شمالی بھارت میں شدید سردی کی لہر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 08:21 GMT 13:21 PST

شمالی بھارت میں سردی کی لہر

  • شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں آج کل سردی کی زبردست لہر چل رہی ہے جس سے بچنے کے لیے لوگوں نے مختلف طریقے اپنائے ہیں جیسا کہ اس تصویر میں کچھ لوگ آگ جلا کر ہاتھ سینک رہے ہیں۔
  • سردی سے سب سے زیادہ وہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں جو کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں
  • محکمۂ موسمیات کے مطابق بدھ کو دن میں درجۂ حرارت دس ڈگری سے بھی نیچے گر گيا تھا۔ یہ دارالحکومت دلی میں چوالیس برس کے بعد دن میں اتنا کم درجۂ حرارت تھا۔
  • زبردست سردی میں دھوپ کی عدم موجودگی، دھند اور تیز ہوائیں چلنے سے لوگ پریشان ہیں۔ خبروں کے مطابق صرف ریاست اترپردیش میں سردی سے سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
  • بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی معروف ڈل جھیل کی رونقیں بھی درجۂ حرارت کےگرنے سے ختم ہوگئی ہیں۔
  • دھند اور کہرے کی وجہ سے نقل و حمل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے، بیشتر ریل گاڑیاں تاخیر سے چل رہی ہیں جبکہ پروازوں کی آمد و رفت میں بھی خلل پڑا ہے۔
  • شمالی ہند کی طرف آنے جانے والی بہت سی ریل گاڑیوں کو تاخیر کے سبب منسوخ کرنا پڑا جس کی وجہ سے مسافر ریلوے سٹیشنوں پر پھنس کر رہ گئے۔
  • سردی کا زیادہ اثر دلی، لکھنؤ، پٹنہ، آگرہ، چندی گڑھ، امرتسر اور میرٹھ جیسے شہروں میں ہے۔
  • بڑے شہروں میں جو لوگ باہر سے کام کرنے آئے ہیں وہ دن کے وقت تو الاؤ جلا کر اپنا کام چلاتے ہیں، مگر ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ رات کے وقت درجۂ حرارت کافی گر جاتا ہے۔
  • محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ابھی چند روز تک اسی طرح کی سخت سردی جاری رہے گي اور امکان ہے کہ پہاڑی علاقوں میں برفباری اور بارش بھی ہو۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>