نوکری بدلنے کا بڑھتا ہوا رجحان فائدہ مند ہے یا پھر نقصان دہ؟

نوکری

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI

    • مصنف, الیکس کرسچیئن
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف

گذشتہ 18 ماہ میں اینا تین نوکریاں بدل چکی ہیں۔ ہر تبدیلی کے ساتھ انھوں نے زیادہ ہائی پروفائل کلائنٹس کے ساتھ کام کیا، بہتر تجربہ اور ہنر حاصل کیا جس کے باعث ان کو مارکیٹ میں ایک ایسا مقام حاصل ہے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

اس تیز رفتار تبدیلی کا ایک اور فائدہ بھی ہوا ہے۔ ان کی تنخواہ قلیل عرصے میں 30 فیصد بڑھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میں نوکری نہیں بدلتی تو میں اس پوزیشن میں نہیں ہوتی۔‘

’میں نے ایک چھوٹی سٹارٹ اپ سے آغاز لیا اور تیزی سے اپنا مقام بنایا۔ ہر جگہ پہلے سے بہتر پوزیشن ملی اور اگر میں ترقی کا انتظار کرتی تو میری تنخواہ اتنی نہیں ہوتی۔‘

اینا، جن کا مکمل نام ان کے کیریئر کے حوالے سے تحفظات کی وجہ سے نہیں لیا گیا، کہتی ہیں کہ ان کو جب بھی بہتر موقع ملا، انھوں نے نوکری بدل لی چاہے وہ کسی اور انڈسٹری میں ہی کیوں نہ تھی۔

’مجھے لگا کہ اگر مجھے کسی کام سے بہت زیادہ لگاؤ نہیں ہے تو پھر خوامخواہ ایک ہی جگہ پر برسوں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

’اگر مجھے بہتر کام اور ترقی ملے تو پھر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں ایک کمپنی میں کتنا عرصہ گزارتی ہوں۔‘

اینا اکیلی نہیں ہیں۔ ان جیسے بہت سے لوگ اب روایتی کیریئر کی ترقی کی سیڑھی کا راستہ چھوڑ کر ایک سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں۔

لیکن ان کو بری نظر سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں نوکری بدلنا برا سمجھا جاتا تھا اور انڈسٹریل ماہرین نفسیات نے اسے ہوبو سنڈروم کا نام دیا تھا۔ پرانے ورکرز سمیت ایگزیکٹیوز کا ماننا تھا کہ ایک ہی مقام پر کیریئر بنانا ہی پیشہ ورانہ زندگی کا خاصہ تھا۔

اب یہ خیالات شاید دقیانوسی ہو چکے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں کمپنیاں ملازمین سے اتنی وفادار نہیں رہیں، نوکری بدلنے والے ہی فائدے میں رہتے ہیں کیوں کہ ان کی تنخواہ اور کیریئر دونوں تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ راستہ پائیدار بھی ہے اور کیا ایسا کرنے والوں کو اس کا کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے؟

سوچ میں تبدیلی

تک ایک نئی ذہنیت پنپ چکی تھی جسے جاپ ہاپنگ یا نوکری کی تبدیلی کا نام دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1980 تک ایک نئی ذہنیت پنپ چکی تھی جسے جاپ ہاپنگ یا نوکری کی تبدیلی کا نام دیا گیا

ماضی میں یہ تصور موجود تھا کہ جب آپ کسی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں تو آپ کی وفاداری کا تنخواہ اور ترقی کی شکل میں فائدہ ہو گا۔ لیکن 1980 کی دہائی میں یہ تصور ٹوٹنا شروع ہو گیا۔

کرسٹوفر لیک امریکہ کی الاسکا اینکوریج یونیورسٹی میں مینیجمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر ملازمین نکال کر پیسہ بچانا شروع کر دیا۔ ’لوگوں کو لگا کہ ان کی نوکری تو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔‘

لیک کہتے ہیں کہ اس کے بعد مارکیٹ میں نوکری بدلنا معمول بننا شروع ہو گیا۔ 1990 تک ایک نئی ذہنیت پنپ چکی تھی جسے جاپ ہاپنگ یا نوکری کی تبدیلی کا نام دیا گیا۔

اپنی ترقی کسی ایک کمپنی کے ہاتھ میں سونپنے کی بجائے کئی لوگوں نے سوچا کہ وہ اپنا کیریئر اپنے ہاتھ میں لیں اور انھوں نے ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں چھلانگ لگانے کا راستہ اپنایا جس سے ان کو نئے ہنر اور نئے مواقع ملیں۔

اب ایک نیا رواج، جس میں لیک کے مطابق ہر سال ایک بار نوکری بدل لی جاتی ہے، زور پکڑ رہا ہے جس کے پیچھے نوجوان نسل ہے۔

امریکی بیورو برائے لیبر اعدادوشمار کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ 34 سال سے کم عمر ملازمین زیادہ جلدی نوکری بدلتے ہیں۔ جنوری 2020 میں 20 سے 24 سال کے ملازمین نے تقریبا ایک اعشاریہ تین سال میں نوکری بدلی جب کہ 35 سے 44 سالہ افراد میں چار اعشاریہ نو سال کے بعد نوکری تبدیل کرنے کا رواج دیکھنے کو ملا۔

استعفوں کی لہر اور اس سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد یہ رواج اور بھی مضبوط ہوا ہے۔

فروری 2020 میں لنکڈ ان کی تحقیق میں 20000 امریکی شہریوں سے بات چیت کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ جنریشن زیڈ یعنی 1990 کی دہائی کے اواخر سے سنہ 2000 کی شروعات تک پیدا ہونے والے 25 فیصد اور ملینیئلز یعنی 1980 سے 1990 کی دہائی تک پیدا ہونے والے 23 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنی موجودہ نوکری اگلے چھ ماہ میں چھوڑنے کا ارادہ یا امید رکھتے ہیں۔

لیک کہتے ہیں کہ زیادہ مواقع ہونے کی وجہ سے ملازمین کے پاس اب نوکری بدلنے کے بھی بہتر مواقع موجود ہیں۔ نوکری بدلنے کے لیے زیادہ مواقع کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔

تاہم لیک کہتے ہیں کہ کام کی جانب رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیریئر کے معنی لوگوں کے لیے بدل رہے ہیں۔ روایتی ماڈل یہ تھا کہ آپ ایک کمپنی کے لیے کام کرتے تھے جو یہ طے کرتی تھی کہ آپ کی ترقی کیسے ہو گی۔ آج لوگ خود مختار ہیں اور اپنے کیریئر کی باگ دوڑ خود سنبھالنا چاہتے ہیں۔‘

جلد نوکری بدلنا کب کام دیتا ہے

لارن تھامس کے مطابق نوکری بدلنا تنخواہ میں اضافے کا آسان ترین راستہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلارن تھامس کے مطابق نوکری بدلنا تنخواہ میں اضافے کا آسان ترین راستہ ہے۔

کئی کیسز میں جب لوگ نوکری بدلتے ہیں تو اس کے باعث ان کو کیریئر میں بھی ترقی ملتی ہے۔

لیک کے مطابق نئی نوکری کے ساتھ لوگ نیا ہنر حاصل کرتے ہیں، نیا علم سمیٹتے ہیں جو مستقبل کے کام میں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس وسیع تجربہ ہوتا ہے اور ان کو اسی وجہ سے مختلف کمپنیوں اور کرداروں میں بہتر مواقع بھی مل سکتے ہیں۔

لارن تھامس لندن میں کمپنی ریویو ویب سائٹ گلاس ڈور کی یورپپی ماہر معیشت ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ملازمین اکثر ترقی کی سست رفتاری کی وجہ سے کمپنی چھوڑتے ہیں۔ ’نئی نوکری پر منتقل ہونا تیز رفتار عمل ہے اور کیریئر میں ترقی کا آسان راستہ بھی۔‘

اس عمل کے نیتجے میں اکثر معاشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ برطانیہ کے قومی اعدادوشمار کے دفتر کے ڈیٹا کے مطابق کسی بھی جگہ کام شروع کرنے والے اگر ایک سال کے اندر نوکری بدل لیں تو ان کو ایسے لوگوں کے مقابلے میں فی گھنٹہ زیادہ بہتر تنخواہ ملتی ہے جو اسی جگہ کام کرتے رہتے ہیں۔ 16 سے 24 سال کی عمر کے لوگ سب سے زیادہ تنخواہ میں اضافہ حاصل کرتے ہیں۔

امریکہ میں 2021 میں 18 لاکھ ملازمین کے تجزیے میں ثابت ہوا کہ نوکری بدلنے والوں کی تنخواہ زیادہ تیزی سے بڑھی۔ کچھ انڈسٹریز میں تقریبا 12 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

لارن تھامس کے مطابق نوکری بدلنا تنخواہ میں اضافے کا آسان ترین راستہ ہے۔ ’اگر آپ ایک ہی جگہ زیادہ دیر تک کام کرتے رہیں تو کچھ عرصے بعد باقی اندسٹری کی نسبت آپ کم تنخواہ پر کام کر رہے ہوں گے جبکہ نئی نوکری کا مطلب ہے کہ آپ کو مارکیٹ کا نیا ریٹ فوری مل رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نوکری بدلنے کا نقصان کب ہوتا ہے

تاہم نوکری بدلنے کا ایک نقصان اس سے جڑا وہ رویہ ہے جو قدرے پرانے اور سینیئر کام کرنے والے آج بھی رکھتے ہیں۔

لیک کہتے ہیں کہ نوکری بدلنے کو ملازمین اور کمپنی کے لوگ جیسا کہ ایگزیکٹیو اور باسز بلکل مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ کسی نئے ملازم کو بھرتی کرنے میں صرف وقت، پیسہ اور توانائی ضائع ہونے کا غصہ بھی ہے جب وہ ملازم کچھ ہی عرصے میں کمپنی چھوڑ جاتا ہے۔

لیکن اس رویے کی ایک وجہ نسل کے درمیان سوچ کا فرق بھی ہے۔ ایک ہی کمپنی میں دہائیاں بتا دینے والے لوگ، جو اعلی عہدوں پر پہنچ چکے ہیں، اکثر ان کمپنیوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے زیادہ نوکریاں بدلنے والا خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے لیکن بحرانی کیفیت میں اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن جب مارکیٹ میں جگہ نہیں ہو گی تو پھر کمپنی کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ زیادہ جلد حرکت کرنے والے کو نہ رکھیں، ایسے میں اس طرح کے امیداروں کے لیے نئی نوکری تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب ایسے ملازمین جو لمبے عرصے تک نوکری بدلتے رہتے ہیں آخرکار ایک دیوار کا سامنا کرتے ہیں جس کے بعد ان کے پاس محدود کیریئر مواقع باقی رہ جاتے ہیں۔ لیک کہتے ہیں کہ ’جتنا زیادہ عرصہ آپ نوکری بدلتے رہیں گے، آپ کہیں نہ کہیں درخواست دے رہے ہوں گے اور آخر کار آپ کا سامنا ایک ایسے مینیجر سے ہوگا جو اسی وجہ سے آپ کو نہیں رکھنا چاہے گا کہ آپ زیادہ عرصہ ان کے پاس نہیں ٹکیں گے۔‘

ایک نوکری سے دوسری پر چھلانگ لگانے والوں میں ایک نفسیاتی مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ جب ایسے کسی فرد کو محسوس ہوتا ہے کہ مسائل بڑھ رہے ہیں تو ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے وہ نوکری بدلنے کو ترجیح دے گا جس سے طویل المدتی کیریئر خطرے کا شکار ہو سکتا ہے۔

لارن تھامس کہتی ہیں کہ ’ایک ایسا فرد جو بار بار نوکری بدل رہا ہے، اس کے بارے میں یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ وہ تو کہیں اتنی دیر رہا ہی نہیں کہ کوئی نیا ہنر ٹھیک سے سیکھ سکتا اور اس تاثر سے کیریئر متاثر ہو سکتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ نئے آجر کو اپنی پرانی نوکری کی کامیابیاں گنوا سکیں۔‘

برطانوی ڈیٹا جہاں یہ ثابت کرتا ہے کہ نوکری بدلنے والے بہتر تنخواہ پاتے ہیں لیکن اسی ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمومی طور پر طویل مدت تک ایک ہی جگہ کام کرنے والوں کے مقابلے میں ان کی تنخواہ اب بھی کم ہے۔

ایک کمپنی میں آہستہ آہستہ تجربہ اکھٹا کرنے کی بجائے نوکری بدلنے والے اکثر ایک ایسے گول چکر میں پھنس جاتے ہیں جہاں ان کو بار بار ایک نوکری چھور کر نئے سرے سے شروعات کرنا پڑتی ہیں۔

لیک کہتے ہیں کہ ’اس کا نفسیاتی اثر ہوتا ہے کیوں کہ کچھ عرصے بعد ایسے افراد کو لگتا ہے کہ اب ان کو یہ نوکری پسند نہیں رہی تو وہ اگلی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں اور یہ عمل ذہن کو تھکا دیتا ہے۔‘

درست قدم کیا ہے

لیک کا ماننا ہے کہ درست وقت پر درست فیصلہ نہایت اہم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلیک کا ماننا ہے کہ درست وقت پر درست فیصلہ نہایت اہم ہے۔

لارن تھامس کا ماننا ہے کہ اب نوکری بدلنا ایک ناپسندیدہ عمل نہیں رہا۔ لیکن کیا ایسے لوگوں کو انڈسٹری اپناتی ہے یا نہیں اس کا انحصار انڈسٹری کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

انھوں نے ایک مثال دی جہاں کسی بھی درخواست میں کئی کمپنیوں میں کام کے تجربے کی امید کی جاتی ہے۔ ’وہ اس کو ایک متنوع تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں، نا کہ اعتماد کی کمی کے طور پر۔‘

لیکن ایسے سیکٹر بھی ہیں جہاں ایسے لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب تک نوجوان نسل ایسے مقام تک نہیں پہنچ جاتی کہاں وہ خود ملازمین رکھنے کی پوزیشن میں آجائیں، پرانے مینیجرز ایسے افراد کو ہی ترجیح دیں گے جو ان کے خیال میں کمپنی سے وفادار رہیں گے۔

اس کے باوجود نوکری بدلنے سے جڑے چند حقائق اہم ہیں جن سے کیریئر میں ایسی چھلانگ لگائی جا سکے جو ملازمین کو بہتر مقام تک جلدی پہنچنے میں مدد دے۔

لیک کا ماننا ہے کہ درست وقت پر درست فیصلہ نہایت اہم ہے اور نوکری میں تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک مسئلے کو چھوڑ کر دوسرے کو اپنا لیں۔

وہ کہتیے ہیں کہ اگر کوئی گزشتہ پانچ دس سال سے مسلسل نوکری بدل رہا ہے تو پھر ان کو سوچنا چاہیے کہ کیا ان کا اگلا قدم واقعی ان کے کیریئر کے لیے فائدہ مند ہو گا یا نہیں۔

اسی لیے نوجوان ملازمین کے کیرئر کے آغاز میں نوکری بدلنے کا بہترین موقع ہوتا ہے جب ان کو اس کا مالی فائدہ بھی ہوتا ہے۔

اینا جانتی ہیں کہ نوکری بدلنے کا عمل ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ان کو امید ہے کہ ان کی اگلی نوکری کے بعد یہ سلسہ تھم جائے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری گزشتہ نوکریوں پر ترقی کے مواقع دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور مجھے سوچنا پڑا کہ شاید مجھے تین چار سال میں ترقی ملے وہ بھی اگر میری قسمت اچھی ہے تو۔ اور اسی لیے میں نے نوکری بدلی۔‘

لیک کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنیاں کسی ملازم کی وفاداری کا انعام نہیں دیتیں، نوکری بدلنے کا رواج قائم رہے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی ملازم یہ خود سے نہیں سوچ سکتا کہ کمپنی اس کا خیال رکھے گی۔ ترقی کے مواقع، کامیابی اور ٹریننگ جیسے عمل ملازمین کو کسی بھی کمپنی میں زیادہ عرصے تک رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن آگے بڑھنے کے لیے اور بہتر کیرئر کے لیے ملازمین کو خود محنت کرنی پڑتی ہے اور جاب مارکیٹ میں حرکت میں رہنا پڑتا ہے۔‘