اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 07:48 GMT 12:48 PST
  • سوموار کی رات ڈاکٹر طاہر القادری نے سٹیج پر آتے ہی کہا کہ وہ ابھی خطاب نہیں کر رہے بلکہ انتظامیہ کو پانچ منٹ کی مہلت دے رہے ہیں کہ ان کا سٹیج پارلیمان کے سامنے ڈی چوک میں منتقل کیا جائے اور وہ وہیں خطاب کریں گے۔
  • لانگ مارچ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور جن علاقوں سے یہ مارچ گزرا وہاں موبائل فون سروس بھی مختلف علاقوں میں بند کی گئی۔
  • رات کو مارچ کے کئی شرکاء بلو ایریا میں مختلف جگہوں پر سوئے جبکہ کئی نے شاہ فیصل مسجد کا رخ کیا۔ بہت سے شرکاء نے خود ہی رکاوٹوں کے لیے رکھے گئے کنٹینرز ہٹا کر ان میں اپنی شب بسری کا انتظام کیا۔
  • رات کو ڈاکٹر طاہر القادری نے خطاب میں حکومت کو منگل کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بجے تک کی مہلت دی کہ وہ تمام قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔
  • مارچ کے شرکاء میں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ براہ راست اسلام آباد آئے جن میں جنوبی پنجاب سے آنے والوں کی اکثریت تھی مگر ملک کے دوسرے حصوں سے بھی لوگ شرکت کے لیے آئے۔
  • مارچ کے شرکاء میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی شامل ہے جن میں کئی شیر خوار بچے شامل ہیں۔
  • مارچ کے موقع پر جہاں بلو ایریا اور اسلام آباد کے اکثریتی کاروبار بند تھے وہیں بہت سارے دوسروں کی روزی کا سبب بھی بنا جیسا کہ تصویر میں یہ شخص بیجز اور سٹکرز بیچ رہا ہے۔
  • مظاہرین میں سے بہت سے افراد اپنے اپنے طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں۔
  • مارچ کے شرکاء قیام کے لیے اپنی تیاری پوری کر کے آئے ہیں جن میں موبائل بیت الخلا، بستر، کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں۔
  • مظاہرین کی فضائی نگرانی ہیلی کاپٹروں سے کی جا رہی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>