چین کے صدر شی جی پنگ کے دورۂ بھارت کے دوران اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
،تصویر کا کیپشنچین کے صدر شی جن پنگ بھارت کے تین روزہ دورے پر بدھ کو ریاست گجرات کے شہر احمدآباد پہنچے۔ چین اور بھارت دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں اور چین بھارت کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔
،تصویر کا کیپشنچین کے صدر سے پہلے احمد آباد میں صفائی اور سکیورٹی کے زبردست انتطامات کیے گئے ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے اپنے دورے کے موقعے پر کہا کہ بھارت اور چین ترقی کو پہلا ہدف سمجھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچینی صدر کی حیدر آباد آمد کے موقع ان کے اعزاز میں ایک ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنچین کے صدر کے مطابق ان کے دورے کا پہلا مقصد دوستی کو آگے بڑھانا ہے، جبکہ ’دوسرا ہدف دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تیسرا ہدف بھارت اور چین کے رشتوں کی اسٹریٹجک اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے آگے بڑھانا ہے۔‘ انھوں نے جمعرات کو دارالحکومت دہلی میں بھارت کے بابائے قوم کہلانے والے مہاتما گاندھی کی یادگار کا دورہ کیا۔چینی صدر کے ساتھ ان کی اہلیہ گلوکارہ پینگ لی یوان بھی ہیں جو چین کی معروف گلوکارہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت اور چین نے جمعرات کو دہلی میں 12 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن میں سے ایک معاہدے کے تحت چین اگلے پانچ سالوں میں بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کے درمیان سرحد کے بارے میں اختلافات رہے ہیں، جبکہ سنہ 1962 میں ان دونوں کے درمیان ایک مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے اور اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً تنازعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچین پہلے ہی بھارت کا ایک بڑا تجارتی شراکت کار ہے اور دونوں ممالک نے 2015 تک اپنی سالانہ تجارت کو ایک سو ارب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس وقت تجارت کا توازن چین کے حق میں ہے جبکہ بھارت کو خسارے کا سامنا ہے۔ چین کی سستی الیکٹرانک مصنوعات بھارت میں کافی مقبول ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے خلاف بھارت میں مقیم تبت کے باشندوں اور تارکین وطن نے دارالحکومت دہلی میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ چین کے سب سے بڑے سیاسی مسئلوں میں سے ایک تبت کی تحریک ہے۔ چین کا خیال ہے کہ بھارت میں رہ کر دلائی لاما علیحدگی پسند تحریک کو ہوا دے رہے ہیں اور چین اسے اپنے اندرونی معاملات میں دخل قرار دیتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنواضح رہے کہ اُنیس سو ساٹھ میں تبّت پر چین کے مبینہ قبضے کے بعد سے دلائی لامہ اور ان کے ساتھیوں نے بھارت میں پناہ لی تھی۔ شمالی بھارت میں تبت کی جلاوطن حکومت پچھلے چالیس برس سے قائم ہے۔ دہلی میں جلا وطن تبت شہریوں نے قریبی زیر تعمیر عمارتوں پر چھڑنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے تعاقب کر کے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
،تصویر کا کیپشنچین کے سفارت خانے کے باہر جمع مظاہرین کو پولیس نے مظاہرے کے دوران ہی گرفتار کر لیا۔دہلی کے کئی علاقوں میں جہاں تبتی پناہ گزین بڑی تعداد میں رہتے ہیں وہا حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچین کے صدر نے بھارت کے دورے سے قبل سری لنکا کا دورہ کیا اور وہاں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدے کیے گئے۔ چین نے حال ہی میں سری لنکا میں ایک بندر گاہ تعمیر کی ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ بھی کرنا تھا تاہم موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ نون چینی صدر کے دورے کے ملتوی ہونے کا الزام اسلام آباد میں جاری دھرنوں کو دیتی ہے۔