فوج کے مزید پانچ برس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں کہ آج سے پانچ برس پہلے پاکستان تباہی کے دہانے پر تھا۔ سیاسی ابتری انتہا پر تھی، معیشت بربادی کی حدووں کو چھو رہی تھی۔ منصبِ اعلیٰ پر فائز لوگ شریعت کے بل میں گھس رہے تھے۔ انتظامی ڈھانچہ معطل ہو چکا تھا، عدلیہ سے انصاف کے سوا سب کچھ میسر تھا، اقتدار کے ایوانوں میں یاسیت کے سائے تھے۔پاکستان کی کشتی طوفان خیز موجوں میں پھنسنے کو تھی کہ ایک دن آسمان پر ایک (مبینہ) واقعہ ہوا اور ایک حادثے کے نتیجے میں اچانک ایک ناخدا سامنے آگیا۔ اس ناخدا نے جلوہ دکھایا تو اس شان سے کہ طاقت اور قوت اس کے پہلو بہ پہلو تھی۔ عسکری تفاخر اس کے جلو میں تھا، لشکری ذہانت اس کے شانہ بشانہ تھی اور لبیک کہنے والے چند سرفروش اس کے ہم رکاب تھے۔ بارہ اکتوبر کی نصف شب مشاورت کے ایک طویل دور کے بعد اس ناخدا نے ایک فرمان جاری کیا اور یوں ایک عہد کی ابتدا ہوئی جسے تاریخ مشرف دور کے نام سے یاد رکھے گی۔ اس عہد کو پہلے صرف فوج کی حمایت حاصل تھی لیکن بعد میں حالات کچھ یوں بدلے کہ اس پر امریکہ کی نظرِ عنایت بھی ہوگئی اور آج اس دور کو پانچ برس ہو گئے ہیں۔ سید پرویز مشرف اور ان کے لشکری مصاحب خوب جانتے تھے کہ گیارہ سال پہلے جنرل ضیاالحق نے نوے دن میں اقتدار چھوڑنے کا وعدہ اتنی مرتبہ کیا تھا کہ خود فوجیوں کو شرم دامن گیر ہونے لگی تھی۔ چنانچہ اس بار اہتمام کیا گیا کہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا۔ اپنی دھن کے پکے جنرل مشرف سے ان کی سیادت کے ابتدائی ایام میں کئی مرتبہ گزارشیں ہوئیں کہ وہ بتائیں آیا معطل اسمبلیوں کو بحال کریں گے یا نہیں اور آیا وہ خود واپس جائیں گے یا نہیں لیکن وہ ہمیشہ اس کا جواب دینے سے گریز کرتے رہے۔ جنرل صاحب آئے تھے ایک حادثے کے نتیجے میں اور نہیں معلوم کیسے جائیں گے۔ لیکن جو بات معلوم ہے وہ یہ کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو سیاست میں فوج کی دخل اندازی بظاہر ایک اتفاق ہو سکتی ہے لیکن ہے یہ ایک عمل کا تسلسل۔ چلیئے مان لیں کہ نواز شریف نے جنرل ضیاالدین بٹ کو فوج کا سربراہ بنانے کی ’سازش‘ کی۔ یہ بھی مان لیجیئے کہ اس فیصلے پر عمل ایسے وقت کیا گیا جب جنرل مشرف فضا میں تھے۔ لیکن سرفروشوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور انہوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ نواز شریف کی فوج کا سربراہ تبدیل کرنے کی کوشش اگر کوئی جرم تھی تو انہیں عدلیہ کے ذریعےسزا دلائی جاتی۔ فوج اپنا دامن اقتدار کی آلائشوں سے بچا کے رکھتی۔ نواز شریف کی جگہ کسی دوسرے کو وزیرِ اعظم بنوا دیا جاتا (آخر عساکرِ پاکستان کے پاس درجنوں منصوبے تیار پڑے رہتے ہیں) لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں؟ اس کا جواب یہی ہے کہ فوج کو اقتدار سے گئے ہوئے پھر گیارہ برس ہو چکے تھے لہذا اسے واپس آنا ہی آنا تھا۔ نواز شریف، جہاز اترنے نہ دینا، جنرل ضیاالدین کی تقرری صرف ایک بہانہ تھی۔اور یہ سب کچھ سوچنے کا جواز بھی موجود ہے۔ اگر فوج نے وہ سب کچھ نہ کیا ہوتا جو اس نے گزشتہ پانچ سال میں کیا ہے تو کسے مجال تھی کہ ایسی دلیل پیش کر سکتا۔ یوں بھی شریف الدین پیزادہ کے پاس وہ سمِ قاتل ہے جس کا تریاق کم کم ہی ملتا ہے۔انہوں نے فوج کے سالار کو کوئی کمال کا نکتہ سُجھا دیا۔ ایک اور انقلابی تقریر ہوئی اور ہر شعبے میں اصلاح کے عہد کا اعلان کر دیاگیا۔ ہر طرف فوج کے سجیلے جوان نظر آنا شروع ہوگئے۔ سویلین لوگوں کو وفاؤں کے نذارنے اور فوجی ترانے سنانے کے لیے رہنے دیا گیا باقی امور کی نگرانی فوجیوں کے سپرد کر دی گئی۔ سیاست کے اصطبل میں نئے سائیس آگئے، نئے گھوڑوں کو آزمایا گیا۔ اقتدار کی دوڑ کا آغاز ہوا۔ میدانِ سیاست میں تبدیلیاں بڑے پُرامن طریقے سے ہوئیں صرف اس لیے کہ فوج کو یہی منظور تھا۔ پانچ سال پہلے بظاہر اچانک جو واقعات رونما ہوئے تھے آج ان کی کڑیاں ایک دوسرے سے پیوست دکھائی دے رہی ہیں۔ ملک میں ناخدا کی پسند کا سیٹ اپ ہے، معیشت کی شان کی گواہی کے لیے شوکت عزیز موجود ہیں۔ سیاسی ابتری کی گرد بیٹھ چکی ہے۔انتظامی ڈھانچہ عسکری ہاتھوں میں ہے لہذا ٹھیک ٹھیک کام کر رہا ہے۔پاکستان کی کشتی طوفان سےنکل چکی ہے۔ اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ تو کیوں نہ آج ’یومِ تفحظِ مشرف‘ پر جمہوریت اور سیاست دانوں کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہوئے عہد کیا جائے کہ آئندہ اقتدار کے حقدار صرف اور صرف ناخدا ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||