پاکستان میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 17:03 GMT 22:03 PST
  • آج پاکستان میں احتجاجی مظاہروں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی املاک کو کافی نقصان پہنچا جیسا کہ اس تصویر میں پولیس کی گاڑیاں جلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
  • پرتشدد واقعات میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  • پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کی صبح سے ہی شروع ہوگیا تھا اور نمازِ جمعہ کے بعد ان میں شدت آ گئی تھی۔
  • کراچی میں احتجاج کے دوران بوٹ بیسن سے بلاول ہاؤس اور امریکی قونصل خانے کی جانب جانے والی سڑکیں کئی گھنٹے میدان جنگ بنی رہیں۔
  • اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے بعد آبپارہ کے علاقے میں بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جو بعد میں ریڈ زون میں واقع سفارتی علاقے کی طرف گیا۔
  • ہمارے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین نے ریڈ زون کے باہر پولیس کی جانب سے قائم کیا گیا پہلا حفاظتی حصار عبور کر لیا تھا تاہم اس کے بعد پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے انہیں مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔
  • اسلام آباد میں پولیس مظاہرین پر قابو پانے میں ابتدائی طور پر بے بس دکھائی دے رہی تھی اور ان کے پاس موثر حفاظتی سازوسامان کی بھی کمی تھی۔
  • مظاہرین میں سے بیشتر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا جنہوں نے اپنی اپنی تنظیموں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
  • اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں کے بعد جمعہ کو سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے ریڈ زون کی سکیورٹی کے لیے پاکستانی فوج کو بھی طلب کیا ہوا تھا جو مظاہروں کی فضائی نگرانی بھی کرتی رہی۔
  • پشاور میں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے موقع پر مظاہرین نے دو سنیما گھروں کو آگ لگا دی جبکہ بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
  • پشاور میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
  • اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے پھینکے گئے آنسو گیس کے گولے واپس انہیں پر پھینکے جاتے رہے جس کی وجہ سے پولیس اہلکار بھی آنسو گیس سے کافی متاثر ہوئے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>