پشاور میں انسداد پولیو ٹیم کے محافظ پولیس اہلکاروں پر بم حملہ، ایک ہلاک

پولیو مہم

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیشاور کے بہت سے علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے مہم جاری ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کی نگرانی کے لیے موجود پولیس اہلکاروں پر ہونے والے بم حملے میں ایک اہلکارہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ منگل کی صبح پشاور شہر کے مضافاتی علاقے داؤدزئی میں ہوا۔

پشاور کے مضافاتی علاقوں کے ایس پی فرقان بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پولیو مہم کی نگرانی کے لیے پولیس اہلکاروں نے ناکہ لگایا ہوا تھا کہ اس دوران سڑک کے قریب ایک نالے میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ان پر حملہ کیا گیا۔'

انھوں نے کہا کہ حملے میں ایک اہلکار موقع ہی پر ہلاک ہوگیا جبکہ ایک زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ولیس افسر کے مطابق نالے میں ایک دوسرا بم بھی نصب کیا گیا تھا تاہم اس کا علم ہونے پر بم ڈسپوزل سکواڈ نے اسے ناکارہ بنادیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پشاور سمیت صوبے میں پولیو کے خطرے کا شکار 13 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

مہم کی کامیابی کے لیے اکثر اوقات حساس علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ پشاور اور آس پاس کے اضلاع میں گذشتہ کچھ عرصہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ہدف بناکر قتل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

پیر کو چارسدہ میں سپیشل برانچ کے ایک سب انسپکٹر کو گھر کے سامنے مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار نے قبول کرلی تھی۔