ڈرائنگ روم کے ناقد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف ان دنوں تواتر سےکہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور جو کچھ بھی ہوا اس کا الزام حکومتی غفلت کو قرار دینا زیادتی ہے۔ جب سے دہشت گردوں نے پاکستان کی اہم ترین شخصیات کا تعاقب شروع کیا ہے وی وی آئی پی سیکیورٹی کا تصور بھی بدل گیا ہے۔یہ کوئی راز نہیں ہے کہ صدر، وزیرِ اعظم اور اعلی فوجی قیادت کی سیکیورٹی کے کم ازکم تین دائرے ہوتے ہیں تاکہ کوئی دہشت گرد اگر ایک دائرہ توڑ ڈالے تو باقیوں سے آسانی سے نہ گزر سکے۔ ان اعلی شخصیات سے ملنے والے تمام افراد کو بلاامتیاز کڑی دیدہ و نادیدہ نگرانی اور جانچ پڑتال کے متعدد مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔انکی نقل و حرکت سے قبل اہم شاہراہوں اور ناکوں کے اطراف اور بلند عمارات پر مسلح سپاہی اور نشانچی گھنٹوں پہلے سے مستعد ہوتے ہیں۔ راستے کے تمام ٹریفک سگنلز بند ہوجاتے ہیں تاکہ سگنل جامرز سے لیس ایک ہی رنگ کی بلٹ پروف گاڑیوں کے ایک سے زاید قافلے زن زن گزر سکیں۔ وی وی آئی پی شخصیت کس قافلے کی کس گاڑی میں ہے اسکا علم ایک درجن سے بھی کم محافظوں اور اہلکاروں کو ہوتا ہے۔
اگر ان شخصیات کو کسی جلسے سے خطاب کرنا ہے تو سٹیج کے چاروں طرف کم ازکم پانچ پانچ سو گز دور تک کی نشستوں پر یا تو سادہ کپڑوں والے ہوتے ہیں یا پھر وہ لوگ جن کی تطہیر ایک سے زائد ایجنسی کرچکی ہوتی ہے۔ اگر ان شخصیات کو عوام میں گھلتے ملتے دکھانا مقصود ہو تو انکے اردگرد جتنے بھی عام آدمی دکھائے جاتے ہیں ان سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کتنی بے ساختگی اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ جو شخص بھی سیکیورٹی کے طے شدہ مسودے سے ذرا بھی آگے پیچھے ہوتا ہے اسں بےچارے کو سیکیورٹی کے آخری دائرے کے اہلکار پلک جھپکنے سے پہلے ہی آگے پیچھے کردیتے ہیں۔ اتنی باریک بین سیکورٹی کے باوجود بھی صدرِ مملکت یا سابق وزیرِ اعظم یا سابق وزیرِ داخلہ یا ایک سابق کور کمانڈر کراچی پر قاتلانہ کوششیں نہ روکی جاسکیں۔ اس پس منظر میں جب صدرِ مملکت یہ کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی تو میرے جیسوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ صدرِ مملکت اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے آخر ویسی ہی سیکیورٹی کیوں پسند نہیں کرتے۔ صدرِ مملکت اکثر اپنے ناقدوں کو یہ کہہ کر لتاڑتے ہیں کہ بڑے شہروں کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر مجھ پر تنقید کرنے والے کبھی دیہی علاقوں میں بھی جاکر دیکھیں کہ میں کتنا مقبول ہوں۔ میری خواہش ہے کہ کسی روز صدرِ مملکت ایوانِ صدر کے کسی ہال میں شاہراہوں، پلوں اور میگا پروجیکٹس کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بجائے اسی طرح کی مکمل سیکورٹی کے ساتھ عوام میں گھلیں ملیں جیسی مکمل سیکورٹی انکی حکومت نے بے نظیر بھٹو کو فراہم کی تھی۔ تاکہ لوگ اپنے محبوب و مقبول رہنما کی ایک جھلک دیکھنے اور ہاتھ ملانے کی سعادت حاصل کرسکیں اور یوں صدر کے ڈرائنگ روم ناقدین کے منہ بند ہوجائیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ |
اسی بارے میں مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||