آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے چار دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

جنرل قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنفوج کی کمان سنھبالنے کے بعد جنرل قمر باجودہ نے پہلی بار مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجودہ نے چار دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

سزا پانے والے مجرمان ایس پی چوہدری اسلم سمیت 58 افراد کے قتل اور ایس ایس پی فاروق خان سمیت 226 افراد کو زخمی کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایس پی چوہدری اسلم سمیت بے گناہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے والے چار خطرناک مجرموں کی سزائے موت کے وارنٹ پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

ان دہشت گردوں نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سی آئی ڈی بلڈنگ کراچی، آئی ایس آئی آفس سکھر اور قانون نافذ کرنے والے متعدد اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ان مجرموں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ فوج کی کمان سنھبالنے کے بعد جنرل قمر باجودہ نے پہلی بار مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے۔

نو فروری سنہ 2014 کو پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہونے والے ایک حملے میں سی آئی ڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چوہدری اسلم سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

پشاور سکول حملے کے بعد حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 11 فوجی عدالتیں قائم کی تھیں۔ اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ان عدالتوں کی مدت آئندہ برس جنوری میں ختم ہو رہی ہے۔