بحرہند: زلزلے، طوفان، چودہ ہزار ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی لہروں سے اب تک چودہ ہزار سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہزاوں لوگ ابھی تک لا پتہ ہیں۔ چالیس سالوں میں سب سے زیادہ شدید زلزلے سے سری لنکا میں ساڑھے چار ہزار لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سری لنکا کی وزیر اعظم چندریکا کمارا تنگا نے کہا کہ ان کے ملک کی تاریخ میں کھبی بھی اتنی تباہی نہیں ہوئی ہے۔ انڈونیشیا میں سمندری زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار چار بتائی گئی ہے۔ اسی طرح بھارت میں بھی مرنے والوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ مزید بڑ جائے گی۔ مالدیپ کے کئی جزیرے جو سطح سمندر سے چند فٹ کی بلندی پر تھے، اس سمندری طغیانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔ امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔ اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے ساحلی علاقے جو بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گیا، نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس امداد کاموں میں بھرپور مدد کرئے گا۔ تامل ناڈو کا دارالحکومت چنئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چنئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق گزشتہ کم از کم چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا یہ شدید ترین زلزلہ ہے جو ریکٹر سکیل کے مطابق 8.9 بتایا گیا ہے۔ اس شدید زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے قریبی جزیرہ سوماٹرا کو بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سوماٹرا سے کسی قسم کی تفصیل موصول نہیں ہو پائی ہے کیونکہ بظاہر وہاں مواصلات اور آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت بندہ آچہ ہی میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ البتہ حکام کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ اس کے علاوہ تھائی لینڈ، ملیشیا اور برما سے بھی تین سو ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں متاثرین کو جلد از جلد امداد پہنچانے کی اپیل کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔ پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گوہ ہیں۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||