خواتین کو ترقی کے لیے مردوں سے زیادہ محنت کیوں کرنی پڑتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
- مصنف, کیٹی بشپ
- عہدہ, بی بی سی، ورک لائف
فیس بک کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر شیرل سینڈ برگ نے 2013 میں اپنی کتاب ’لین ان‘ میں دعوی کیا تھا کہ زیادہ تر مرد اگر 60 فیصد شرائط بھی پوری کرتے ہوں تو وہ نوکری کے لیے اسامی پر درخواست دے دیتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں خواتین صرف اسی صورت میں درخواست دیتی ہیں جب انھیں یقین ہو کہ وہ اس نوکری کے لیے دی جانے والی 100 فیصد شرائط پر پوری اترتی ہیں۔
اس دعوے کو بعد میں اس وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا کیوںکہ یہ اعداد و شمار کی بجائے سنی سنائی کہانی کی بنیاد پر کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود شیرل سینڈ برگ کا یہ دعویٰ مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔
اس دعوے کو درجنوں سوشل میڈیا پوسٹس اور کتابوں سمیت ہر ایسے وقت میں دہرایا جاتا ہے جب یہ ثابت کرنا مقصود ہو کہ مرد کی صلاحیت کی قدر کسی عورت کی صلاحیتوں کے مقابلے میں زیادہ کی جاتی ہے۔
اس خیال نے لوگوں کے دلوں میں ایسے گھر کر لیا ہے کہ انھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر لوگ حقیقی زندگی میں ایسا ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
حال ہی میں کی جانے والی تحقیق عندیہ دیتی ہے کہ یہ خیال خواتین کے ذہنوں میں کیوں پنپ رہا ہے کہ ان کی صلاحیت کی قدر مردوں کی صلاحیتوں کے مقابلے میں کم کی جاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق عام طور پر خواتین کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں مردوں کی نسبت کم ہیں اور اسی وجہ سے کسی مرد کی نسبت ان کی سالانہ ترقی کے امکانات 14 فیصد کم ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس تحقیق کے دوران شمالی امریکہ کی ایک بڑی ریٹیل چین کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں ثابت ہوا کہ خواتین کو بہتر کارکردگی کے باوجود عموماً کم سکور دیا جاتا ہے۔
اسی سکور کے ذریعے مینیجر کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی کام کرنے والے میں مستقبل میں آگے بڑھنے کی کتنی صلاحیت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کسی بھی کام کی جگہ پر یہ ایک پیچیدہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کس کو ترقی دینی ہے اور کس کو نہیں۔ ایسے امیدواروں کو نہ صرف موجودہ نوکری پر مضبوط کارکردگی دکھانی ہوتی ہے بلکہ مینیجرز کو اس بات کا بھی اعتماد ہونا چاہیے کہ یہ امیدوار بہتر پوزیشن پر بھی کارکردگی دکھا سکیں گے۔
لیکن صلاحیت دکھانا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جس معیار پر کارکردگی کو جانچا جاتا ہے اس میں بھی تعصب کی گنجائش ہوتی ہے جس کا نقصان اکثر خواتین کو ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس سارے معاملے میں مینیجرز ہی اصل ذمہ دار ہیں جن کے تعصبات انھیں خواتین کو بطور رہنما دیکھنے سے روکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دراصل خواتین ہی اس معاملے میں پیچھے رہتی ہیں کیوں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی رونمائی نہیں کر پاتیں۔
لیکن حقائق اور صلاحیت کے اس مسئلے کا تعلق صرف اور صرف کام کی جگہ سے نہیں اور ایسے معاملے کو سلجھانا بھی آسان نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ چند سال کے دوران ایسے کئی شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عموماً یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ ایک مرد میں عورت کے مقابلے میں زیادہ قائدانہ صلاحیت ہے۔
سنہ 2019 میں ایک تحقیق کے دوران 200 افراد نے حصہ لیا جس میں ایک فرضی ٹیکنالوجی کمپنی کے ڈائریکٹر کی اسامی کے لیے انھیں چند درخواستیں دی گئیں۔ ان افراد میں سے نصف نے امیدوار کے ماضی کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا جبکہ باقی نصف نے اس کی صلاحیتوں کا۔
تحقیق کرنے والوں نے ایک مخصوص چیز نوٹ کی کہ تحقیق میں شریک افراد نے جب بھی صلاحیت پر زور دیا تو انھوں نے تسلسل سے مرد امیدوار کو ترجیح دی۔
دوسری جانب خواتین امیدواروں کے معاملے میں بلکل الٹ ہوا اور ان کو جانچنے کا پیمانہ تو اونچا رکھا گیا لیکن ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
صلاحیت سے متعلق تعصب
فیلکس ڈین بولڈ یونیورسٹی کالج لندن کے سکول آف مینیجمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر کسی بھی لیڈر سے چند مخصوص چیزیں منسلک کی جاتی ہیں جیسا کہ خود اعتمادی اور قوت جو مردانہ صلاحیتوں سے بھی جوڑی جاتی ہیں۔
فیلکس نے معاشرے کے غالب گروہوں پر کام کی جگہ پر تنوع میں اضافے کا بغور جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرد ویسے ہی زیادہ تر لیڈر شپ کردار رکھتے ہیں اور اسی لیے لوگوں کے لیے کسی مرد کو قائدانہ کردار میں تصور کرنا آسان ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی مرد لیڈر کے مقابلے میں عورت کو ہمیشہ شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکہ میں خواتین افرادی قوت کا تقریباً نصف ہیں لیکن اس کے باوجود سی سویٹ (ایگزیکٹیو لیول) پر ان کا حصہ صرف 21 فیصد ہے۔ اس مقام تک پہنچنے میں خواتین کے لیے مشکلات کی وجہ پیچیدہ ہے۔
مرد کے مقابلے میں ایک عورت کام کے دوران طویل وقفہ کر سکتی ہے کیوںکہ اسے گھر کا یا بچوں کا خیال کرنا ہوتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی عورت سینیئر پوزیشن پر ترقی کا شروع میں سوچتی بھی کم ہے چاہے وہ ان کی اپنی کمپنی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ان کے ساتھ ہی ساتھ صلاحیت کا تعصب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
فیلکس کا کہنا ہے کہ ہائرنگ مینیجیر چاہے جتنا بھی سوچ بچار کر لیں، آخر میں انھیں اپنے ہی ذہن کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور بات بالآخر یہیں آ کر رکتی ہے کہ ان کے لیے کسی بھی عورت کو بطور لیڈر دیکھنا مشکل ہوتا ہے کیوںکہ ان کے اردگرد ایسی مثالیں ہی بہت کم ہوتی ہیں۔
اگر کچھ دیر کے لیے اس بات کو ایک طرف رکھ دیں کہ کمپنیاں عورتوں کی صلاحیت کو نظر انداز کرتی ہیں تو کئی ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خواتین خود کو بھی کمتر سمجھتی ہیں۔
شیرل سینڈ برگ کا دعویٰ درست نہ بھی ہو تو ایسے اعداد و شمار موجود ہیں جن کے مطابق کسی بھی ترقی کے لیے خواتین اپنا نام دینے میں دقت محسوس کرتی ہیں۔
’خواتین اپنے کام کی رونمائی نہیں کر پاتیں‘
اعداد و شمار کے مطابق خواتین اپنے کام کی رونمائی نہیں کر پاتیں اور اپنی کارکردگی کو ایک ایسے مرد کے مقابلے میں تینتیس فیصد کم گردانتی ہیں جو ان جتنا ہی کام کرتا ہے۔
دوسری جانب خواتین مینیجرز میں بھی خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور انھیں اس عہدے سے اوپر ترقی کی امید کم ہی ہوتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ہائرنگ مینیجرز افرادی قوت میں شامل خواتین کی صلاحیتوں کو نظر انداز کر رہے ہوں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عورت اپنی صلاحیتوں کے بارے میں اتنی بات نہیں کر رہی جتنا ان کے مرد ساتھی کرتے ہیں۔
سوکی ساندھو برطانیہ میں تنوع کی ماہر ہیں اور آڈیلس اور انوالو کی سی ای او ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشری رویوں کی وجہ سے کسی بھی رول کے لیے درخواست دیتے ہوئے خواتین پراعتماد نہیں ہوتیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی مضبوط صلاحیتوں کا ذکر کریں، وہ ان صلاحیتوں کا ذکر کرتی ہیں جن کا ان میں فقدان ہوتا ہے۔
ان کے مطابق خواتین کو یہ پریشانی بھی لاحق ہوتی ہے کہ کہیں ان سے ان کی صلاحیتوں کا ثبوت نہ مانگ لیا جائے جبکہ ان کے مرد ساتھی اس معاملے میں زیادہ پر اعتماد ہوتے ہیں۔
زوئی چانس ییل یونیورسٹی آف مینیجمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ خواتین کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے کی مثال کے طور پر وہ سیاست کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
عام طور پر کسی بھی مقابلے میں نوجوان مرد امیدوار کا نظر آنا عام سی بات ہے لیکن خاتون سیاست دان جلدی اس کیریئر کا حصہ نہیں بنتیں۔
چانس کے مطابق ایسا اس لیے ہے کیوں کہ خواتین کو تجربہ، کامیابیاں اور پہچان بنانے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے تاکہ ان کو بھی ایک موزوں امیدوار کے طور پر دیکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ ووٹر اور سیاست دان بھی ہائرنگ مینیجرز کی طرح ہی سوچتے ہیں۔ خواتین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ریکارڈ کی بنا پر سیاست میں حصہ لیں جب کہ مرد صرف اپنے خیالات کے زور پر الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں کہ ہم جتنے بھی نوجوان سیاست دان منتخب کرتے ہیں وہ مرد ہی ہوتے ہیں۔
مسئلے کا حل کیا ہے؟
خواتین میں قائدانہ صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے کی بنیاد دہائیوں میں بننے والے معاشرتی رویے اور تعصبانہ سوچ ہے۔ کیا ان کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
چانس کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے تعصب کو دور کرنے کی بجائے سسٹم میں موجود تعصب کو کم کیا جائے لیکن اس کے لیے بہت وقت درکار ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین تنخواہ میں اضافے اور ترقی کا مطالبہ کم کرتی ہیں اور انھیں ایسا کرنے کا خیال بھی دیر سے آتا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ مینیجرز ان کی جانب سے ایسا سوال ہونے کا انتظار نہ کریں۔
یہ تصور کہ خواتین خود ہی ترقی کی ریس سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں یا اپنی کارکردگی کی رونمائی نہیں کر پاتیں اس معاملے کے حل کے لیے خواتین پر ہی توجہ مرکوز کر دیتا ہے۔
اس کی بجائے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے کہ خواتین ترقی کے لیے آگے بڑھنے سے کیوں ہچکچاتی ہیں اور کمپنیاں ایسا کیا کر سکتی ہیں جس سے ان کو بھی یقین ہو کہ ان کی کارکردگی کو بھی منصفانہ طریقے سے جانچا جائے گا۔
اس سارے معاملے میں اصل چیز ہمارے رویے ہیں جو کسی بھی قائدانہ کردار میں خواتین کو دیکھنے سے روکتے ہیں اور ان کو بدلنا ہی اصل چیلنج ہے جو ایک سست رفتار تبدیلی ہو گی۔
سوفی ملیکین ایمبیشن ایکسیلیریٹر نامی کتاب کی مصنفہ اور برطانیہ میں ریکروٹمنٹ ایکسپرٹ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کمپنیاں ایسے قدم اٹھا سکتی ہیں جن سے ان کی افرادی قوت میں شامل خواتین کی مدد ہو سکے اور صلاحیت کے معاملے پر بیانیے کو از سر نو لکھا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو ان کے کریئر کے اولین حصے میں مدد دینے پر غور کرنا ہو گا جس کے دوران ایسے پروگرامز ترتیب دیے جا سکتے ہیں جو خاص طور پر خواتین کے لیے بنائے جائیں۔
اس کے علاوہ ان کے خیال میں ان پروگرامز کے تحت خواتین کے لیے اچھے سینیئرز کی ذاتی رہنمائی بھی ضرروی اور مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہائرنگ مینیجیرز کو بھی ایسی تربیت دی جا سکتی ہے جس سے انھیں اپنے تعصبات کو چیلنج کرنے میں مدد ملے اور وہ ایک بہتر اور خود مختار سسٹم بنا سکیں جس کے تحت ہائرنگ اور ترقی کا عمل بہتر ہو سکے۔
اس وقت یہ مسئلہ ایک گول دائرے میں گھوم رہا ہے جہاں لوگ خواتین کو بڑی پوزیشنز پر نہیں دیکھ رہے، اسی وجہ سے ان کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ خواتین اچھی رہنما ثابت ہو سکتی ہیں۔
کمپنیاں اوپر کی سطح پر مزید خواتین کی شمولیت سے یہ ثابت کر سکتی ہیں کہ ان کی خواتین ساتھی بھی صلاحیت رکھتی ہیں اور جب وہ ایک بار اس جگہ پہنچ جائیں گی تو اگلی نسل کے لیے اس مقام تک رسائی آسان ہو جائے گی۔












