القاعدہ: سات افراد کو لمبی سزائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور امریکہ میں ہزاروں لوگوں کے قتل عام کی سازش کا مرتکب پائے جانے پر القاعدہ کے ایک ’سلیپر سیل‘ سے منسلک سات افراد کو لمبی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان لوگوں پر سن 2004 میں القاعدہ کی ایک سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ اس سازش کے اصل ملزم دھیرن باروٹ کو پہلے ہی عمر قید کی سزا دی جاچکی ہے۔ سزا پانے والے سات میں سے چھ افراد نے دھماکوں کی سازش تیار کرنے کا اعتراف کر لیا تھا۔ ان کے زیادہ تر اہداف برطانیہ میں ہی تھے۔ ساتویں ملزم قیصر شفی کو قتل کی سازش کا مجرم پایا گیا۔
استغاثہ کے مطابق باروٹ نے کئی بم دھماکوں کی سازش تیار کی تھی۔ ان میں ایک کار بم کے علاوہ ’ڈرٹی بم‘ (بہت کم شدت کا جوہری بم) اور دریائے ٹیمز کے نیچے زیر زمین چلنے والی ٹرین کو اڑانے کے منصوبے بھی شامل تھے جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر ڈوب کر ہلاک ہوسکتے تھے۔
استغاثہ کے مطابق باروٹ نے پاکستان میں موجود القاعدہ کے رہنماؤں کو تفصیلی منصوبے بھیجے تھے جن میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان دھماکوں سے ان کے مقاصد کو کیا فائدہ ہوگا۔ جمعرات کو جن لوگوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں، انہیں اس منصوبے میں کوریر اور ڈرائیور جیسے کردار ادا کرنے تھے۔ شمالی لندن کے محمد حمید بھٹی ، بلیک برن کے جنید فیروز، ویمبلی کے ضیاء الحق، لوٹن کے عبدالعزیز، بشی کے عبدالرحیم ، ویمبلی کے ندیم محمد اور ولزڈن کے قیصر شفی کو پندرہ سے لیکر ستائیس سال تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ |
اسی بارے میں برطانیہ: خارجہ پالیسی اور شدت پسندی21 August, 2006 | آس پاس برطانیہ: پانچ پر دہشتگردی کا الزام09 February, 2007 | آس پاس گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی05 April, 2007 | آس پاس ’قبائیلوں کو فوج کی مدد حاصل تھی‘12 April, 2007 | پاکستان دہشت گردی پر علماء کانفرنس18 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||