BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 October, 2003, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوشا کہ مسندِ پیرِ مغاں سلامت ہے

جنرل پرویز مشرف
جنرل مشرف کہتے ہیں کہ وہ مناسب وقت پر ہی وردی اتاریں گے اور اس وقت کا تعین بھی وہ خود کریں گے

سرزمینِ خدادادِ پاکستان کی مٹی کم از کم اس اعتبار سے بہت فیاض ہے کہ یہ لولی لنگڑی جمہوریت کی لاشوں کواپنے دامن میں فوراً پناہ دے دیتی ہے۔ اگر کسی کو شبہہ ہو تو اسلام آباد میں ’جمہوریت کے قبرستان‘ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے۔

دیکھنے والے کو اگر کراچی میں جنرل ایوب خان جمہوریت کا مقبرہ بناتے نظر آئیں گے، تو اسلام آباد میں جنرل ضیاالحق، بھٹو کی جمہوریت دفناتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ کسی جگہ جونیجو کی جمہوریت کی بھی قبر مل جائے گی۔ اور گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں تو بے نظیر اور نواز شریف کی ’جمہوریتوں‘ کی تدفین ایک سے زیادہ مرتبہ ہوئی اس فرق کے ساتھ کہ ’گورکن‘ کا کام فوجی وردی پہنے بغیر بھی ادا کیا گیا۔ اگرچہ جمہوریت کے ان جنازوں کی دھوم اُسی وقت زیادہ ہوتی ہے جب معلوم ہو کہ ’مرحومہ‘ کا لہو کسی فوجی کے ہاتھ پر ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے صفحات میں یوں تو جمہوریت کے کئی ایّامِ وفات مل جائیں گے لیکن آخری مرتبہ یہ سانحہ چار سال پہلے یعنی بارہ اکتوبر کی شام پیش آیا۔ شکر کی جگہ ہے کہ تب سے اب تک صورتِ حال ٹھیک ہے۔ اب کسی جمہوریت کو مرگِ ناگہانی کا کوئی خوف بھی نہیں۔

ویسے بھی جب تک جنرل پرویز مشرف پاکستان کے منتظم ہیں، جمہوریت کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ لولی لنگڑی جمہوریت تو وہ کب کے دفنا چکے۔ رہ گئی موجودہ حکومت تو اس کا کوئی مسئلہ ہی نہیں کہ یہ کلوننگ کے عمل سے گزر کر وجود میں آئی ہے۔ ختم بھی کرنا پڑی تو نئی کلوننگ ہوجائے گی۔

یوں بھی نیا نعرہ تو یہی ہے کہ پہلے جمہوریت نہیں، پہلے پاکستان ہے۔ مگر جانے بانئ پاکستان کو کیا سوجھی کہ انہوں نے ایک نوزائیدہ ملک کے لئے جمہوریت کو پسند کر لیا۔ ان کی جگہ اگر جنرل ایوب خان یا جنرل ضیاالحق یا پھر جنرل پرویز مشرف ہوتے تو شاید بے چارہ پاکستان جمہوریت کی اموات کی اذیّت میں مبتلا ہی نہ ہوتا۔

لیکن زیادہ خرابی پھر بھی نہیں ہوئی۔ جنرل ایوب خان نے جس نظامِ نو کی بنیاد ڈالی تھی، ان کے حقیقی نائیبین اور وارثوں نے اسے، کم از کم، اب تک تو بڑی دیانت داری کے ساتھ پروان چڑھایا ہے۔جنرل یحیٰ خان کو مہلت نہیں مل سکی ورنہ اُس سلسلے میں کوئی رکاوٹ ہی نہ پڑتی جو جنرل ایوب خان سے شروع ہوا تھا۔ بھلا ہو جنرل ضیا الحق کا کہ انہوں نے صورتِ حال کو سنبھالا اور گیارہ برس تک خوب سنبھالا۔

وہ گئے تو پاکستان میں اقتدار کے ’ابدی محور‘ کا توازن پھر بگڑ گیا اور گیارہ سال تک بگڑا ہی رہا تاوقتیکہ جنرل پرویز مشرف نے سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

اقتدار کے اس محور کا توازن درست کرنے والوں میں تھوڑا بہت اختلاف تو ہوتا ہی ہے لیکن جب بات اصول کی ہو تو اسے بچانے کے لئے سب کی توانائیاں ایک ہی طرح سے صرف ہوتی ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ انہیں ماحول بھی ایک سا ہی مل جاتا ہے۔

جنرل ایوب خان کی بدقسمتی کہیے کہ ان کے زمانے میں افغانستان کی اہمیت کم تھی گو امریکی مفادات تب بھی تھے۔ لیکن جنرل ضیاالحق کے دور میں افغانستان کی زمین نے پاکستانی فوج کے ساتھ اپنی محبت کا والہانہ اظہار کیا اور اقتدار کو طول دینے میں ان کی بہت مدد کی۔ ان کے بعد جنرل مشرف آئے۔ شروع میں ان کے لئے حالات زیادہ موافق نہ تھے لیکن پھر افغانستان کی زمین سے ہی پاکستانی فوج کے ساتھ موافقت کی ایک لہر اٹھی۔ امریکہ پر خود کش حملے ہوئے اور جنرل مشرف کا سیارہ شرف میں آگیا۔

جنرل ضیا الحق نے امریکی ایما پر افغانستان سے روسیوں کو باہر نکالنے کا فرض ادا کیا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے وہاں سے طالبان کا نشان مٹانے کی امریکی خواہش کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا جس سے انہیں مغرب میں قبولِ عام کی سند بھی مل گئی۔

لہذا اگر ماضی میں ضیاالحق امریکی آنکھوں کا نور تھے تو اب جنرل مشرف امریکی دل کی دھڑکن بن چکے ہیں۔ امریکی ایوانوں میں پہلے اگر جنرل ضیاالحق کی شنوائی ہوتی تھی تو آج وہاں جنرل پرویز مشرف کی رسائی ہے۔

جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف میں ایک مشترک قدر یہ بھی ہے کہ ان دونوں پاکستانیوں کا تعلق ان علاقوں سے ہے جو اب ہندوستان کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیا جالندھر کے بتائے جاتے ہیں اور جنرل مشرف دہلی کے کہلاتے ہیں۔ ان کے بیٹے بھی بوجوہ ملک سے دور گئے تھے اور اِن کے صاحبزادے بھی وطن سے نزدیک نہیں ہیں۔ ان کے سر پر اسلام پھیلانے کا بھوت سوار تھا تو ان کے کاندھوں پر ڈوبتے ہوئے پاکستان کو بچانے کا بار ہے۔ انہیں بھی ’لولی لنگڑی جمہوریت‘ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اور انہیں بھی پسند نہیں آتی۔ اُن کی ذہانت نے ایم آر ڈی کو ستا کے رکھا ہوا تو اِن کی فطانت نے بھی اے آر ڈی کو دبا کے رکھا ہوا ہے۔ اپنی مرضی کے خلاف بات انہیں بھی گوارا نہیں ہوتی تھی تو اختلاف انہیں بھی پسند نہیں ہے۔

دیکھ لیجیئے! آئین کی بحالی کے لئے شور مچا مچا کر حزبِ مخالف کا گلا دکھ گیا ہے، حکومتی سطح پر پاکستان میں امریکی مفادات کے تحفظ کے خلاف نعرے بلند ہو رہے ہیں، ’لولی لنگڑی‘ اپوزیشن ایل ایف او کو ختم کرنے کا مطالبہ کیئے جا رہی ہے، اسمبلیوں میں نو مشرف نو کی گونج ہے لیکن جنرل پرویز مشرف اپنی وردی سنبھالے اسی اسلام آباد میں، جو جمہوریت کی کئی قبروں سے آباد ہے، سلطنت کی باگ ڈور تھامے کرو فر سے بیٹھے ہیں۔

جانے کس نے سچ کہا تھا

بساطِ میکدہ ویراں ہوئی تو غم کیا ہے

خوشا کہ مسندِ پیرِ مغاں سلامت ہے

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد