گیارہ شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گیارہ شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائے موت کی توثیق کی ہے۔ جن گیارہ شدت پسندوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ان سب کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔
* <link type="page"><caption> ’پانچ سالوں میں پانچ سو سےزیادہ رحم کی اپیلیں مسترد ‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160415_senate_session_hangings_appeals_zh" platform="highweb"/></link>
ان مجرموں کو ملک بھر میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ مجرمان فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاوں کے علاوہ پاکستانی فوج کے میجر عابد مجید کے قتل میں بھی ملوث تھے۔
اس کے علاوہ یہ مجرمان فرقہ واریت پھیلانے اور ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں اور انھیں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔
جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں ضیا الحق ، فضل ربی، محمد شبیر، عمر دراز، لطف الرحمن، محمد عادل، اسرار احمد، عبدالحمید، حضت علی، میاں سید اعظم اور قیصر خان شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مجرمان بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد فیاض کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے انسپکٹر کے قتل کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔
اس کے علاوہ یہ مجرمان عام شہریوں پر حملہ کرنےاور اُنھیں اغوا کرنے کے بعد ان کے گلے کاٹے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان مجرمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے اس کے علاوہ عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران مجرموں نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے مجرموں کے ورثا الزام عائد کرتے ہیں کہ اُنھیں ان مقدمات کے بارے میں اُس وقت معلوم ہوتا ہے جب فوجی اہلکاروں کی طرف سے اُنھیں ٹیلی فون کرکے اطلاع دی جاتی ہے کہ اُن کے عزیز کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔







