BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 November, 2006, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گردوں‘ سے تعلق کا شبہ
چارلس ڈیگال ائیرپورٹ
ائیرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ فارغ کیئے گئے کارکنوں میں سے کچھ نے کئی دفعہ پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا۔
پیرس کے چارلس ڈیگال ائیر پورٹ پر کام کرنے والے مسلمان کارکنوں میں سے ستر سے زائد کو اس شک کی بنیاد پر اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے کہ ان کا ’دہشت گرد‘ تنظیموں سے تعلق ہو سکتا ہے۔

جن مسلمان کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے ان میں مسافروں کا سامان سنبھالنے والے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی حکام کا خیال ہے کہ یہ کارکن افغانستان اور پاکستان میں ’دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں‘ میں جاتے رہے ہیں۔

عملے کے جن ارکان کو ملازمت سے نکالا گیا ہے ان میں سے ایک کے بارے کہا جارہا کہ وہ جان ریڈ کا دوست ہے۔ برطانوی شہری جان ریڈ کو سال دو ہزار ایک میں پیرس سے امریکہ جانے والے ایک ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سال کے آغاز میں حکام نے چارلس ڈیگال ائیرپورٹ پر کام کرنے والے تمام عملے کی حفاظتی نقطہ نگاہ سے ازسِرنو جانچ پڑتال کی تھی اور درجنوں مسلمان کارکنوں سے باقاعدہ پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

حکام پچھلے کئی ماہ سے صفائی اور سامان کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے سو سے زائد ارکان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور بعد میں ان میں سے بہتر کو بتایا گیا کہ ان کے لیئے ائیرپورٹ کے حساس حصوں تک جانے کی اجازت منسوخ کردی گئی ہے۔

ائیرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں میں سے کچھ نے پچھلے سال کئی دفعہ پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کارکنوں میں سے ایک کا الجزائر کے ایک مبینہ دہشت گرد گروہ کے ایک سینئر رکن سے قریبی تعلق ہے۔

ملازمت سے فارغ کیئے گئے کارکنوں میں سے کچھ ائیرپورٹ حکام کے خلاف عدالت میں جا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

تاہم تقریباً درجن بھر ایسے مسلمان کارکن بھی ہیں جنہیں ’سیکورٹی رسک‘ تو قرار دیا گیا ہے لیکن ائیرپورٹ کے حساس حصوں تک ان کی پہنچ کو ابھی تک محدود نہیں کیا گیا، کیونکہ فرانسیسی قوانین کے مطابق معطل کرنے سے پہلے انہیں اپنے دفاع کا موقع ملنا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد