احتجاج
شام میں حکومت مخالف تحریک کی آغاز مارچ دو ہزار گیارہ میں درعا نامی شہر میں ایک عمارت پر انقلابی نعرے لکھنے والے لڑکوں کی گرفتاری کے بعد ہونے والے مظاہروں سے ہوا۔ جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلائی اور کئی افراد مارے گئے تو مظاہروں کا سلسلہ دیگر علاقوں تک بھی پھیل گیا۔
جولائی دو ہزار گیارہ تک شام کے طول و عرض میں ہزاروں افراد ملک کے مختلف قصبوں اور شہروں میں صدر بشار الاسد کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے
بمباری
شامی حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال کے آغاز میں زیادہ دیر نہیں لگائی اور مارچ دو ہزار گیارہ میں ہی درعا میں ٹینک بھیج دیے۔ مظاہروں میں تیزی آتے ہی کریک ڈاؤن میں بھی تیزی آئی۔
جب اگست دو ہزار بارہ میں لڑائی دارالحکومت دمشق اور ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب تک پہنچی تو فوج نے ان دونوں شہروں کے مضافاتی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کے لیے بڑا آپریشن شروع کیا۔
پناہ گزین
حکومت اور باغیوں میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے ہی شامی عوام کی ہمسایہ ممالک نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں نے اردن، لبنان، عراق اور ترکی میں پناہ لینے والے دو لاکھ سے زائد شامیوں کا اندراج کیا ہے اور ادارے کے مطابق اس تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
ان کے علاوہ شام میں اندرونِ ملک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد اندازاً دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کے معاملات کی سربراہ ویلری آموس نے خبردار کیا ہے کہ شام میں پچیس لاکھ کے قریب افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
بم دھماکے
شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے دھماکوں میں شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر دھماکوں کا ہدف ملک کی سکیورٹی فورسز اور ان کی تنصیبات تھیں۔ حکام نے ان دھماکوں کا ذمہ دار القاعدہ سے وابستہ دہشتگردوں کو قرار دیا ہے۔ تاہم حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ بم خود حکومت نے انہیں اور پرامن مظاہرین کو بدنام کرنے کے لیے نصب کیے تھے۔
قتلِ عام
اقوامِ متحدہ نے شامی سکیورٹی فورسز اور حکومت کی حامی ملیشیا پر دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اس تحریک کے دوران ایک واقعہ نے جس نے عالمی توجہ حاصل کی وہ مئی دو ہزار بارہ میں حولہ کا قتلِ عام تھا جس میں انچاس بچوں سمیت ایک سو آٹھ افراد مارے گئے۔
شامی حکومت نے ان ہلاکتوں کے لیے ’دہشتگردوں‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن اقوامِ متحدہ کی تحقیقات میں کہا گیا کہ حکومت کے حامی اس کے ممکنہ ذمہ دار ہیں تاہم ایسے واقعات میں اصل ذمہ داروں کا تعین انتہائی مشکل ہے۔
عالمی ردعمل
مغربی طاقتوں نے شامی صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور شام کے معاملے پر سلامتی کونسل سے بھی مدد لی گئی ہے تاہم روس اور چین نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔
تمام عالمی طاقتیں شام میں قیامِ امن کے منصوبے کی حامی ہیں جسے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تیار کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت اپریل دو ہزار بارہ میں شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصرین جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تعینات کیے گئے۔
مبصرین کی تعیناتی کے باوجود شام میں تشدد جاری رہا اور نتیجتاً مبصرین کو واپس بلا لیا گیا اور کوفی عنان نے امن ایلچی کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔
ان کی جگہ اخضر ابراہیمی نے لی ہے لیکن ایسی صورت میں جب عالمی طاقتیں مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکی ہیں، شامی صدر اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں اور شام میں حزبِ اختلاف منقسم ہے اس معاملے کا حل جلد ہوتا نظر نہیں آتا۔



































