی خامی ہے۔ '
ان کا مزید کہنا تھا کہ شماریات ڈویژن جس کے ذریعے مردم شماری کروائی جاتی ہے اس کو خودمختار ادارہ بنایا جائے اور آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ اس میں شفافیت اور خودمختاری ہو اور سیاسی اثرورسوخ نہ ہو۔
پنجاب حکومت کے ترجمان اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما زعیم قادری نے مردم شماری کروانے میں تاخیر کے حوالے سے کہنا ہے کہ 'پہلے دن سے ہی حکومت کو کبھی دھرنے اور کبھی حکومت کو کام سے روکنے کے طریقے استعمال کیے گئے۔ اگر حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو پھر ہمیں اس کا جواب دہ ہونا پڑنا تھا۔'
'یہ ایک قومی معاملہ ہے اور اگر اس میں کسی قسم کے ہیر پھیر کی کوشش کی گئی تو یہ وفاق اور صوبوں دونوں کے لیے زہرقاتل ثابت ہوگی لہذا امید ہے کہ یہ عمل شفاف انداز میں پورا کیا جائے گا۔'
ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے عمل میں وفاقی حکومت کے تمام احکامات پر عمل درآمد کیا جائے گا اور جو بھی ٹائم لائن دی جائے اس کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے صوبوں میں وسائل کی تقسیم اور مسائل و ضروریات کے بارے میں اعدادوشمار حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
'صوبوں میں پانی کی تقسیم، ٹیکس کا حصول، بیروزگاری، بجلی اور رہائش جیسے مسائل کے اعدادوشمار کے بغیر ان کا حل پیش کرنا ممکن نہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAP
بلوچ تحفظات
پختونخواملی عوامی پارٹی کے عثمان خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان بنیادی مسئلہ مردم شماری ہے اور حالیہ حکومتی اعلان خوش آئند ہے تاہم یہ صاف شفاف اور حقیقی ہونی چاہیے۔
انھوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت مردم شماری میں بدنیتی سے کام لینا چاہتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ پشتون مسئلہ اسی مردم شماری کی وجہ سے ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ قیام پاکستان سے قبل بلوچستان میں پشتونوں اور بلوچوں کی آبادی برابر تھی۔ سنہ 1972 کی مردم شماری میں بلوچوں کی تعداد پشتونوں سے زیادہ ظاہر کی گئی تھی۔ 'شفاف مردم شماری ہو تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تقریبا تین لاکھ افغان پناہ گزیں ہیں اور اس مردم شماری میں کسی بھی غیرملکی کو پاکستانی شہری کے طور پر درج نہیں کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان نینشل پارٹی (مینگل) کے سینیٹر جانزیب جمالدینی کا کہنا تھا تقریبا 40 لاکھ افغان پناہ گزیں ملک کے طول و عرض میں پاکستانی معاشرے میں پیوست ہوچکے ہیں جن کی 40 سال گزر جانے کے بعد شناخت نہیں کی جاسکتی اور بعض سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ انھیں بھی پاکستانی شہری کے طور پر رجسٹرڈ کروایا جائے جس سے ڈیموگرافک تبدیلی کے امکانات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بلوچوں کا اقلیت میں بدلنے کی ایک کوشش ہوگی۔'
جہانزیب جمالدینی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مخلتف علاقوں میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بلوچ آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ ڈیرہ بگٹی، آواران اور مکران کے بعض علاقوں سے لوگ دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں مردم شماری کا کام کرنے والے سرکاری عملے کو بھی تحفظات ہیں۔
جہازیب جمالدینی کا کہنا تھا کہ صوبے میں شورش کے خاتمے، بلوچوں کی دوبارہ آبادکاری اور افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے بغیر بلوچستان میں شفاف مردم شماری کرانا ناممکن ہے۔







