BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 06:33 GMT 11:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوریڈا میں فیصلہ کن معرکہ متوقع
فلوریڈا انتخابی مہم
فلوریڈا میں ایک مرتبہ پھر سخت انتخابی معرکہ متوقع ہے

امریکہ کے صدارتی انتخابات سے ایک دن قبل ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ریاست فلوریڈا کا دورہ کر رہے ہیں جو ایک مرتبہ پھر انتخابی معرکے میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ اپنی انتخابی مہم کے آخر دن ان تین ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں جن میں گزشتہ انتخابات میں صدر جارج بش نے کامیابی حاصل کی تھی۔

جبکہ ریپبلیکن امیدوار جان مکین ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سات ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار سارا پیلن کئی دوسری ریاستوں میں جا رہی ہیں۔

بیشتر امریکی اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق ان انتخابات میں بھی ریاست فلوریڈا فیصلہ کن اور تاریخی کردار ادا کرے گی۔

بہت سے اخبارات نے یہ شہ سرخی لگائی تھی کہ فلوریڈا کےرہنے والے ہی صدر کا فیصلہ کریں گے۔

امریکہ میں سن شائن سٹیٹ کے نام سے مشہور اس ریاست میں صدر کے انتخابی حلقے کے ستائیس ووٹ ہیں۔ روایتی طور پر یہ ریپبلیکن پارٹی کے زیر اثر رہی ہے اور آٹھ سال قبل انتہائی شدید معرکے میں بھی یہاں ریپبلیکن ہی کامیاب ہوئےتھے۔

فلوریڈا کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جنہیں ’بیٹل گراؤنڈ‘ سٹیٹس کا نام دیا جاتا ہے یعنی کہ وہ ریاستیں جن کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں سے کون کامیابی حاصل کرے گا۔

باراک اوبامہ نے اس ریاست میں بہت زور لگایا ہے۔ جس وقت اس ریاست میں ٹی وی چینلوں پر جان مکین کا پہلا اشتہار چلا تھا اس وقت تک باراک اوبامہ اس طرح کے اشتہارات پر نوے لاکھ ڈالر خرچ کر چکے تھے۔

باراک اوبامہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق آخری وقت تک اپنے مدمقابل پر برتری قائم رکھے ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق انتخابی مہم کے آخری مرحلے پر ان کا فلوریڈا، نارتھ کیرولائنا اور ورجنیا کا دورہ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنی جیت کے بارے میں پراعتماد ہیں۔ یہ تینوں ریاستیں ایسی ہیں جہاں سے ماضی میں ریپبلیکن پارٹی کامیابی حاصل کرتی رہی ہے اور ان ریاستوں کو ان کے لیے دشمن کی سرزمین قرار دیا جاتا ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین جو کہ فوج کے تربیت یافتہ ہیں اور آخری دم تک لڑ نا جانتے ہیں انتخابی مہم کے آخری چوبیس گھنٹوں میں سات ریاستوں میں جا رہے ہیں۔

باراک اوبامہ کی مہم کے آخری مرحلے پر اجتماعات میں لوگ بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔

اوباما کی مہم چلانے والوں نے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں رضاکاروں کا تیار کیا ہے جو پولنگ پر کڑی نظر رکھیں گے۔

ورجینیا ایک ایسی ریاست ہے جہاں انیس سو اڑسٹھ سے ڈیموکریٹ پارٹی نے کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ اس مرتبہ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ ناکامیوں کے طویل سلسلے کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہاں پر دونوں امیدوار کے درمیان بہت سخت مقابلہ ہے۔ صدر کے حلقے انتخاب میں ورجینیا کے تیرہ ووٹ ہیں۔

اگر باراک اوباما یہاں سے کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کا صدر منتخب ہو جانا تقریباً یقینی ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
مختلف مسائل، مختلف رائے
28 October, 2008 | آس پاس
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد