محبت کی دیوی، خرابی کی باتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوشش کے باوجود مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جب آسمان پر سیارے آپس میں خاص فاصلوں پر پہنچ کر خاص زاویے بناتے ہیں تو جوتشی انسانی زندگی پر ان زاویوں کا یکساں اثر ثابت کرنے کے لئے بے قرار کیوں ہو جاتے ہیں؟ آج ہی کی مثال لیجیئے۔ شمس اور زہرہ ایک خاص فاصلے پر ہیں۔ کل تک ان کے درمیان فاصلہ وہ نہیں رہے گا جو آج ہے۔ مگر علمِ نجوم کی دنیا میں آفت مچی ہوئی ہے۔ چونکہ نجوم میں ’دل کے معاملات‘ کو زہرہ سے منسوب کیا جاتا ہے لہذا ہر طرف یہی پکار ہے کہ شمس کے ساتھ ایک خاص فاصلے پر ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کے معاملات میں انقلاب برپا ہو نہ ہو اہم تبدیلیاں ضرور آئیں گی۔ کچھ نجومی ذرا اور آگے بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے فلمی صنعت میں حادثات کی پیشگوئی کر ڈالی ہے کہ زہرہ کا تعلق فلم اور فلم سے متعلق بہت سے شعبوں سے بھی ہے۔ ایک عمومی پیشگوئی یہ ہے کہ آج کی وضعِ فلکی سے عورتیں بہت متاثر ہوں گی۔ جو بات نہیں بتائی گئی وہ یہ ہے کہ عورتیں کس طرح متاثر ہوں گی؟ پھر اس وضعِ فلکی کو دیکھ کر دلوں کے ٹوٹنے کی بات بھی ہوئی ہے مگر اس کے لئے تو کسی زہرہ اور سورج کی ضرورت ہی نہیں یہ تو کسی بھی وقت بغیر کسی وجہ کے بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ کاش جیوتش ودیا کے ماہر یہ بتا دیں کہ جب آسمان پر تبدیلیاں ہوتی ہیں تو آخر وہ انسانی زندگی کے ان تمام شعبوں میں تبدیلی کی خبر کیوں نہیں دیتے جن کا تعلق ان سیاروں سے ہوتا ہے جو آسمان پر کوئی خاص وضع یا شکل بنا رہے ہوتے ہیں۔ آج کی ہی مثال پھر لیجیئے۔ کہا جا رہا ہے کہ دل کے معاملات میں تبدیلیاں ہوں گی یا فلمی صنعت میں حادثے ہوں گے۔ بات یہ ہے کہ زہرہ کا تعلق زندگی کے صرف انہی دو شعبوں سے تو نہیں ہے۔ سیاروں کے منسوبات قائم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ زائچۂ حملی سے جن جن گھروں میں سیاروں کے بروج ہیں ان ان گھروں سے مسنوب باتیں سیاروں کے نام لکھ دیں اور نجوم میں اس اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر برجِ ثور کی ملکیت کے اعتبار سے زہرہ کا تعلق مال و دولت سے بھی ہے، گلے سے بھی سے۔ لہذا آج چونکہ زہرہ کا گزر سورج کے پہلو سے ہے اور فرض کر لیا گیا ہے زہرہ نے محض خرابی دل کے معاملات میں کرنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر لوگوں کو مالی نقصان کیوں نہیں ہوگا یا پھر لوگوں کے گلے خراب کیوں نہیں ہوں گے؟ موسیقی پر بھی زہرہ کی حکمرانی ہے اب آج کی وضع سے کیا آلاتِ موسیقی ٹوٹ جائیں گے یا پھر موسیقار دھنیں بنانا بھول جائیں گے؟ (میں خرابی کی بات یوں کر رہا ہوں کہ پیشگوئی صرف خرابی ہی کی ہوئی ہے) مان لیجیئے کہ زہرہ اور شمس کی اس خاص وضع سے لوگوں پر اثر ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا بھر میں سب لوگ اس سے ایک ہی طرح متاثر ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ صرف چند لوگ ہی اس وضعِ فلکی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایک دلچسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر زہرہ دل کے معاملات سے متعلق ہے تو پھر آفتاب یعنی شمس کا کیا قصور ہے؟ وہ زہرہ کو متاثر کر رہا ہے تو کیا خود متاثر نہیں ہو رہا؟ اگر وہ بڑا ستارہ ہے تو اس کے ساتھ بڑی نہیں تو چھوٹی موٹی خرابی ہی ہو جائے۔ مگر منجمین صرف زہرہ پر ہی نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ چلیں اسے بھی چھوڑیے۔ ایک بات تو طے ہے کہ نو عمر بچے زہرہ کے ’شر‘ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ ان میں وہ جذبے ابھی تک نشو نما نہیں پا سکے جن کا تعلق جوتشیوں کی پیش گوئی والے ’دل کے معاملات‘ سے ہے۔ تو پھر کیا کریں؟ کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منگل کو آسمان پر بننے والی وضع ہر شخص کی پیدائش کے وقت کے سیاروں کی پوزیشن کے لحاظ سے ہی اس شخص کو متاثر کرے گی اور اس کا فیصلہ خاص زاویے کریں گے جنہیں نجوم کی اصطلاح میں نظرات بھی کہتے ہیں۔ موجودہ وضعِ فلکی بعض لوگوں کی پیدائش کے زائچوں میں اہم کواکب کے ساتھ نظرِ تربیع اور مقابلہ بنائے گی اور اگر دونوں پوزیشنوں یعنی آج کی وضع اور پیدائش کے دن کی وضع کے درجات میں زیادہ فرق نہ ہوا تو ایسے افراد کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دل کے معاملات کشیدہ ہو جائیں گے۔ البتہ ان لوگوں کو آج بہت فاعدہ پہنچنے کا بھی اتنا ہی امکان ہے جن کے پیدائش کے زائچوں میں اہم سیاروں کے ساتھ آج کی وضع نظرِ تسدیس یا تثلیت بنائے گی یا پھر کسی بھی طرح ان سیاروں کو متحرک کر دے گی۔ ہو سکتا ہے کہ آج کے بعد کچھ بے قرار دلوں کو قرار مل جائے۔ ممکن ہے کہ کچھ کے سروں پر مالی مشکلات کے جو بادل چھائے ہوئے وہ چھٹ جائیں۔ عجیب نہیں کہ کچھ کے لئے دوریاں سمٹ جائیں۔ آفتاب (چھوٹی یا بڑی ہر سطح پر) اقتدار کا سیارہ ہے اور اسے زہرہ کا قرب حاصل ہے۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ کچھ کو آج کی وضع کے باعث اقتدار مل جائے اور کچھ صاحبانِ اختیار کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے۔ میرے خیال میں کسی شخص کی پیدائش کے وقت کے سیاروں کے وضع کے ساتھ آج کی وضعِ فلکی کا تعلق جانے بغیر پیشگوئی کرنا ممکن تو ضرور ہے لیکن معقول نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||