دنیا میں سزائے موت میں اضافہ: ایمنیسٹی انٹرنیشنل

اینمیسٹی نے اپنی رپورٹ میں 22 ممالک میں سزائے موت کے حوالے سے اعدادوشمار اکھٹے کیے ہیں
،تصویر کا کیپشناینمیسٹی نے اپنی رپورٹ میں 22 ممالک میں سزائے موت کے حوالے سے اعدادوشمار اکھٹے کیے ہیں

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے سن 2014 کے دوران دنیا بھر میں سزائے موت کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان رواں برس اب تک سزائے موت پر عملدرآمد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اب تک پاکستان میں 60 سےزائد قیدیوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر کے چند ملک اسے اپنی سکیورٹی کو درپیش حقیقی یا ادراکی‘ خطرات کی وجہ سے سزائے موت کا استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2014 میں سزائے موت سنائے جانے میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ اعدادوشمار کے مطابق 55 ممالک میں 2446 افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2014 کی نسبت 500 زائد قیدیوں کو سزائے موت سنائی گئی۔ اس تعداد میں اضافہ چین اور نائجیریا میں ہونے والی سزاؤں کی وجہ سے ہوا۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ موت کی 607 سزاؤں پر عملدرآمد ہوا جو کہ 2013 سے 22 فیصد کم ہے لیکن اس میں چین میں دی جانے والی سزاؤں کی تعداد شامل نہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ چین میں پوری دنیا کی نسبت سب سے زیادہ موت کی سزا دی جاتی ہے تاہم اس کی تعداد کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

2013 کی طرح 2014 میں بھی 22 ممالک میں موت کی سزا کا ریکارڈ چیک کیا گیا۔

سزائے موت

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ چین کے علاوہ دیگر دنیا میں موت کی سزا دیے جانے کی تعداد کچھ یوں رہی۔

  • ایران میں 289 افراد کو پھانسی دیے جانے کی سرکاری طور پر تصدیق ہوئی جبکہ 454 پھانسیوں کے بارے میں حکام نے کوئی تصدیق نہیں کی۔
  • سعودی عرب میں کم ازکم 90 افراد کی موت کی سزا پر عملدرآمد ہوا۔
  • عراق میں 61 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد ہوا۔
  • امریکہ میں 35 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مصر میں 509 افراد کو گذشتہ دو سال کے دوران موت کی سزا سنائی گئی صرف دسمبر کے مہینے میں سزا 188 افراد کو 11 پولیس افسروں کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

نائجیریا میں 2014 میں 2013 کے مقابلے میں 500 زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی۔ گذشتہ سال 659 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں فوجی عدالتوں کی جانب سے بہت سے سپاہیوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ان سپاہیوں پر فوج کی جانب سے بوکو حرام نامی شدت پسند گروہ کے خلاف جنگ میں بغاوت کے مقدمات تھے۔

اس رپورٹ میں پاکستان کا تذکرہ بھی ہے جہاں دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد ملک میں سات سال سے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد عارضی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔

دیگر ممالک جہاں سزائے موت پر عملدرآمد بحال کیا گیا ان میں اردن، سنگا پور، مصر، بیلہ روس اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ گنی بھی شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے اختتام پر دنیا بھر میں 19000 افراد ایسے تھے جنھیں سزائے موت دی گئی تھی۔