BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے، آسان باش!

صدر مشرف کو اعتماد کا ووٹ مل گیا

اقبال نے کبھی کہا تھا

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لئے------!

کہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف

اقبال کے زمانے میں فقیہانِ شہر کا یک زبان ہونا غالباً اتنی بڑی بات ہو گی کہ انہوں نے مومنوں کو اس بات کی مبارکباد دی کہ ’میرے خلاف ہی سہی، فقیہانِ شہر اکٹھے بھی ہو گئے ہیں اور یک زباں بھی ہیں۔‘

مجھے نہیں معلوم کہ اگر آج حضرتِ علامہ مملکتِ خدادادِ پاکستان کے سیاسی اور مذہبی فقیہان کو دیکھتے تو اپنے جذبوں کو موزوں لفظوں میں کس طرح ڈھالتے؟

شاید آج بھی وہ مبارکباد ہی پیش کرتے کہ پاکستان کے سیاسی مصلحین اور مذہبی مبلغوں نے کہ جن کی زبان جنرل مشرف کو غدار تک کہنے سے بھی نہیں چُوکی تھی، یک زبان ہو کر ملک کا صدر منتخب کروا دیا۔

چلیں

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

سترہویں ترمیم پر لے دے کے بعد اتفاق ہوا اور جنرل صاحب کو صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ پارلیمان کے زیریں اور بالا دونوں ہی ایوانوں سے اعتماد کا ووٹ مل گیا۔

اے آر ڈی والے بے نواؤں نے تھوڑا بہت شور و غل کیا مگر مجلسِ عمل کے رہنماؤں نے اس ’لہو و لعب‘ سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش رہ کر بھی وہ بات کہہ ہی دی کہ جو عرصۂ دراز تک جنرل مشرف کے کانوں میں رس گھولتی رہے گی۔

لوگ کہیں گے کہ مجلسِ عمل نے دو صوبوں میں اپنی حکومتیں بچانے اور عدالتِ عظمٰی سے اپنی اسناد کے خلاف فیصلہ رکوانے کے لئے جنرل صاحب کو اپنا سب کچھ مان لیا ہے۔

لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔ بھلا مجلسِ عمل کے اکابرین کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی کیا پروا؟ اور پھر حق و باطل کا امتیاز جن کی طبیعتِ ثانیہ بن چکا ہو انہیں کوئی اس طرح کا طعنہ کیسے دے سکتا ہے؟ نیکی اور بدی یا خیر و شر اکابرینِ مجلس کو سمجھانا گویا سورج کو چراغ دکھانا ہی ہے۔

یقیناً جنرل صاحب اس قابل ہوں گے کہ اعتماد (کے ووٹ) کے وقت ان کی مخالفت نہ کی جائے ورنہ مجلس کے رہنماؤں میں اتنی اخلاقی جرآت ہے کہ وہ ’شر‘ کی کسی بھی پیش قدمی کے خلاف ’سیسہ پلائی دیوار‘ بننے کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بس سمجھ میں نہ آنے والی بات محض اتنی ہے کہ وہ زبانیں جن پر خطابت نثار رہتی ہے اور جن کی کاٹ کا شہرہ ایک زمانے میں ہے، انہیں نیام میں رہنے کے لئے کسی معاہدے کی کیا ضرورت تھی؟

اگر ہمارے جنرل صاحب اعتماد کے ووٹ کے قابل نہ تھے تو اسلامی شِعار کے مطابق اس کا برملا اظہار تو عینِ ثواب تھا۔ اور اگر جنرل صاحب اعتماد کے قابل تھے تو اس حقیقت کے اعلان میں سخاوت کی بجائے بُخل کیوں اور خاموشی چہ معنی؟ مسئلہ اضداد کا نہیں تھا بلکہ نقیضین کا تھا۔ لہذٰا بیچ کی کوئی راہ اختیار نہیں کرنی تھی بلکہ دو میں سے ایک بدل کا انتخاب کرنا تھا۔

مجلس کے پاس اپنے اس عمل کے جواز بھی بے شمار ہوں گے اور تاویلیں بھی لا تعداد ہوں گی۔ ویسے بھی:

فقیہِ شہر قاروں ہے لُغت ہائے حجازی کا

حسبِ معمول اب مجلس کہے گی کہ اس کا یہ فیصلہ پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کی یہ بے چاری اصطلاح اتنی وسیع المعنی ہے کہ جس نے جب چاہا اپنے مفاد کے لئے اس کا بے دریغ استعمال کیا۔

جنرل ضیاء الحق سے پہلے کا زمانہ چھوڑیئے، گزشتہ پندرہ سال کے دوران پہلے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں بے نظیر کو اقتدار دیا گیا اور پھر واپس لے لیا گیا۔ پاکستان کے اسی وسیع تر مفاد میں پہلے نواز شریف کو منتریوں کا پردھان بنایا گیا اور بعد میں جلا وطن کر دیا گیا۔

پاکستان کے اسی وسیع تر مفاد میں مجلسِ عمل کے ایک اہم ترین بازو یعنی جماعتِ اسلامی کو آگے کر کے ’دشمن ملک‘ کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کے نہ صرف استقبال سے انکار کیا گیا بلکہ لاہور میں اُن کی ’آؤ بھگت‘ بھی کی گئی اور آج پھر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں واجپئی سے محبت کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں اور اسلام آباد میں ان کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ ہیں۔

پاکستان کے وسیع تر مفاد کی اصطلاح کی بے حرمتی کرکے ایک بار پھر اسے ہی مجلس کے تازہ ترین اقدام کا جواز بنایا جائے گا اور مجلس کی ’خاموش بیانی‘ ایک مقدس عمل بن کر تاریخ کے کسی صفحے پر رقم ہو جائے گی۔

یہ تو صرف تاریخ کی چھان پھٹک کرنے والوں کو ہی پتہ چلے سکے گا کہ فقیہانِ پاکستان ہی چہرے بدل بدل کر کبھی جنرل ضیاء کو راج کرواتے ہیں اور کبھی جنرل مشرف کے سر پر اعتماد کا تاج سجاتے ہیں۔مجلس کی دیگر جماعتوں نے اگر ایسا نہیں بھی کیا تو ایسوں کے ساتھ شریک ضرور ہو گئی ہیں۔

اقبال نے ’ابلیس کی مجلسِ شورٰی‘ میں پتہ نہیں کیوں کہا تھا

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں---------------!

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد