لاہور کے اندرونی علاقے دلی گیٹ میں واقع وزیر خان حمام کی بحالی کا کام جاری
،تصویر کا کیپشنلاہور کا دلی گیٹ مغل سلطنت کے دور میں لاہور کے اہم ترین دروازوں میں سے ایک تھا۔ اس کی بڑی وجہ دارالحکومت دہلی سے اس کے راستے آنے والے سرکاری و غیر سرکاری مہمان تھے۔
،تصویر کا کیپشندلی گیٹ آج بھی زندگی سے بھرپور لاہور کا ایک حصہ ہے۔ یہاں کی ہلچل اور گہما گہمی دیدنی ہے اور یہاں ایک شاہی حمام بھی واقع ہے جس کی بحالی کا کام آج کل جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنترکی اور ایران میں اس قسم کے حمام عام پائے جاتے تھے۔ شاہی حمام کی چھت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایران یا ترکی میں کہیں موجود ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشاہی حمام کی چھت پر روشنی کے لیے بنے روشن دان جو قدرتی روشنی کا انتظام تھے۔
،تصویر کا کیپشنشاہی مہمان خانے کا وہ تہہ خانہ جو حمام کو گرم رکھنے کے لیے گرم پانی سے بھرا رہتا تھا۔
،تصویر کا کیپشناس پانی سے اٹھنے والی بھاپ نہ صرف غسل کے پانی بلکہ عمارت کو بھی گرم رکھتی تھی۔
،تصویر کا کیپشناس چار سو سال قدیم عمارت کے بحالی کے لیے سیمنٹ سے پاک وہی مسالا استعمال کیا جا رہا ہے جو اس کی تعمیر میں استعمال کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبینائی سے محروم ایک عمر رسیدہ شخص شاہی حمام کے باہر سرمے کا سٹال لگائے بیٹھے ہیں۔ شاید وہ نہا دھو کر یہاں سے نکلنے والے کا منتظر ہے۔