’جھوٹ‘ کی سحرکاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج رات یا پھر کل کسی وقت تک دنیا پر واضح ہو چکا ہوگا کہ امریکی ووٹروں کی نگاہ میں جارج بش زیادہ معتبر ہیں یا جان کیری۔ لیکن انتخابات سے محض چوبیس گھنٹے پہلے تک رائے عامہ کے جائزے یہی بتا رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ ہے حالانکہ صدر بش کو عراق کے خلاف جنگ لڑنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور عموماً جنگ جیتنے والا حکمران ووٹوں کی جنگ ہار جاتا ہے۔ تو کیا امریکہ میں ووٹروں کا دونوں صدارتی امیدواروں کے ساتھ مساویانہ حمایت کا سلوک یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام عراق پر یلغار کے حامی تھے اور ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ لوگ دنیا میں کہیں بھی ہوں اپنی معاشرت اور ثقافت کے رنگوں میں ڈھلنے کے باوجود عام طور پر ایک ہی طرح سوچا کرتے ہیں اور ان کے جذبات بھی ایک سے ہُوا کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب دنیا میں لوگوں کی اکثریت جنگ کی مخالف ہے تو امریکہ میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بش کے حامیوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہے جتنی ان کے مخالفوں کی۔ آخر کیوں لوگوں نے ’جنگی حکمراں‘ جارج بش کی واضح مخالفت نہیں کی؟ غالباً امریکہ میں بھی وہی ہُوا ہے جو آسٹریلیا میں ہُوا۔ یعنی حکمراں جماعت کے رہنما اور ان کے مدِ مقابل دونوں ہی کی خارجہ پالیسی ایک سی تھی۔ آسٹریلیا میں جان ہاروڈ کے مقابلے میں لیبر پارٹی کے رہنما بھی جنگ کے حامی تھے اور انتخابی مہم کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کے خلاف کوئی قابلِ ذکر انتخابی اندازِ حرب اختیار نہیں کیا۔ لہذا عراق پر یلغار کا صحیح یا غلط ہونا انتخابی مہم کا موضوع ہی نہیں بن سکا۔ امریکہ میں بھی لوگ عراق کے خلاف یلغار کے مخالف تھے لیکن صدر بش کی جماعت نے ایسی کمال ترکیبیں استعمال کیں کہ ان کی مقبولیت کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئی۔ امریکیوں کو یقین دلایا گیا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ درجنوں مرتبہ (غلط یا صحیح) مزید حملوں کا کہہ کرعوام کو ڈرایا گیا۔ سیکورٹی مضبوط کی گئی، لاتعداد پروازوں کو منسوخ کیا گیا۔ لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی رہی، سکیورٹی کے نام پر وہ کچھ ہوا جو پہلے نہیں ہوتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو یقین ہوگیا کہ ان پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں اور بش انتظامیہ ان کی حفاظت پر مامور ہے۔ ظاہر ہے لوگ زندہ رہیں گے تو سیاسی باتوں کی طرف دھیان دیں گے۔ ان کی اولین ترجیح زندہ رہنا بن گئی ناکہ یہ کہ عراق پر مسلط کی جانے والی جنگ غلط ہے یا صحیح۔ امریکی عوام سے کہا گیا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا تعلق عراق سے ہے۔ انہیں یقین کرنے پر مجبور کیا گیا کہ صدام حسین اور القاعدہ میں روابط ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں جو امریکہ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ابتدا میں لوگوں نے اس جنگ کی مخالف کی۔ لیکن صدر بش کے مقابلے پر ان کی مخالف جماعت یعنی ڈیموکریٹ پارٹی کم و بیش جنگ کی حامی ثابت ہوئی۔ عوام کے جذبات دیکھ کر جان کیری ہی کی جماعت کے ہارورڈ ڈین کو سیاسی مفاد کے لیے آگے لایا گیا (اور ڈین خود ڈیموکریٹ پارٹی میں جنگ کے سب سے بڑے مخالف تھے) اس وقت جب جان کیری نامزدگی کی دوڑ میں بہت پیچھے تھے۔ لوگ ان کے ساتھ ہوگئے تو رفتہ رفتہ ان پر میڈیا کے حملے ہوئے اور جان کیری کو بہتر امیدوار قرار دیا گیا۔ ڈین قصۂ پارینہ بن گئے اور کیری آگے نکل آئے۔ کیری نے اول اول جنگ کے خلاف کچھ کچھ باتیں کیں لیکن بہت عرصے تک ان کی انتخابی مہم میں جان نہ پڑ سکی۔ گزشتہ دو تین ماہ کے دوران انہوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے وہی کہا جو صدر بش کہتے رہے ہیں۔ صدارتی مباحثے میں انہوں نے صدر بش پر جھوٹ بولنے اور فیصلے میں غلطی کے الزامات بھی لگائے لیکن کسی بھی موقع پر عراق جنگ کی مخالفت نہیں کی۔ جان کیری کا موقف یہ تھا کہ ان کے پاس جنگ جیتنے کی بہتر حکمتِ عملی ہے۔ انہوں نے بھی عراقی مزاحمت کو وہی کہا جو صدر بش کہتے ہیں یعنی دہشت گردی۔انہوں نے عراق جنگ کو غلطی بھی قرار دیا لیکن جب مباحثے کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا عراق میں امریکی فوجی ’صدر بش کی غلطی‘ کی وجہ سے مر رہے ہیں تو کیری کا جواب تھا کہ نہیں۔ کیری نے پیٹریاٹ ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اس قرارداد کے بھی حق میں تھے جس میں صدر بش کو عراق پر حملے کا اختیار دیا گیا تھا۔ لہذا جان کیری صدر بش کی واضح مخالفت کر ہی نہیں سکتے تھے کہ دونوں کی خارجہ پالیسی ایک تھی۔ امریکہ کی اندرونی پالیسی کے حوالے سے دونوں میں کچھ فرق رہا اور وہ یہ کہ صدر بش اسقاطِ حمل اور ہم جنس پرستوں کی شادی اور stem cell کی تحقیق کے مخالف جبکہ کیری حامی تھے۔ اسی وجہ سے ’دائیں بازو‘ والے یا مسیحی بنیاد پرستوں کو صدر بش زیادہ پسند ہیں۔ امریکہ میں عراق کے خلاف جنگ کا قانونی یا غیرقانونی ہونا اور صحیح یا غلط ہونا کسی بھی موقع پر انتخابی مہم کا اہم حصہ بن ہی نہیں سکا۔ڈیموکریٹ پارٹی نے عراق کا مسئلہ ریفرنڈم بنانے سے احتراز کیا۔ امریکہ میں ایک اور بات یہ ہوئی کہ جنگ مخالف جذبات کو غلط بیانیوں کے جادو سے جستہ جستہ اور خوبصورتی سے دبایا گیا اور ووٹروں سے یہ کہنے کی بجائے کہ وہ بتائیں کہ عراق پر یلغار صحیح تھی یا غلط یہ پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی بہتر حفاظت کون کر سکتا ہے اور کون بہتر طور پر جنگ جیت سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں صدارتی امیدوار جنگ کے حامی تھے اس لیے ووٹروں کو یہ فیصلہ کرنا ہی نہیں تھا کہ جنگ غلط ہے یا نہیں، نہ کوئی انہیں یہ کہنے والا تھا کہ جنگ کے لیے صدر بش نے جو جواز فراہم کیے تھے وہ غلط نکلے ہیں اور یہ جنگ غیر قانونی ہے۔ آج لوگوں کے سامنے دو امیدوار ہیں اور انہیں صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بہتر انداز میں جنگ جان کیری لڑ سکتے ہیں یا جارج بش۔ شاید اسی لیے جارج بش نے اپنی انتخابی مہم ختم کرتے وقت لوگوں سے یہ کہا تھا کہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ جان کیری پر اعتبار کرتے ہیں یا جارج بش پر۔ کہتے ہیں جھوٹ میں کشش زیادہ ہوتی ہے۔ امریکی ووٹروں کے سامنے یہ سوال نہیں کہ جار بش بہتر ہیں یا جان کیری بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ لوگ غلط بیانی کے سحر میں کس حد تک مبتلا ہیں۔ اگر دو نومبر کو امریکی آسمانوں سے اترنے والی رات نے غلط بیانی کا یہ طلسم توڑ دیا تو شاید لوگ واضح انداز میں جارج بش پر اپنا غصہ نکالیں لیکن اگر یہ طلسم نہ ٹوٹا تو سحر کا سورج جارج بش کو سلامی دیتا ہوا نمودار ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||