سی ای او سیکرٹس: وہ خصوصیت جو خواتین کے کیریئر کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAnna Brailsford
- مصنف, ڈگلس شا
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
کمپنیوں کے سربراہوں کے رازوں کے حوالے سے ہماری سیریز کے حصہ کے طور پر ’کوڈ فرسٹ گرلز‘ کمپنی سے وابستہ اینا بریلزفورڈ ان خصوصیات کے بارے میں بات کرتی ہیں جو ان کے خیال میں عورتوں کے کیریئر کی ترقی کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور اینا اس مسئلے سے نمٹنے کا راستہ بھی بتاتی ہیں۔
اینا بریلزفورڈ سنہ 2019 میں کوڈ فرسٹ گرلز کی سربراہ بنی تھیں۔ ان کی کمپنی عورتوں کا انتخاب کرتی ہے اور پھر انھیں سوفٹ ویئر کے استعمال کی مفت تربیت دیتی ہے اور پھر ان خواتین کا گولڈمین سیکس، بینک آف امریکہ اور گوگل جیسی کمپنیوں میں ملازمت دلوانے کے لیے رابطہ کرواتی ہے۔
سنہ 2015 سے اس کمپنی نے صرف برطانیہ میں 28000 عورتوں کو تربیت دی ہے۔
برایلزفورڈ کہتی ہیں کہ ’میں کوڈ فرسٹ گرلز کی اس کمیونٹی کو دیکھتی ہوں، یہ عورتیں مکمل طور پر کاملیت (پروفیکشن ازم) پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اپنے آپ کو بہت ہی اعلیٰ میعار سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ میں بھی ایسی ہی ہوتی تھی اس لیے میں ان کو کوئی الزام نہیں دوں گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے اپنے آپ کو تبدیل کیا کیونکہ انھیں احساس ہوا کہ کاملیت حقیقت میں آپ کی ترقی کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے، چاہے آپ بورڈ روم میں ہوں یا پہلی بار کوڈ سیکھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ایک کاروباری خاتون یا (کاروباری رہنما) کی حیثیت سے آپ ناکامی کے خوف کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو اپنی آرام دہ جگہ سے دور رکھنا اور مزید خطرے کو قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔‘
بریلز فورڈ اپنے معاملے میں سوچتی ہیں کہ اس خصوصیت کے اسباب کو ہم اپنے بچپن کے حالات میں ہی تلاش کر سکتے ہیں۔
’میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ اپنا بہت زیادہ موازنہ کرتی تھی۔ اگر وہ اپنے کسی کام میں ناکام ہوتا تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی، وہ نظرانداز کر دیتا، اٹھتا اور دوبارہ کوشش کرتا لیکن میں ناکامی پر اپنے آپ کو کوسنا شروع کر دیتی تھی۔ یہ سوچ مجھے پریشان کرتی، یہ مجھے کھا جاتی تھی۔ یہ ایک مختلف قسم کی نفسیات ہے۔ اس سے مجھے جذباتی طور پر آگے بڑھنا مشکل محسوس ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہCode First Girls
’تیزی سے ناکام ہو‘ اور پھر اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا سلیکون ویلی کا ابتدائی دور سے ہی ایک منترا ہے۔ بریلزفورڈ کا خیال ہے کہ خواتین کو خاص طور پر اس سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو ’زیادہ معاف کرنے‘ کی تربیت دی تاکہ وہ اپنے کام کو کاملیت سے تکمیل تک پہنچانے کی بجائے اسے مکمل کرنے پر توجہ دے سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں کچھ ایسا کرتی ہوں جس سے ہر دن میں کم از کم ایک بار اپنے آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکالوں۔ اس سے دو احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک اضطراب اور ایک ایڈرینالائن۔ آہستہ آہستہ آپ کو ان احساسات سے لطف اٹھانا آجاتا ہے۔‘
خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت سی خواتین سربراہوں کی طرح، بریلزفورڈ کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں تھا تاہم وہ اتنی خوش قسمت ضرور تھیں کہ گھر میں اور گھر کے قریب ہی ان کی پرورش ہوئی۔
وہ اور ان کے بھائی کی پرورش صرف ان کی والدہ نے کی جنھوں نے صحت اور سماجی نگہداشت کے شعبے میں ایک ایجوکیشن ٹیکنالوجی کا آغاز کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAnna Brailsford

بریلزفورڈ کا کہنا ہے کہ ’میری والدہ مجھے احساس دلائے بغیر بھی رات کے کھانے کے وقت مجھے کاروبار کی ساری بنیادی باتیں سکھا رہی ہوتی تھیں۔‘
بریلزفورڈ یونیورسٹی سے چھٹی کے دن اکثر اپنی ماں کو اپنے کاروبار میں مدد دیتی تھیں، لہذا انھوں نے پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اور لائسنس کی طرح ٹیک کمپنی چلانے کی بہت ساری تدابیر سیکھیں۔
لیکن شاید اس سے زیادہ اہم بات سماجی مہارتیں اور دیگر گہری بصیرتیں سیکھنا اور سمجھنا تھا جو انھوں نے اپنی والدہ سے سیکھیں اور سمجھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایسی چیزیں جو اب جبلت کا حصہ محسوس ہوتی ہیں، مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ماں کو دیکھ دیکھ کر بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں نے یہ سمجھا کہ کاروباری دنیا میں عورت ہونا کتنا مشکل ہے، آپ کو سخت جدوجہد کرنی ہو گی۔‘
’انھوں نے ہمیشہ مجھے بتایا کہ آپ کو اپنے مرد ہم منصبوں سے 10 گنا زیادہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے، لہذا جب مجھے اس قسم کا کردار ملا تو مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔‘
بریلزفورڈ کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح عددی طور پر کم کاروباری خواتین کو سرمایہ کاری کے حصول میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کو کس قسم کی مشکلات درپیش آتی ہیں۔
ایک حالیہ رپورٹ میں سنہ 2009 اور سنہ 2019 کے درمیان برطانیہ میں وینچر کیپٹل فنڈز کی تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کی سرمایہ کاری کا تقریباً 70 فیصد ایسی کمپنیوں کو ملا جن میں تمام افراد مرد تھے اور وہ صرف تین فیصد سے کم خواتین کی ٹیموں کے پاس گیا۔ یہ ایک ایسا نمونہ ہے جو دیگر تحقیقات میں بھی دیکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہCode First Girls
بریلزفورڈ کی کمپنی کوڈ فرسٹ گرلز میں تربیت سپانسر کرنے والی اور بھرتی کرنے والی کمپنیاں دونوں کا ملا جُلا کام ہے، یہ کمپنی منافع کے لیے کام نہیں کرتی۔ یہ برطانیہ میں آئی ٹی کی مہارت کی کمی کو دور کرتی ہے جبکہ خواتین کو مکمل کیریئر تلاش کرنے میں مدد بھی فراہم کرتی ہے۔
یہ ان کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہے جو کورسز کو سپانسر کرتی ہیں اور پھر ان کے ہاں ملازمتوں کی خالی آسامیوں پر اچھی تربیت یافتہ عورتوں کو نوکریاں دلوانے میں مدد دیتی ہیں جس کے لیے انھیں ادائیگی کی جاتی ہے۔
تربیتی کورسز سپانسر کرنے والی یہ کمپنیاں زیادہ خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دینا پسند کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرسکیں اور اپنی خاتون صارفین سے زیادہ ہم آہنگ ہو سکیں۔
لیکن ان کمپنیوں کو اکثر خواتین امیدواروں کی تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے کیونکہ بہت کم خواتین کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
بریلزفورڈ کا خیال ہے کہ کاروباری ثقافت اب جدید سے جدید ہو رہی ہے اور بورڈ روم کی سطح پر صنفی تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس میں کوڈ فرسٹ گرلز جیسی تنظیمیں مدد کر سکتی ہیں لیکن ابھی انھیں بڑی لڑائیاں لڑنا ہوں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اب بہت سی سرمایہ کاری ٹیکنالوجی کی دنیا میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو قائدانہ عہدوں پر فائز کرنے کے شعبے میں کی جارہی ہے۔
تاہم ان کا خیال ہے کہ تبدیلی کے اس کام کو عورت دشمن ’زہریلے لڑکوں کے کلب‘ کی روایات سے چھٹکارا دلوانا ہے جو اب بھی کاروباری دنیا کے کچھ علاقوں میں موجود ہے۔
’اگر اب بھی وہ موجود ہیں تو جو خواتین اوپر پہنچی ہیں انھیں بھگا دیا جائے گا اور ہمیں دوبارہ سے کام شروع کرنا پڑے گا۔‘












