بے وفائی کی وہ قسم جو جسمانی تعلق کے بغیر بھی آپ کا رشتہ ختم کروا سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کیٹی بشپ
- عہدہ, بی بی سی ورک لائف
زیادہ تر لوگ تعلقات میں بے وفائی کے بارے میں شدید خیالات رکھتے ہیں۔ روایتی شادی شدہ جوڑے عام طور پر کسی تیسرے فرد سے ہر قسم کے جنسی رابطے کو بے وفائی سمجھتے ہیں تاہم ایسے جوڑے بھی ہوتے ہیں جو جسمانی بے وفائی کا واضح تعین کر لیتے ہیں۔
جسمانی بے وفائی یا چیٹنگ کا تعین کرنا کسی حد تک آسان ہو سکتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کسی سے جذباتی لگاؤ ایک بارودی سرنگ جیسا ہوتا ہے۔
جذباتی بے وفائی کے بارے میں ہر کسی کی اپنی سمجھ اور سوچ ہے۔ کیا کسی ساتھی کے ساتھ صرف کچھ وقت بتانا بے وفائی ہے جو آپ کو پرکشش لگتا ہے؟ یا کسی ایسے فرد کے ساتھ پیغام رسانی جسے آپ کا پارٹنر ایک خطرہ سمجھتا ہے؟ پھر کسی اجنبی کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ایسے جملے لکھنا جن کا ڈھکا چھپا مطلب نکلتا ہو؟
جذباتی بے وفائی سے نمٹنا شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایک چیلنج ہے جو تعلق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔
آج کل یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ تعلق یا پارٹنر شپ میں جذباتی قربت اسی تعلق تک محدود رہے گی تاہم ڈیجیٹل زمانے میں یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں رہا۔
ایک جدید تصور
جذباتی بے وفائی کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اپنے پارٹنر یا ساتھی کے علاوہ کسی سے لگاؤ پیدا ہو جس کا کوئی جسمانی یا جنسی عنصر نہ ہو تاہم ایسا کرنے کو ایک حد عبور کرنا سمجھا جائے گا۔
اس تصور کی بنیاد وہ خیال ہے کہ قربت صرف اپنے معاشرتی طور پر منظور شدہ ساتھی تک محدود رہنی چاہیے اور کسی تیسرے کے ساتھ لگاؤ رکھنا اس تعلق کو خطرے میں ڈال دے گا۔
جسمانی بے وفائی کی طرح جذباتی لگاؤ بھی جوڑوں کو الگ کر سکتا ہے تاہم یہ ایک نسبتاً نیا تصور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں واشنگٹن کے وٹمین کالج کی سوشیالوجی پروفیسر مشل جیننگ معاشرتی کردار، خاندان اور تعلق پر کام کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ تاریخی اعتبار سے شادہ شدہ جوڑوں کے لیے یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی جذباتی توقعات یا ضروریات کا مکمل خیال رکھ سکیں گے۔
ان کے مطابق رشتہ ازدواج کا بنیادی محور معاشی تحفظ، خاندانی تعلقات اور افزائش تھی جبکہ ایسے تعلقات، جن کی بنیاد محبت نہیں ہوتی تھی، میں یہ مان لیا جاتا تھا کہ جذباتی ضروریات کہیں اور سے بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔
تاہم گذشتہ 200 برس میں یہ تصور تبدیل ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں محبت کی شادی عام ہو چکی ہے اور گذشتہ صدی میں انفرادیت کے رجحان کی وجہ سے لوگوں نے ذاتی خواہشات کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔
آج لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا ساتھی ان کی جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرے جس کا مطلب ہے کہ کسی تیسرے فرد کی ایسی ضروریات کا خیال رکھنا دھوکہ تصور کیا جائے گا۔
کئی شادہ شدہ جوڑے یہ خیال رکھتے ہیں کہ خوشی کی تلاش یا پھر کسی قسم کے جذباتی لگاؤ کے لیے کسی تیسرے فرد سے تعلق رکھنا بے وفائی ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیجیٹل زمانے میں جذباتی بے وفائی کا تصور
ہماری زندگی میں ٹیکنالوجی شامل ہونے سے پہلے، جذباتی بے وفائی کسی ساتھی سے غیر مناسب قربت رکھنے یا پھر ایسے خیالات اور احساسات کے تبادلے کو سمجھا جاتا تھا جو ایک پارٹنر کے خیال میں صرف اسی تک محدود رہنے چاہیے۔
کسی سابقہ محبت سے چوری چھپے ملاقات یا پھر پارٹنر سے اپنی زندگی کے کچھ حصے چھپانا بھی اسی زمرے میں آتے تھے۔
تاہم ڈیجیٹل انقلاب نے لوگوں کے باہمی تعلقات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں جس کی وجہ سے تعلقات کی ازسرنو تعریف کرنا پڑ رہی ہے۔ اس انقلاب نے چوری چھپے رابطوں کا ذریعہ بھی فراہم کیا ہے اور لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے سے کوئی قانون نہیں توڑ رہے۔
امریکہ میں اٹلانٹا کی برمن سائیکوتھراپی کی امیرہ جانسن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے رابطے کے اصول تبدیل کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق سمارٹ فون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسے رویے ممکن ہو گئے ہیں جو جذباتی بے وفائی کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں جیسا کہ کسی کی تصویر پر تبصرہ کرنا، پرانی محبت سے رابطہ کرنا یا پھر کسی اجنبی سے بحث کرنا۔
ایسے میں کس کام کی اجازت ہے اور کس کی ممانعت، اس پر لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔
کچھ کے نزدیک کسی مخصوص فرد کی سوشل میڈیا پوسٹ کو پسند کرنا ہی بے وفائی ہے تو کسی کے نزدیک اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ کچھ رشتوں میں یہ فہم ہوتی ہے کہ گہرے ذاتی معاملات کی گفتگو پارٹنر تک محدود رہنی چاہیے جبکہ دوسروں کے لیے جذباتی دوستی رکھنا ہر کسی کا حق ہوتا ہے۔ کچھ جوڑوں کے لیے فلرٹ یا چھیڑ چھاڑ تک محدود پیغامات میں کوئی نقصان نہیں جبکہ دوسروں کے لیے ایسا کرنا تعلق ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔
ڈیٹنگ ایپ کی مریسا کوہن کا کہنا ہے کہ ہر پارٹنر کے لیے چیٹنگ کے الگ معنی ہیں اور کسی کے لیے ایک ایسے فرد کے ساتھ وقت بتانا بھی بے وفائی ہو سکتا ہے جسے وہ خطرہ تصور کرتا ہو۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علیحدگی یا بچاؤ؟
عام طور پر جنسی بے وفائی زیادہ بری سمجھی جاتی ہے سنہ تاہم 2015 کی یو گوو تحقیق کے مطابق 1660 برطانوی افراد میں سے 44 فیصد کا ماننا تھا کہ کسی غیر فرد سے جذباتی لگاؤ رکھنا بھی چیٹنگ ہوتی ہے۔ 15 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس طرح کا جذباتی تعلق رکھا۔
جانسن کے مطابق جسمانی بے وفائی میں واضح ہوتا ہے کہ ایک حد پار کی گئی ہے لیکن جذباتی بے وفائی کا آغاز ایسے رویے سے ہوتا ہے جس میں کوئی فرد اسے شروع میں درست سمجھتا ہے۔
’جذباتی بے وفائی کرنے والوں کا یہ ارادہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا ساتھی اسے اہمیت نہیں دیتا یا ان کو وقت نہیں دیتا، تو وہ اس کی تلاش کہیں اور کریں گے۔ وہ کسی ایسے تعلق کو قائم کریں گے جس میں ان کو جذباتی سہارا حاصل ہو اور وہیں سے نئے خیالات جنم لے سکتے ہیں۔‘
تاہم کئی لوگوں کے لیے ایسے تعلقات صرف قربت اور سہارا ہی ہوتے ہیں جس میں ان کو ایک شخص پر ہمیشہ کے لیے انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ ایک تعلق کے علاوہ دوستیاں ہونا ایک مثبت چیز ہے جو انسان کی زندگی بہتر بنا سکتی ہیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ تعلق ایسی نہج پر پہنچ جائے جو ہمارے پارٹنر کو ناگوار گزرے۔
کوہن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جذباتی بے وفائی کی وجہ پارٹنرز کے درمیان فاصلے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
’اگر کوئی ایک تعلق میں پہلے ہی ناخوش ہے تو ممکن ہے کہ وہ زندگی سے کچھ اور چاہتے ہوں اور اپنے جیسی خواہشات، مقاصد رکھنے والے سے قریب ہو جائیں۔ شروع میں بے ضرر محسوس ہونے والا یہ تعلق ایک جذباتی لگاؤ میں بدل سکتا ہے۔‘
جیننگ کا ماننا ہے کہ ایسی مشکل سے نکلنے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی جوڑا کتنا کھل کر اس موضوع پر بات چیت کرتا ہے اور حدود کا تعین کر لیتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں مسائل اس وقت شروع ہوتے ہیں جب تعلق اور لگاؤ کی تعریف پر ان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں۔‘
شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اب اس معاملے پر لوگ زیادہ کھل کر بات کر رہے ہیں تاہم اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ اگر آپ کا لگاؤ چیٹنگ کے زمرے میں آ رہا ہے تو آپ کا رشتہ متاثر ہو گا۔
جیننگ کا کہنا ہے کہ ’زندگی کے ساتھی کو وضاحت اور حدود درکار ہوتی ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ وہ ان کا تعین خود سے ہی کر لیں۔‘












