- ماحولیات سے متعلق ویولیا وائلڈ لائف یا جنگلی حیات کے فوٹوگرافس میں کینیڈا کے پال نیکلن نے اپنی تصویر ببل جیٹگ ایمپرر پر سال کے بہترین فوٹوگرافر کا انعام جیتا۔ وہ انٹارکٹیکا کے ’روز سمندر‘ میں ایمپرر پینگوئن کالونی میں ان پینگوئن کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے منجمد پانی میں کوئی حرکت کیے بغیر کافی دیر تک کھڑے رہے۔
- امریکہ کے سٹیو ونٹر نے وائلڈ لائف جرنلسٹ کا ایواڈ جیتا۔ چیتے کی یہ نسل بہت ہی نایاب ہو گئی ہے اور اس وقت دنیا میں ان کی تعداد چار سے پانچ سو کے قریب ہے اور خاص طور پر سوماٹرا کے جنگلات میں اس نسل کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ سٹیو نے ایک خودکار یا آٹو ٹریپ کیمرے کے ذریعے یہ تصویر حاصل کی، اس جنگل میں پہلے چیتے کا شکار کرنے والے اور اب اس جنگی پارک میں رینجرز گارڈ کی ڈیوٹی کرنے والے ایک اہلکار نے سٹیو ونٹر کو بتایا کہ کس جگہ پر کیمرے کو نصب کرنا ہے۔
- گریگواری بوگرو فرانس کے گریگواری برگرو نے دودھ دینے والے جانوروں کی درجہ بندی میں انعام حاصل کیا ہے۔ اس تصویر میں چیتوں کے بچے ایک ہرن کے ایک بچے کا تعاقب کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے کمسن ہرن کی ماں کو پکڑا لیکن اسے مارا نہیں، اس موقع پر چیتوں کے بچوں نے زمین پر لیٹے اس کمسن ہرن کی طرف توجہ نہیں دی لیکن جیسے ہی اس نے اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہو کر جانے کی کوشش کی تو چیتوں کے بچے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی شکار خور حس جاگ اٹھی۔
- جنوبی افریقہ کے کم ولیٹر نے جیرالڈ ڈیرل نے معدوم ہوتی جنگلی حیات یا خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی درجہ بندی میں انعام حاصل کیا۔ کم نے زمبابوے میں جنگلی حیات کے لیے محفوظ قرار دیے جانے والے علاقے میں چار سال سے زیادہ کا عرصہ گزارا اور آوارہ کتوں کی عکس بندی کی۔ کم کے مطابق انہوں نے ان کتوں کے ساتھ سفر کیا اور جب یہ شکار کرتے تو ان کے ساتھ دوڑ بھی لگانی پڑتی۔






































