بی بی سی کی 100 خواتین: ملالہ یوسفزئی اور عابیہ اکرم سے 50 افغان خواتین تک، 2021 کی فہرست میں کون کون شامل ہے؟

100 Women 2021 app launcher

بی بی سی نے 2021 کے لیے دنیا بھر کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست جاری کی ہے۔

اس سال 100 خواتین میں ایسی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جا رہا ہے جنھوں نے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور زندگی کو دوبارہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ وہ خواتین ہیں ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور ہماری دنیا کو نئے سرے سے بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس فہرست میں شامل خواتین میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی، ساموا کی پہلی خاتون وزیراعظم فیامے نومی مطافہ، ویکسین کانفیڈنس پروجیکٹ کی سربراہ پروفیسر ہیڈی جے لارسن اور مشہور مصنفہ چیمامانڈا نگوزی ایڈیچی شامل ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والی خواتین اس سال کی فہرست میں شامل خواتین کا نصف ہیں، جن میں سے کچھ تحفظ کے پیش نظر فرضی ناموں اور تصاویر کے بغیر شامل ہوں گی۔

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے لاکھوں افغانوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ لڑکیوں پر سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگ گئی، خواتین کے امور کی وزارت کو ختم کر دیا گیا اور بہت سے معاملات میں خواتین سے کہا گیا کہ وہ کام پر واپس نہ جائیں۔

اس سال کی فہرست ان کی بہادری اور ان کی کامیابیوں کے دائرہ کار کا احاطہ کرتی ہے۔

بی بی سی کی 2021 کی 100 خواتین

  • حلیمہ عدن

    کینیاحقوقِ انسانی کی کارکن اور سابق ماڈل

    پہلی باحجاب سپر ماڈل حلیمہ عدن صومالی النسل ہیں مگر وہ کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں۔ 2017 میں انہوں نے ماڈلنگ کے لیے دنیا کے سب سے بڑے ادارے آئی جی ایم کے ساتھ اس اضافی شرط پر معاہدے پر دستخط کیے کہ دورانِ ماڈلنگ اُن سے حجاب اتارنے کے لیے نہیں کہا جائے گا

    وہ پہلی ماڈل تھیں جو ’ووگ‘ کے برطانوی ایڈیشن کے علاوہ الیور اور سپورٹس السٹریٹڈ کے سوئم سوٹ ایڈیشن کے سرورق پر حجاب پہنے نظر آئیں۔ حلیمہ نے مسلم خواتین کی وضع اور اُن کے بارے میں آگہی کے لیے مہم چلائی اور وہ بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی سفیر رہیں۔

    انھوں نے 2020 اپنے اسلامی عقائد کی بنیاد پر ماڈلنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلی مگر فیشن اور ماڈلنگ کی صنعت میں اُن کا قائم کردہ تاثر برقرار ہے۔

    *ہم نے کرونا کی وبا کے دوران ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کارکنوں کو انتہائی مشکل اقدامات کرتے دیکھا اور میں دعاگو ہوں کہ ہم اُن کی قربانیوں کو سراہیں۔ ہم شکر گزاری سے دنیا کو آگے لے جا سکتے ہیں۔

  • عابیا اکرم

    پاکستانڈس ابیلٹی لیڈر

    جسمانی معذوری کے ذاتی تجربے سے گزرنے والی عابیا اکرم 1997 میں اُس وقت سے جسمانی معذوری سے متعلق تحریک میں سرگرم ہیں جب انھوں نے بطور طالبہ سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کا آغاز کیا۔

    وہ پاکستان سے دولتِ مشترکہ کے کامن ویلتھ ینگ ڈس ایبلڈ فورم کے لیے نامزد کی جانے والی پہلی رابطہ کار ہیں۔ عابیا اکرم نیشنل فورم آف ویمن ود ڈس ایبلٹی کی بانی ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے حقوقِ و نشوونمائے معذورین کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔

    وہ جسمانی معذوری کو 2030 میں پائیدار ترقی اور اجتماعی پیشرفت کے لیے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل کروانے کے سلسلے میں بھی کام کر رہی ہیں۔

    *کووڈ-19 کی وبا کے بعد دنیا کی بحالی کے لیے ہمیں لازمی طور پر مل کر اپنے معاشروں کے تمام پہلوؤں کی بہتری کے لیے کام کرنا ہو گا جس پر ’نیا معمول‘ قائم ہو گا اور اس کے نتیجے میں ہم کہیں زیادہ بہتر اجتماعی ترقی دیکھیں گے۔

  • مونیکا ارایا

    کوسٹاریکامضر گیسوں کے اخراج سے پاک ٹرانسپورٹ کی حامی

    مضر گیسوں کے اخراج سے پاک ٹرانسپورٹیشن کو رواج دینے کے عمل کو تیز تر کرنے لیے کوشاں ماہرِ ماحولیات مونیکا ارایا امریکہ اور یورپ میں اس مہم کی رہنمائی کرتی رہی ہیں۔ ان کوششوں میں شہریوں کی جانب سے شروع کردہ ’کوسٹاریکا لمپیا‘ بھی شامل ہے جس نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اُن کے ملک کو عالمی سطح پر قائدانہ کردار اور ایک مضبوط حیثیت حاصل کرنے میں مدد دی۔

    مونیکا ارایا ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے ’چیمپیئن فار کلائمیٹ ایکشن‘ کی معاونِ خصوصی ہیں۔ وہ صفر اخراج (زیرو امیشن) کے حصول کے لیے جاری مہم روٹ زیرو کی بھی مشیر ہیں اور کلائمیٹ ورکس فاؤنڈیشن کی بھی ممتاز رکن ہیں۔

    اُن کی ’ٹیڈ ٹاک‘ کا ترجمہ 31 زبانوں میں کیا جا چکا ہے اور اسے 40 لاکھ ویوز مل چکے ہیں۔ ارایا 2016 میں انٹارکٹکا میں صرف خواتین پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی مہم میں بھی شامل رہیں۔

    *وقت آ گیا ہے کہ ہم اس چیز کا دوبارہ جائزہ لیں جو ہمیں ’معمول کی بات‘ لگتی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں کمی لانا انتہائی ضروری ہے اور اس سے انتہائی ضروری معاشرتی تغیرات کے لیے سیاسی حمایت کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

  • جوس بوائز

    برطانیہماہرِ تعمیرات

    جوس بوائز دی ڈس آرڈینیری آرکیٹیکچر پراجیکٹ نامی ادارے کی شریک ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ادارہ معذوری کا شکار فنکاروں کو اطراف کی تعمیر اور ڈیزائن کو جدّت دینے کی غرض سے رسائی اور شمولیت کے لیے مجتمع کرنے کے سلسلے میں کوشاں ہے۔

    بطور آرکیٹیکٹ اپنے کام اور اپنی سرگرم شرکت سے جوس بوائز نے 1980 کی دہائی میں میٹرکس فیمینیسٹ ڈیزائین کلیلٹوِوِ قائم کیا جس کی وہ شریک بانی ہیں۔ وہ ’خواتین اور مردوں کا قائم کردہ ماحول‘ کے موضوع پر مرتب کی جانے والی تحریر ’میکنگ سپیس‘ کے مصنفین میں بھی شامل رہیں۔ وہ کئی عالمی اداروں کے ساتھ بھی بطور دانشور کام کرتی رہی ہیں تاکہ تعمیراتی ڈیزائین میں خواتین کی کارکردگی و شمولیت سے متعلق مفروضوں کا تخلیقی انداز سے جائزہ لیا جا سکے۔

    40 برس پر محیط اپنے پیشہ ورانہ سفر میں وہ یہ آگہی دینے کے لیے کوشاں رہیں کہ سماجی رویّوں اور مادی اقدامات کو بروئے کار لاتے ہوئے کیسے معذوری کا شکار افراد کی مدد کی جا سکتی ہے۔

    *ہمیں گذشتہ برس کے دوران معذور اور پسماندہ افراد کے مختلف النوع تجربات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اسے اجتماعی نگہداشت اور باہمی انحصار کے مقامات کے طور پر بحال کرنے کے لیے تخلیقی پیداوار تسلیم کیا جا سکے۔

  • ازمینہ دھرودیا

    کینیڈاسیفٹی پالیسی کی سربراہ - بمبل

    صنف ، ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کی ایک سرکردہ ماہر ازمینہ دھرودیا فی الوقت ڈیٹنگ ایپ ’بمبل‘ سے بطور سیفٹی پالیسی لیڈ منسلک ہیں۔ انھوں نے جولائی 2021 میں ایک کھلا خط تخلیق کیا جو سوشل میڈیا پر بدسلوکی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کے مطالبے پر مشتمل تھا اور جس پر دو سو سے زائد سرکردہ و ممتاز خواتین رہنماؤں نے دستخط کیے۔

    وہ خواتین کے خلاف آن لائن بدسلوکی اور تشدد کے بارے میں ایک رپورٹ ٹاکسک ٹوئٹر کی بھی خالق ہیں جو صنفی بنیاد پر بدسلوکی اور طبقاتی و نسلی طور پر اس کے تعلق کے بارے میں ہے۔

    ازمینہ دھرودیا اس سے قبل ورلڈ وائڈ ویب فاؤنڈیشن اور دیگر کئی ٹیکنالوجی کمپنیز کے لیے صنف اور ڈیٹا کے حقوق جیسے موضوع پر بھی کام کرتی رہی ہیں تاکہ خواتین اور الگ تھلگ کر دی جانے والی کمیونیٹیز کے لیے آن لائن زیادہ محفوظ ماحول پیدا کیا جا سکے۔

    *میں ایک ایسی دنیا چاہتی ہوں جہاں آن لائن ماحول اور ادارے اپنی تخلیقات میں خواتین کے تجربات کو زیرِغور لائیں اور انھیں ملحوظِ خاطر بھی رکھیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں خواتین، خاص طور پر مختلف النوع اور متضاد شناخت کی حامل خواتین کو بھی بےخوفی کے ساتھ بلا تردد اور آزادانہ و مساویانہ انداز سے آن لائن ہونے کی سہولت حاصل ہو۔

  • کیرولینا گارسیا

    ارجنٹیناڈائریکٹر - نیٹ فلکس

    سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کی ڈائریکٹر برائے اوریجنل سیریز کیرولینا گارسیا پیدا تو ارجنٹینا میں ہوئیں مگر اُن کی پرورش کیلی فورنیا میں ہوئی۔ وہ ایک تربیت یافتہ رقاصہ و گلوکارہ ہیں جن کا تعلق انٹرٹینمنٹ کی صنعت سے رہا جس کے آغاز پر وہ تربیت و تجربے کے لئے اسی صنعت کے ادارے ٹوئنٹیئتھ سینچری فوکس سے منسلک رہیں۔

    بطور تخلیقی ڈائریکٹر وہ نیٹ فلکس کی کئی مقبول ترین سیریز کی نگرانی کرتی رہیں جن میں سٹرینجر تھنگز، دی چلنگ ایڈوینچرز آف سبرینا، 13 ریزنز وائے ، اے ٹیپیکل اور ریزنگ ڈیون شامل ہیں۔

    اب جبکہ امریکی آبادی میں لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد ہر پانچ میں سے ایک ہے تو ہالی وڈ میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے محض چند ہی لاطینی افراد میں سے ایک کے طور پر کیرولینا گارسیا نے نہ صرف لاطینی افراد کی پردۂ سیمیں پر نمائش و نمائندگی میں اضافہ کیا بلکہ اُن کی کہانیوں اور معاملات کو بھی اجاگر کیا۔

    *گذشتہ چند برسوں نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر زندگی مختصر ہے تو اپنا قیمتی وقت ہم خوف میں کیوں گزاریں جیسے کہ میری دادی کہتی ہیں زندگی کو لازماً جینا چاہیے اور یہی وقت ہے کہ ہم دادی کی بات مان لیں۔

  • جمیلہ گورڈن

    صومالیہسی ای او - لوماچین

    مصنوعی ذہانت کی دنیا کی ایک سرکردہ شخصیت جمیلہ گورڈن نے لوما چین نامی دنیا کا وہ پہلا پلیٹ فارم تخلیق کیا ہے جو مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کے نظام میں آنے والے خلا کو پر کرتا ہے۔

    وہ پیدا تو صومالیہ میں ہوئیں مگر نوعمری میں ہی انھیں اپنے ملک کی خانہ جنگی سے جان بچا کر کینیا جانا پڑا جہاں انھوں نے تارکِ وطن کی زندگی گزاری۔ پھر وہ آسٹریلیا منتقل ہوئیں جہاں ٹیکنالوجی سے اُن کی محبت کا آغاز ہوا۔ لوما چین کو لانچ کرنے سے قبل جمیلہ گورڈن آئی بی ایم کی گلوبل ایگزیکیٹِو اور قینٹاس کی چیف انفارمیشن افسر بھی رہیں۔

    انھوں نے 2018 میں مائیکرو سافٹ کے بین الاقوامی چیلنج انٹرنیشنل ویمنز آنٹرپرونیورشپ چیلنج کا عالمی ایوارڈ حاصل کیا اور انھیں 2021 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی انوویٹر آف دی ایئر ان ویمن ان آرٹیفیشل انٹیلیجینس ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

    *میں پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو معاشرے میں اُن کا جائز مقام دلوانے اور کاروبار و تجارت کو بدل کر رکھ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کی طاقت پر شدّت سے یقین رکھتی ہوں۔

  • ہیڈی جے لارسن

    امریکہڈائریکٹر - دی ویکسین کانفیڈنس پروجیکٹ

    پروفیسر ہیڈی جے لارسن ایک ماہرِ علم البشریات ہی نہیں بلکہ لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی پراجیکٹ ڈائریکٹر آف دی ویکسین کانفیڈینس بھی ہیں۔ اُن کی موجودہ ادارہ جاتی دلچسپی ویکسین سے جڑی افواہوں سے نمٹنے اور یہ جاننے میں ہے کہ آخر کس طرح ویکسین پر عوامی بھروسہ قائم کیا جائے۔

    پروفیسر ہیڈی ویکسین سے متعلق افواہیں کیسے شروع ہوئیں اور کیوں ختم نہیں ہو رہیں کے موضوع پر ایک مقالے کی مصنفہ ہیں اور وہ دوران زچگی ویکسین کی قبولیت کے بارے میں ایک عالمی تحقیق کی سربراہی بھی کر رہی ہیں۔

    ڈاکٹر لارسن کو ’غلط معلومات کی وبا‘ کے بارے میں اُن کی سائنسی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2021 میں ایڈنبرا میڈل سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

    *کووڈ کی وبا تو پہلے ہی سے تقسیم شدہ دنیا میں پھوٹی تھی اور کوئی ویکسین ہمیں ان مسائل سے نہیں بچا سکتی جو ہمیں تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کو بحال کرنے میں بطور فرد اور کمیونٹی اور چھوٹے اور بڑے رہنما کے طور پر صرف ہمارے انفرادی و اجتماعی اقدامات ہی ہماری مدد کر سکتے ہیں۔

  • سویدزم ارنسٹائن لیکیکی

    کیمرونماحولیاتی کارکن

    سویدزم ارنسٹائن لیکیکی، جنگلی آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے شہد کی مکھیوں کی افزائش کو بطور حکمت عملی استعمال کرنے والی ایک تنظیم کی بانی ہیں۔ اس تنظیم نے شہد کی پیداوار ،شہد اور شہد کے چھتّے سے حاصل ہونے والے موم کے حصول اور اس کے معیار میں اضافے کے لیے شہد کی مکھیوں کی افزائش کرنے والے 2000 سے زیادہ افراد (افزائشی مقامات کے مالکان یا کسانوں) کی تربیت کی اور جنگلات کے فروغ کے لیے شہد کی مکھیوں کی افزائش میں مددگار 86 ہزار سے زائد درخت بھی لگائے۔

    لیکیکی ماحولیات اور صنف سے متعلق ایک ادارے کیمرون جینڈر اینڈ واچ انوائرنمنٹ نامی ادارے کی بھی بانی رکن ہیں جو صنفی نقطۂ نگاہ سے ماحولیاتی مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔ ماحولیات سے متعلق اُن کی سرگرمیوں کا محور خواتین کو بااختیار بنانے اور قدرتی وسائل کی انتظام کاری میں خواتین کی شمولیت پر مبنی ہے۔

    وہ جنگلات کی زبردست حامی ہیں اور ان کے تحفظ پر یقین رکھتی ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ آبادی کی اجتماعی اور مشترکہ کوششوں سے 20000 ہیکٹر پر پھیلے علاقے کلوُم ایجم میں قائم جنگلات کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

    *میں ایک ایسی دنیا چاہتی ہوں جہاں جنگلات کے تحفظ اور ذرائع معاش کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں خواتین کے ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی حقوق پر بھرپور توجہ دی جاتی ہو۔

  • کلوئے لوپیس گومز

    فرانسبیلے رقاصہ

    کلوئے لوُ پیز گومز پہلی سیاہ فام رقاصہ ہیں جنھیں 2018 میں ساتس بیلے برلن جیسے ادارے میں بطور بیلے رینا شامل کیا گیا۔ لیکن ماسکو کی بولشوئی اکیڈمی سے تعلیم و تربیت پانے والی کلوئے کو بیلے ڈانس کی دنیا میں نسلی امتیاز اور مذموم امتیازی سلوک اور رویّوں کا سامنا کرنا پڑا جسے انھوں نے اشرافیہ کا خفیہ برتاؤ قرار دیا۔

    جب اُن کے یہ الزامات عوام کے سامنے آئے تو سیاہ فام اور مخلوط ورثہ رکھنے والی کئی دیگر رقاصاؤں نے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

    جب 2020 میں ادارے نے اُن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تجدید نہیں کی تو انھوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ نتیجے کے طور پر ادارے نے عملے کی نسل پرستی کے بارے میں اندرونی تفتیش کا آغاز کیا اور رقّاصہ سے معذرت کرتے ہوئے ہرجانے کے طور پر انھیں عدالت سے باہر معاوضے کی ادائیگی کی۔

    *بدقسمتی سے اس دنیا میں ہم سب پیدائشی طور پر مساوی نہیں ہیں اور کامیابی کے مواقع کا انحصار نسلی تعلق اور سماجی حیثیت پر ہے۔ میں ایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتی ہوں جہاں سب کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کے بھرپور مواقع حاصل ہوں۔

  • فیامے ناؤمی ماتا عَفا

    سمواوزیراعظم

    سموا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور اپنی سیاسی جماعت فاسٹ کی سربراہ فیامے ناؤمی ماتا عَفا نے 27 برس کی عمر میں سیاست کا آغاز کیا۔ انھوں نے وزیراعظم بننے سے پہلے بطور وزیرِ قانون، وزیر امورِ خواتین و سماجی بہبود و معاشرتی ترقی اور نائب وزیراعظم کی حیثیتوں میں بھی خدمات انجام دیں۔

    وہ ایک اعلیٰ سطح کی سردار ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی عہدوں کی خواہشمند سموا کی خواتین کے لیے بھی (ترغیب دینے والی) ایک متاثر کُن شخصیت ہیں۔

    اُن کا ایجنڈا بنیادی طور پر ماحولیات پر مرکوز ہے جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی (گلوبل وارمنگ) کے تناظر میں دنیا کے سب سے غیر محفوظ علاقوں میں سے ایک (سموا) میں ماحول و موسمیات کی ہنگامی حالت سے نبرد آزما ہونا اور اس کیفیت کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔

    *جہاں بھی اتحاد ہوگا وہاں ہماری آئندہ نسلوں کے لیے امّید ہو گی۔

  • ڈپلیشا تھامس میکگروڈر

    امریکہبانی - مامز آف بلیک بوائز یونائیٹڈ

    امریکہ سے تعلق رکھنے والی ڈپلیشا تھامس مَک گروُڈر ’ممز آف بلیک بوائز یونائیٹڈ‘ اور ’ایم او بی بی یونائیٹڈ فار سوشل چینج‘ نامی تنظیموں کی بانی سربراہ ہیں۔ یہ اتحاد امریکہ بھر میں سیاہ فام بیٹوں کی تشویش میں مبتلا ماؤں کو یکجا کر کے قریب لایا ہے جس کا مقصد خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عموماً سارے سماج و معاشرے کے اس برتاؤ ، پالیسیوں اور احساس میں تبدیلیاں لانا ہے کہ سیاہ فام نوجوانوں اور مردوں سے کیسا سلوک روا رکھا جائے یا کیسا رویّہ اپنایا جاتا ہے۔

    وہ اس وقت فورڈ فاؤنڈیشن کی چیف آپریٹنگ آفیسر اور خزانچی ہیں اور ادارے کی عالمی سرگرمیوں اور مالی امور کی نگرانی کرتی ہیں۔

    اس سے قبل وہ 20 سال تک میڈیا اور انٹرٹینمنٹ سے منسلک رہیں اور نشریاتی اداروں ایم ٹی وی اور بلیک انٹرٹینمنٹ ٹیلی ویژن (بی ای ٹی) میں براڈ کاسٹ صحافی کے طور پر اعلیٰ سطح پر قائدانہ حیثیت سے بھی کردار ادا کرتی رہیں۔

    *مجھے اُمّید ہے کہ اس وبا سے نجات حاصل کرنے کے بعد کی دنیا زیادہ ہمدرد ہوگی۔ لوگ اس حقیقت کا ادراک کریں گے کہ ہم ایک دوسرے پر کتنا زیادہ انحصار کرتے ہیں اور دوسروں کی تباہ حالی (حالتِ زار) اور اُن کو درپیش منفرد (مختلف) مشکلات کے بارے میں زیادہ حساس ہوں گے۔

  • طلالینگ موفوکینگ

    جنوبی افریقہاقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ

    لوگ پیار سے انہیں ڈاکٹر ٹی کہہ کر بلاتے ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہی ہیں جو خواتین کی جنسی اور تولیدی صحت سے متعلق حقوق کے لیے سرگرم ہیں جو صحت تک عالمی رسائی ، ایچ آئی وی (ایڈز) جیسے امراض کی نگہداشت اور خاندانی منصوبہ بندی کی زبردست وکالت کرتی ہیں۔

    جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر طلالینگ موفوکینگ اس وقت ذہنی و جسمانی صحت کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ہیں۔ وہ یہ حیثیت حاصل کرنے والی پہلی افریقی شہری اور پہلی خاتون ہیں اور اس عہدے پر پہنچنے والے کم عمر ترین افراد میں بھی شامل ہیں۔ وہ اپنی بے حد مقبول کتاب ’ڈاکٹر ٹی - اے گائیڈ ٹو سیکسوئل ہیلتھ اینڈ پلیژر‘ (ڈاکٹر ٹی - جنسی صحت و لذّت کا ایک ہدایت نامہ) کی بھی مصنفہ ہیں۔

    ڈاکٹر موفوکینگ آبادی اور تولیدی صحت سے متعلق بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس کے ادارے انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ کی جانب سے 2016 میں 40 برس سے کم عمر محض 120 عالمی شخصیات کے لیے مخصوص 120 انڈر 40 ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔

    *میں دنیا کی بحالی کیسی چاہوں گی؟ لوگوں کو اپنا خیال رکھتے ہوئے اور دوسروں سے محبت کرتے ہوئے دیکھ کر۔

  • شیمامانڈا گوزی اڈیشی

    نائجیریامصنفہ

    نائجیریا سے تعلق رکھنے والی اور بےانتہا سراہی گئی ادیبہ اور نسوانیت کی علمبردار جن کا کام 30 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا شیمامانڈا گوزی اڈیشی علم سیاسیات اور ابلاغ عامہ کی ڈگری کے حصول کے لیے 19 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئیں۔

    2003 میں شائع ہونے والے اُن کے پہلے ناول پرپل ہبسکس نے دولتِ مشترکہ میں شامل ممالک کے ادیبوں کا انعام کامن ویلتھ رائٹرز پرائز جیتا اور 2013 میں اُن کے ناول امیریکانہ نے صف اوّل کی دس بہترین کتابوں میں اپنی جگہ بنائی۔

    2012 میں تاریخی کامیابی درج کرنے والی اُن کی ٹیڈ ٹاک ’ہم سب کو فیمنزم کا حامی ہونا چاہیے‘ اس موضوع پر عالمگیر بحث بن گئی اور یہ بات چیت 2014 میں کتابی شکل میں شائع بھی ہوئی۔ حال ہی میں یعنی 2021 میں انہوں نے اپنے والد کے اچانک انتقال پر اُن کے بارے میں یادِ رنج (نوٹس آن گریف) نامی کتاب تخلیق کی جو دراصل ایک انتہائی ذاتی خراج تحسین ہے۔

    *آئیے اس لمحے کو دنیا بھر میں صحت کی نگہداشت کو ایک انسانی حق کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے غور میں گزاریں۔ جو ایک زندہ انسان کے طور پر ہر شخص کا حق بنتا ہے ، نہ کہ اس وقت جب وہ اس کی استطاعت (ذرائع) رکھتا ہو۔

  • لِن گوگی

    کینیاصحافی

    خبر رساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم ٹُوکو کی ایوارڈ یافتہ صحافی لُن گوُگی کی پہچان ان کا کام ہے۔ جو انھوں نے انسانی دلچسپی کے وسیع موضوعات پر بہت متاثر کُن انداز سے انجام دیا۔

    انھوں نے پہلے بطور رضاکار کینسر کے مریضوں کی نگہداشت کی اور پھر 2011 میں اپنے صحافتی سفر کا آغاز پہلے کیوو فلمز سے کیا پھر قطر فاؤنڈیشن میں انجام دیں۔ وہ ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی ہیں اور اپنے ملک کی مشہور و معروف شخصیت ہیں۔

    2020 میں انھوں نے انسانیت کے بارے میں ہیومینیٹیریئن جرنلسٹ آف دی ایئر کا ایوارڈ حاصل کیا اور اس برس آئی چینج نیشنز کمیونٹی ایوارڈ حاصل کیا۔

    *میں دنیا کو ایک ایسی جگہ کے طور ہر بحال ہوتے دیکھنا چاہوں گی جہاں سب خود کو محفوظ محسوس کریں۔

  • امینڈا این گوئین

    امریکہسوشل آنٹرپرینیور

    وہ اپنی تنظیم رائز کی سی ای او ہیں جو جنسی حملوں اور ریپ کا شکار افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی۔

    شہری حقوق کی سرگرم کارکن اور سوشل آنٹرپرینیور امینڈا این گوئن نے اپنی تنظیم رائز تب قائم کی جب وہ 2013 میں خود اس وقت ریپ کا شکار ہوئیں جب وہ ہاورڈ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھیں۔ انھیں بتایا گیا کہ اپنے ریپ کے بارے میں (شکایت درج کروانے) الزامات عائد کرنے کے لیے اُن کے پاس صرف چھ ماہ کا وقت ہے جس کے بعد اس حملے کے ثبوت و شواہد ضائع کر دیے جائیں گے۔ کس کے بعد انہوں نے ریپ کے شکار افراد کے حقوق سے متعلق قانون کے مسوّدہ کی تیاری میں مدد فراہم کی۔ یہ قانون جنسی حملوں کا شکار افراد کے اس حق کو تحفظ فراہم کرتا ہے کہ حملے سے متعلق ثبوت و شواہد محفوظ رکھے جائیں۔

    2021 میں امریکہ میں ایشیائی باشندوں سے نفرت پر مبنی جرائم سے متعلق اُن کی ایک وائرل ہوجانے والی ویڈیو ایشیائی باشندوں سے نفرت کے خاتمے کی تحریک ’سٹاپ ایشیئن ہیٹ‘ کا ایک اہم حصّہ بن گئی۔

    *جب ہم سب مل کر کچھ کریں تو کوئی بےاختیار نہیں رہتا۔ کوئی پوشیدہ نہیں رہ سکتا اگر ہم سب اُسے دیکھنے کا مطالبہ کریں۔

  • مونیکا پاؤلس

    پاپوا نیو گنیحقوقِ انسانی کی کارکن

    جادو ٹونے کا الزام عائد ہونے اور پھر تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم مونیکا پاؤلس ہائی لینڈ ویمن ہیومن رائٹس ڈیفینس نیٹ ورک کی شریک بانی ہیں۔ یہ تنظیم اُن خواتین کو پناہ اور قانونی مشاورت فراہم کرتی ہے جن پر جادو ٹونہ کرنے یا چڑیل ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ تنظیم ایسے معاملات کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں تک پہنچانے اور وہاں ان کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

    اس تنظیم کی کوششوں کے نتیجے میں پاپوا نیو گنی کی حکومت نے جادو ٹونے سے متعلق تشدد کے بارے میں کمیٹیاں قائم کی ہیں۔

    وہ 2015 میں اقوام متحدہ کی جانب سے ’کامیاب خواتین‘ میں شمار کی گئیں اور انھوں نے اپنے حوصلے کی وجہ سے پاپوا نیو گنی میں ایوارڈ برائے خواتین بھی حاصل کیا۔ عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی آسٹریلوی شاخ نے انھیں دنیا کی بہادر ترین خواتین میں سے ایک بھی قرار دیا۔

    *ہمیں بحالی کی بھی ضرورت ہے اور یہ بھی یاد رکھنے کی کہ ہم سب نسلِ انسانی کا حصّہ ہی۔ اور صنفی امتیاز کو ہمارے خلاف اور نہ ہی ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

  • منجولا پردیپ

    انڈیاحقوقِ انسانی کی کارکن

    انڈیا کے سب سے پسماندہ اور محروم دلِت طبقے کے حقوق کے لیے سرگرم وکیل رہنما منجولا پردیپ کا اپنا تعلق بھی گجرات کے مکین ایک دلِت گھرانے سے ہی ہے۔ وہ ذات پات اور صنف سے متعلق امتیاز کے خلاف کوشاں ہیں۔ وہ نَوَ سارجن ٹرسٹ نامی ادارے کی ایگزیکٹِو ڈائریکٹر ہیں جو انڈیا میں دلِتوں کے حقوق کے لیے سرگرم سب سے بڑا ادارہ ہے۔

    اس برس انھوں نے انڈیا میں سرکردہ خواتین کے لیے نیشنل کاؤنسل آف ویمن لیڈرز کی بنیاد رکھی جس کی وہ شریک بانی ہیں۔ انھوں نے پسماندہ اور الگ تھلگ کر دیے جانے والے انڈین نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک اور ادارہ وائز ایکٹ آف یوتھ ویژننگ اینڈ انگیجمنٹ بھی قائم کیا ہے۔

    وہ دلتوں کے عالمی ادارے انٹرنیشنل دلِت سالیڈیرٹی نیٹ ورک بھی رکن رہی ہیں جو نسل پرستی کے خلاف اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں دلِتوں کے حقوق اجاگر کرنے کے لیے کوشاں رہا۔

    *میں ہمدردی اور محبت سے بھرپور دنیا کی بحالی چاہتی ہوں۔ جہاں مراعات سے محروم پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک پُرامن اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے رہنمائی کر رہی ہوں۔

  • سوما سارہ

    برطانیہ بانی - ایوری ون از انوائیٹڈ

    جون 2020 میں برطانوی شہری سوما سارہ نے جنسی حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے لیے ایک وائرل ہو جانے والا انسٹاگرام اکاؤنٹ اور ویب سائٹ ’ایوری ون از انوائیٹڈ‘ بنائے۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جہاں جنسی حملوں کا شکار ہونے والے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر جنسی حملے کے بارے میں اپنی گواہی شہادت یا تجربات شیئر کر سکتے ہیں۔ اس کا مقصد برطانوی تعلیمی اداروں میں جنسی جنونیت کی حوصلہ شکنی اور ریپ کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

    اپنے قیام سے اب تک اس (آن لائن) سہولت پر 50000 سے زائد افراد نے آپ نہ کہانیاں ، شہادتیں اور تجربات شیئر کیے ہیں اور مارچ 2021 میں لندن کی ایک سڑک سے اغوا ہو جانے والی سارہ ایوارارڈ کے قتل کے بعد سے اسے نمایاں توجہ اور اہمیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔

    سوما پراُمید ہیں کہ وہ خواتین سے نفرت اور بدگمانی پر مبنی رویے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اس منصوبے اور مہم کو تعلیمی اداروں سے باہر بھی فروغ دے سکیں گی۔

    *میں ایسی دنیا چاہتی ہوں جہاں جنسی حملوں کا شکار افراد کی بات سُنی جائے ان پر یقین اور اُن کی حمایت کی جائے۔

  • ایلف شفق

    فرانسناول نگار

    ایوارڈ یافتہ ترک نژاد برطانوی ادیبہ اور خواتین و ہم جنس پرستوں کے حقوق کی سرگرم وکیل۔

    ایلف شفق نے بُکر پرائز کے لیے زیر غور رہنے والی مشہور کتاب ’10 منٹ 38 سیکنڈز ان دس سٹرینج ورلڈ‘ سمیت 19 کتب تخلیق کی ہیں۔ وہ بی بی سی کی جانب سے ’دنیا کی شکل بدل دینے والی‘ 100 منتخب کتابوں میں شامل رہنے والی کتاب ’محبت کے چالیس اصول‘ کی بھی مصنّفہ ہیں۔ اُن کی تصنیفات کا 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

    شفق نے علم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ ترکی ، امریکہ اور 2021 میں برطانیہ کی یونیورسٹیز میں تدریس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ انہیں ’کہانی کہنے کے فن کو نئی جہت دینے کی خدمات‘ کے صلے میں ہیلڈور لیکسنیس انٹرنیشنل لٹریری پرائز ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

    *مشرق و مغرب ہر جگہ ہم ایک بڑے چوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب پرانی دنیا نہیں باقی رہی۔ واپس جانے کی کوشش کرنے کی بجائے ہم ایک بہتر اور منصفانہ دنیا تعمیر کر سکتے ہیں جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔

  • مینا سمال مین

    برطانیہمذہبی پیشوا اور ماہرِ تعلیم

    وہ 2013 میں چرچ آف انگلینڈ کی ایسی پہلی خاتون اعلیٰ مذہبی پیشوا رہیں جو سیاہ فام یا نسلی اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب سکول کی تدریس اور کلیسا کے عہدے سے فراغت کے بعد مینا سمال مین ، پولیس اصلاحات اور برطانوی سڑکوں/گلیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    2020 میں لندن کے ایک پارک میں ایک 19 سالہ نوجوان نے چاقو کے وار کر کے اُن کی دو پیٹیوں نکول سمال مین اور بیبا ہینری کو قتل کر دیا تھا۔ مینا سمال مین ابتداً پولیس کو فراہم کی جانے والی اپنی صاحبزادیوں کی گمشدگی کی اطلاع پر پولیس کی جانب سے بدانتظامی پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹیاں نسلی پروفائلنگ اور طبقاتیت کا شکار ہو سکتی ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کے قاتل کو معاف کر دیا ہے۔ ’جب ہم کسی سے نفرت رکھتے ہیں تو صرف وہی نفرت کے یرغمال نہیں بن جاتے بلکہ آپ بھی یرغمال و شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ آپ کی سوچ کو بدلے کا جذبہ کھا جاتا ہے۔ میں یہ طاقت اُسے (قاتل کو) دینے سے انکار کرتی ہوں۔

    *بطور مدرّس اور مذہبی پیشوا ، میں نے اپنی زندگی ایسے لڑکوں اور لڑکیوں کی پرورش کے لیے وقف کردی جنھیں لوگوں نے کمتر سمجھا۔ میں آپ میں سے ہر ایک سے کہہ رہی ہوں کہ جب بھی آپ امتیاز کی بات سنیں تو ضرور بول اٹھیں۔ ہم مل کر سب کچھ بدل سکتے ہیں۔

  • ایڈلیڈ لالہ طام

    چینڈیزائنر

    ایک فنکار اور ماہر خوراک (فوڈ ڈیزائنر) جن کا کام خاص طور پر خوراک سے ہمارے جدید تعلق کے حوالے سے طرز زندگی میں ہماری پسند یا انتخاب کا جائزہ لیتا ہے۔

    چین میں پیدا ہونے والی ایڈیلیڈ لالہ طام مستقلاً ہانگ کانگ میں رہائش پذیر رہیں اور فی الوقت ہالینڈ میں کام کرتی ہیں اور وہیں مقیم ہیں۔ اُن کا فن صنعتی پیمانے پر غذائی پیداوار کا تنقیدی جائزہ لیتا اور صارفین پر زور دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کھا رہے ہیں اس کا پھر سے تجزیہ کریں اور اُس کی تیاری میں اپنی ذمہ داری کا بھی جائزہ لیں۔

    2018 میں انھیں جیوری اور عوام دونوں ہی کی جانب سے مستقبل میں خوراک کی تیاری (فیوچر فوڈ ڈیزائننگ) کے حوالے سے ایوارڈ دیے گئے۔ 2021 میں انھیں ’50 نیکسٹ‘ نامی ایک ایسی فہرست میں شامل کیا گیا جو کھانے کی تیاری کے فن کے مستقبل پر اثرانداز ہونے والے افراد کو نمایاں کرتی ہے۔

    *2021 میں دنیا بہت بدل گئی ہے۔ اب میں ایک ایسی دنیا چاہتی ہوں جہاں اس بات پر زیادہ آگہی و ہم آہنگی ہو کہ ہم کیا کھاتے ہیں اور وہ ہماری میز تک کیسے پہنچتا ہے۔

  • سسٹر این روز نو ٹانگ

    میانمارکیتھولک راہبہ

    یہ کیتھولک راہبہ اُس وقت میانمار میں احتجاج کی علامت بن گئیں جب وہ چرچ (کلیسا) میں پناہ لینے والے احتجاجی مظاہرین کو بچانے کے لیے پولیس کے سامنے خود دو زانو ہوگئیں۔

    مارچ 2021 میں بھاری ہتھیاروں سے مسلّح پولیس اہلکاروں کے سامنے اپنے گھٹنوں پر کھلی باہوں کی ساتھ بیٹھے اُن کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس ہر انھیں بہت پزیرائی ملی ۔

    سسٹر این نُو ٹانگ شہریوں، خصوصاً بچوں کے تحفظ کے لیے کھلے عام بات کرتی رہی ہیں۔ وہ ایک تربیت یافتہ دائی (مڈ وائف) ہیں اور گذشتہ 20 سالوں سے وہ چرچ سے وابستہ ہیں۔ حال ہی میں وہ میانمار کی کاچن ریاست میں کووڈ کا شکار ہوجانے والے مریضوں کی دیکھ بھال کرتی رہی ہیں۔

    *جو کچھ میانمار میں ہورہا ہے میں اُسے ایک شکستہ دل کے ساتھ دیکھتی رہی ہوں۔ اگر میں کچھ کرسکنے کے قابل ہوتی تو جیلوں میں قید اُن تمام زیرِ حراست افراد کو رہا کردیتی جنھیں بلاجواز قید کردیا گیا ہے اور میں تمام لوگوں کو بلا امتیاز مساوی و برابر کردیتی۔

  • ویرا وینگ

    امریکہفیشن ڈیزائنر

    عروسی ملبوسات کی معروف ڈیزائینر ویرا ایلن وینگ 1970 کی دہائی سے فیشن کی صفِ اوّل میں شامل رہی۔ انھوں نے اب اپنے کاروبار میں پرفیوم، پبلشنگ اور ہوم ڈیزائن کو بھی شامل کر لیا ہے۔

    چینی نژاد جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والی ویرا ووگ میگزین کی سینیئر فیشن ایڈیٹر تھیں جس کے بعد وہ رالف لارین کی ڈیزائین ڈائریکٹر رہیں۔ وہ نوجوانی میں بہت باصلاحیت فگر سکیٹر رہی ہیں اور کئی مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتی رہیں۔

    وہ معتبر ادارے کاؤنسل آف فیشن ڈیزائینرز آف امریکہ کی رکن بھی ہیں جس نے 2005 میں انھیں ویمنز وئیر ڈیزائینر آف دی ا یئر بھی قرار دیا۔

    *ہم سب بالکل ایک ہی جیسے مسائل کی زد میں ہیں۔ کُرّۂ ارض کو بچانے کے لئے ہم سب مل کر جتنی جلد زیادہ دانشورانہ انداز اور زیادہ وجودیت کے ساتھ کام کرسکیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

  • منگ نا وین

    مکاؤاداکارہ

    اینیمیٹد فلم ’مُلان‘ کے کردار کی آواز فراہم کرنے اولی اداکارہ نے مقبول امریکی میڈیکل ڈرامہ ’ای آر‘ سے شہرت پائی۔ اس کے علاوہ وہ ’انکنسیِو ایبل‘ میں بھی نظر آئیں۔ یہ ان چند امریکی ڈراموں میں سے ایک ہے جس میں کسی ایشیائی نژاد امریکی شہری کو مرکزی کردار میں دکھایا گیا ہو۔

    فی الوقت وہ ڈزنی پلس کی سیریز ’دی مینڈا لوریئین‘ میں فینک شینڈ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور اسی سے جڑی دوسری سیریز ’دی بُک آف بوبا فیٹ‘ میں دکھائی دیں گی۔ سنہ 2019 میں منگ نا کو ’ڈزنی لیجینڈ‘ کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔

    سنہ 2022 میں انھیں ہالی وڈ واک آف فیم پر اپنا ستارہ بھی عطا کیا جا رہا ہے۔

    *(زندگی) دوبارہ سے شروع کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر انسان پیچھے کی طرف کیوں جائے؟ مجھے یقین ہے کہ ہر چیز کسی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ ہر نیا دن ایک نئی شروعات ہے۔ تو آج کے لیے جیئیں اور شکر کریں۔

  • مارسیلینا بٹیسٹا

    میکسیکویونین رہنما

    ماضی میں خود گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی مارسیلینا بٹیسٹا اب میکسیکو میں گھریلو ملازمین کے تربیتی ادارے سپورٹ اینڈ ٹریننگ سینٹر فار ڈومیسٹک ورکرز کی ڈائریکٹر ہیں اور یہ ادارہ 21 برس قبل انھوں نے ہی قائم کیا تھا۔ وہ گھریلو ملازمین کو بھی باقی دیگر ملازمین کی طرح کے حقوق، جن میں مناسب و منصفانہ تنخواہ، بیماری کے دوران تعطیلات دلوانے اور گھریلو ملازمین کے سماجی مرتبے کو بہتر بنانے جیسے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں۔

    یہ ادارہ ملازمین، آجروں اور کمیونٹی کی تعلیم و تربیت کے لیے ہے۔ مارسیلینا بٹیسٹا اُن مذاکرات میں بھی سرگرم تھیں جن کے نتیجے میں میکسیکو کی حکومت نے اس بین الاقوامی معاہدے میں شمولیت اختیار کی جس کے تحت گھریلو ملازمین کو استحصال، تشدد اور غیر محفوظ حالاتِ کار سے تحفظ حاصل ہے۔

    2010 میں انھیں جرمن ادارے فریڈرخ ایبرٹ شٹفٹنگ کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

    *دنیا کو تبدیل کرنے کا مطلب اُن کروڑوں گھریلو ملازمین، خصوصاً خواتین کے حالاتِ کار کو تبدیل کرنا ہے جو اُس وقت گھروں میں کام کر رہے ہوتے ہیں جب باقی سب پیشہ ورانہ طور پر ترقی کی منازل طے کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سماجی ناہمواری صرف تب ہی ختم ہوگی جب گھریلو کام کو وہ پہچان ملے گی جس کا وہ مستحق ہے۔

  • اولویمی ادیتیبا اوریا

    نائیجیریابانی، ہیڈ فورٹ فاؤنڈیشن

    خواتین وکلا پر مشتمل ادارے ہیڈفورٹ فاؤنڈیشن کی بانی جو عوامی فلاح و بہبود سے متعلق قانونی خدمات فراہم کرتا ہے۔

    لاگوس میں قائم یہ چار رکنی قانونی ماہرین کی ٹیم جیلوں کا دورہ کر کے غلط طور پر زیرِ حراست قیدیوں کو مدد فراہم کرتی ہے جو ضمانت حاصل کرنے سے قاصر ہوں یا پھر ایسے قیدی جو مقدمات سے قبل طویل حراست کا سامنا کر رہے ہوں (نائیجیریا کی جیلوں میں 70 فیصد تعداد ایسے ہی قیدیوں کی ہے جو مقدمات کی تاریخ کے منتظر ہیں)۔ اولویمی اور ان کی وکلا کی ٹیم خاص طور پر کم عمر قیدیوں کے لیے کام کرتی ہے اور انھیں جیل کے بعد ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیتی ہے۔

    سنہ 2018 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب تک 125 سے زیادہ ایسے قیدیوں کو مفت قانونی امداد فراہم کر چکا ہے جو معمولی نوعیت کے الزامات میں بند تھے۔

    *دنیا کی بحالی کے لیے ہم سب کو اپنا، اپنا کردار ادا کرنا ہے! کھل کر بولیں اور اچھے کی وکالت کریں اور دنیا کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔

  • ریبل ولسن

    آسٹریلیااداکارہ، پروڈیوسر اور لکھاری

    ہالی وڈ میگا سٹار، اداکارہ، لکھاری، پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی ریبیل ولسن نے سڈنی کے تھیٹر سے اداکاری کا آغاز کیا۔ وہ اپنے سکرپٹ خود لکھتیں اور 2010 میں امریکہ منتقل ہونے سے قبل انھوں نے اپنے ملک کے کامیڈی حلقوں میں نام کمایا۔

    ہالی وڈ میں انھوں نے آغاز کامیڈی فلم ’برائیڈز میڈز‘ سے کیا جس کی کاسٹ تقریباً پوری طرح خواتین پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد وہ آسکر ایوارڈ یافتہ ’جو جو ریبٹ‘ میں نظر آییں تاہم انھیں اصل شہرت تب ملی جب انھوں نے میوزیکل کامیڈی فلم سیریز ’پچ پرفیکٹ‘ میں فیٹ ایمی کا کردار ادا کیا۔

    ولسن 2022 میں اپنی پہلی فیچر فلم کی ہدایت کاری کریں گی۔

    *تنوع، احترام اور شمولیت زندگی کے ہر پہلو کا لازمی حصہ ہونے چاہییں۔

  • کیتھرین کورلیس

    آئرلینڈتاریخ دان

    ایک غیر پیشہ وارانہ تاریخ دان ہوتے ہوئے کیتھرین نے آئرینڈ کے شہر گیلوے میں واقع غیر شادی شدہ خواتین کی پناہ گاہ میں 796 نومولود بچوں کی پراسرار اموات پر برسوں پر محیط تحقیق کی۔ 1920 سے 1950 کی دہائیوں کے درمیان مرنے والے ان بچوں کی تدفین کا کوئی نشان نہیں تھا تاہم ان کی تحقیق نے بون سیکورز مدر اینڈ بےبی ہوم میں ایک اجتماعی قبر کی دریافت میں مدد کی۔

    طویل انتظار کے بعد اس برس کیتھولک ننز کے زیرِ انتظام چلنے والے ان اداروں کے بارے میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نومولود بچوں کی اس خوفناک شرح اموات کا سبب دراصل مختلف بیماریاں تھیں، جس کے بعد آئرلینڈ کی حکومت کو باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔

    کیتھرین کورلیس کو اُن کی انسانی خدمات کے لیے دی بار آف آئرلینڈ ہیومن رائٹس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    *اگر میں کبھی دنیا کو بحال کرسکوں تو میں ’شرمندگی‘ کا لفظ مٹا ڈالوں گی۔ لغت میں اس لفظ کے معنی ’تذلیل و توہین کا دردناک و تکلیف دہ احساس اور یہ احساس کہ آپ مکمل طور پر غلط ہیں‘ درج ہیں۔ یہ پانچ حرفی لفظ (شیم) ایک ایٹم بم جتنا تباہ کن ہے۔

  • البا روئیدا

    آرجنٹائنٹرانز حقوق کی کارکن

    اپنے ملک میں سینیئر حکومتی عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خواجہ سرا، البا اس وقت ارجنٹائن کی وزارتِ خواتین و تنوع میں متنوع پالیسی کی انڈر سیکریٹری کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

    دانشور اور ایکٹوسٹ البا روئیڈا ٹرانس ویمن ارجنٹینا نامی اُس تنظیم کا چہرہ سمجھی جاتی ہیں جو سرکاری ملازمتوں میں ٹرانس جینڈر افراد کو ایک فیصد کوٹہ دلوانے والے قانون کی منظوری کے لیے کوشاں رہی۔ یہ اہم قانون جون 2021 میں کانگریس میں اکثریتی حمایت کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

    انھوں نے 2019 میں ایک کیتھولک آرچ بشپ پر تب مقدمہ کیا جب اس نے سرکاری دستاویزات کے مطابق چرچ کے ریکارڈ میں البا روئیڈا کے نام اور صنف کا اندراج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    *2021 نے اقتصادی پالیسیوں کا عدم مساوات کے فروغ میں کردار بےنقاب کر دیا ہے۔ ہمیں ایسی پالیسیوں کو فروغ دینا چاہیے جو ٹرانس فیمینسٹ نقطۂ نظر سے ہمیں دیگر انداز سے تعلقات قائم کرنے کی اجازت دیتی ہوں اور کمیونٹی کی اجتماعی نگہداشت کو بڑھاوا دے سکیں۔

  • ایلیسا لونکن انتیلیو

    چلیصدر-کونسٹیٹیوشن کنونشن

    چلی کا نیا آئین مرتّب کرنے کے لیے چلی کے مقامی باشندوں کے 17 منتخب نمائندوں میں سے ایک ایلیسا لونکن اینٹیلیئو ماہرِ لسانیات ، دانشور و مدرّس ہیں۔ وہ (صدر کی حیثیت سے) آئین مرتّب کرنے کے کیے قائم کونسٹیٹیوشن کنونشن کی قیادت بھی کرتی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چلی کے مقامی باشندے سرکاری عہدیدار کے طور پر اپنی قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    ایلیسا لونکن کا تعلق اپنے ملک کی سب سے بڑی آبائی کمیونٹی ماپوُشے سے ہے اور وہ ایک ایسی ’کثیرالقومی ریاست‘ کے لیے کوشاں ہیں جو مقامی آبادیوں کی خود مختاری و حقوق کے لیے گنجائش رکھتی ہو اور اُن کی ثقافت و زبانوں کو تسلیم کرتی ہو۔

    نسلی امتیاز کا شکار ہوکر اور غربت میں پرورش پانے والی ایلیسا لونکن انسانیات کے شعبے (ہیئومینیٹیز) میں پی ایچ ڈی ہیں اور اب سان ٹیاگو کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

    *وبا (کووڈ) کے دوران ہر روز موت کو قریب آتا دیکھنے کے بعد اب انسانی اور غیر انسانی زندگی کو مساوی حقوق کی ضمانت دیا جانا ضروری ہوچکا ہے۔ ہماری زندگیاں اس مادرِ دھرتی کے وسائل پر منحصر ہیں ، پانی سے جنگلات تک اور شہد کی مکّھیوں سے چیونٹیوں تک۔

  • تانیہ مُزنڈا

    زمبابوےموٹوکراس ایتھلیٹ

    مردوں کے غلبے سے بھرپور کے شعبے موٹو کراس موٹرسائیکل کی ریس کی دنیا میں بھی زمبابوے سے تعلق رکھنے والی تانیہ مُزنڈا اس مشکل شعبے میں بھی اپنے ملک کی آف روڈ سرکٹس چیمپئن ہیں۔ 1957 میں موٹو کراس مقابلوں کے آغاز کے بعد سے اب تک وہ زمبابوے کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے کبھی یہ مقابلہ جیتا ہو۔

    اپنے والد اور ایک سابق بایئکر سے متاثر ہوکر اس شعبے میں انھوں نے اپنی تربیت کا آغاز تب کیا جب اُن کی عمر محض پانچ برس تھی۔ اب 17 سالہ تانیہ مُزنڈا کو اُمّید ہے کہ وہ موٹو کراس کی عالمی چیمپیئن شپ جیتنے والی پہلی سیاہ فام افریقی خاتون بن سکتی ہیں۔ 2018 میں انھیں افریقی یونین کی جانب سے جونیئر سپورٹس وومن آف دی ائیر قرار دیا جا چکا ہے۔

    موٹو کراس مقابلوں سے ہونے والی اپنی کمائی وہ فلاحی سرگرمیوں میں استعمالُ کرتی ہیں وہ ہرارے کے سکول میں زیرِ تعلیم 100 طلبا کی فیس ادا کرتی ہیں۔

    *میں دنیا کو بحال نہیں کرنا چاہتی۔ یہ کبھی بھی کامل نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ ہی کچھ نہ کچھ اچھا اور خراب رہا ہی ہے۔ چلیے حال کو درست کرتے ہیں تاکہ مستقبل کی نسلوں کو اُن ہی چیزوں کے لیے جدوجہد نہ کرنی پڑے جن کے لیے ہم کر رہے ہیں۔

  • ایما تھیوفلیس

    نمیبیاسیاستدان

    گزشتہ برس اپنے تقرر کے وقت وہ محض 23 برس کی تھیں جب افریقہ کی کم عمر ترین وزیر بن گئیں۔ ایما انعاموٹیلا تھیوفیلسَ اپنے ملک نمیبیا کی پارلیمان کی رکن اور نائب وزیر برائے اطلاعات ، ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن ہیں۔ وہ اپنے ملک میں کووڈ-19 کمیونیکیشن کوششوں کی نگرانی و قیادت بھی کر رہی ہیں۔

    اس سے قبل وہ بطور ایکٹوسٹ نوجوانوں کی سرگرمیوں میں متحرک رہیں اور صنفی مساوات بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے لیے بہت سرگرمی سے کوشاں رہیں۔ وہ یوتھ پارلیمنٹ کی سپیکر رہیں اور اپنے آبائی شہر وندھوئیک کی نائب مئیر بھی رہ چکی ہیں۔

    ایما انعاموٹیلا تھیوفیلسَ یونیورسٹی آف نمیبیا سے قانون کی ڈگری حاصل کرچکی ہیں جبکہ یونیورسٹی آف ساؤتھ افریقہ سے وہ افریقی نسائیت اور صنفی علوم میں ڈپلوما بھی کرچکی ہیں۔

    *رفتار میں اضافے سے دنیا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اُن منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے جو برسوں سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔ تاخیر کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ بلکہ حقیقتاً تو ہم وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

  • نتاشا اصغر

    برطانیہویلش پارلیمان کی رکن

    انھوں نے تو اس وقت تاریخ ہی رقم کردی جب وہ اس برس ویلز کی پارلیمان کی پہلی غیرسفید فام رکن منتخب ہوئیں۔ ویلز کی یہ پارلیمان سینیڈ 1999 میں قائم ہوئی تھی۔

    ویلز کی قدامت پرست جماعت کنزرویٹوِو پارٹی کی رکن اور جنوب مشرقی ویلز سے پارلیمان کی رکن نتاشا اصغر اب ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی کے لیے شیڈو منسٹر بھی ہیں۔ وہ ایک ٹریول کارڈ جاری کرنا چاہتی ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر کے معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے مقامی آبادی اور سیاحوں دونوں ہی کی حوصلہ افزائی کر سکے۔

    سیاست کے آغاز سے قبل وہ بطور بینکر، ٹی وی پریزینٹر اور ریڈیو ڈی جے بھی کام کر چکی ہیں جبکہ وہ دو کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

    *نئے معمول کے دشوار راستے پر چلنے کے لیے ہمیں لازماً متحد ہونا ہو گا اور موجودہ مواقع کو پوری طرح گرفت میں رکھنا ہو گا تاکہ اب ہم جس طرح رہتے اور کام کرتے ہیں اسے بہتر بنایا جائے۔

  • ناتالیہ پاسٹرنَک ٹیشنر

    برازیلمائیکرو بیالوجسٹ اور سائنس رائٹر

    انھوں نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران اپنے اخباری کالم ریڈیو نشریات اور ٹی وی شو کے ذریعے برازیل کے کروڑوں لوگوں تک جان بچانے والی سائنسی معلومات پہنچائیں۔

    ناتالیہ پاسٹرنَک ٹیشنر تربیت کے اعتبار سے مائیکرو بایولوجسٹ ہیں جو سائنسی معلومات پر مبنی مواد تحریروں اور بات چیت کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتی ہیں۔ انھوں نے ساؤ پاؤلو کی یونیورسٹی سے بیکٹیریئل جینیٹکس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔اُن کے کام کی خصوصیت کے سبب انھیں سائنسی معلومات کے ماہر لکھاری اور عالمی شہرت یافتہ نیورولوجسٹ سٹوارٹ فائیرسٹین نے بھی کولمبیا یونیورسٹی مدعو کیا۔

    وہ سائنسی سوالات سے متعلق ادارے کوئسشن آف سائنس انسٹیٹیوٹ کی بھی بانی صدر ہیں۔ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو عوامی پالیسی میں سائنسی شواہد کے فروغ کے لیے وقف ہے۔

    *ہولوکاسٹ کا شکار خاندان کے رکن کے طور پر میں جانتی ہوں کہ ایک مطلق العنان حکومت عوام کے ساتھ کیا کچھ کر سکتی ہے۔ وبا کے دوران برازیل میں سائنس کے بارے میں میرا بول اٹھنا دراصل کبھی بھلائے نہ جا سکنے والوں کو زندہ رکھنے کے لیے میری جانب سے کردار یا حصّہ تھا جو میں نے ادا کیا۔

  • یوما

    ترکمانستانماہر نفسیات

    گذشتہ اگست میں جب ہم جنس پرستی سے متعلق ایک تجارتی ادارے کے اشتہار کا حصہ بننے اور ان کے خاندان کو بھی ’گے پرائیڈ‘ کی تقریب میں شریک دکھائے جانے پر شدید ردعمل آیا اور انھیں روس چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ تو اب یہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سرکردگی سے کوشاں ماہر نفسیات فی الحال سپین میں مقیم ہیں۔

    یوما ، جنہوں نے اپنا خاندانی نام مخفی رکھنے کی درخواست کی ہے ، اس وقت سرکردگی سے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئیں جب 2013 میں روسی حکومت نے ہم جنس پرستوں سے متعلق ایک قانون منظور کیا جس کے تحت کم عمر افراد سے غیر روایتی جنسی تعلقات کو فروغ دینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    اُن کا تعلق ترکمانستان سے ہے اور وہ چیچنیا سے تعلق رکھنے والے اُن ہم جنس پرستوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرتی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ 18-2017 میں روسی پولیس نے اُن پر تشدد کیا۔ وہ روس میں ہم جنس پرستوں کے میلوں اور تقریبات کی بھی سرگرمی سے حمایت کرتی ہیں۔

    *زبردستی کی اس تنہائی (لاک ڈاؤن) نے ثابت کیا ہے کہ قریبی تعلقات کتنے اہم ہیں۔ یہ معقول بات ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم اس دنیا میں کیا کر رہے ہیں اور ہم اپنے پیاروں کے لیے کیا کرنا پسند کریں گے۔

  • پائپر سٹیج نیلسن

    امریکہپبلک سٹریٹیجیز آفیسر - دی سیف الائنس

    امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر آسٹن میں قائم ادارے سیف الائنس کی چیف پبلک سٹریٹجک افسر پائپر سٹیج نیلسن بچوں سے بدسلوکی، جنسی حملوں، گھریلو تشدد اور سیکس ٹریفکنگ کو روکنے کے لیے کمیونٹی کو شریک کرنے کا کام کرتی ہیں۔

    یہ ادارہ جنسی حملوں کا شکار ایسے نوعمر افراد کو مشاورت فراہم کرتا ہے جو اسقاط حمل پر پابندی سے متعلق ایک نئے قانون کے تحت چھ ہفتوں کی زچّگی کے بعد اسقاطِ حمل کی خدمات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔

    سٹیج نیلسن نے اپنی زندگی خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی ہیشرفت کے لیے وقف کر دی ہے۔ وہ مشیل اوباما کے منصوبے لیٹ گرلز لرن کے علاوہ سیاست میں عورتوں کی تعداد، شرکت اور کامیابی میں اضافے کے لیے وقف ایک سیاسی ایکشن کمیٹی اینیز لسٹ کے لیے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

    *کووڈ-19 نے تو خود ہی ایک سماجی تبدیلی کو بطور بحالی قائم کر دیا ہے۔ لوگ اب اس بارے میں بات کرنے میں خود کو بااختیار محسوس کرتے ہیں کہ کیا اہم ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ ہر مرد، عورت اور بچے کو جسمانی خود مختاری اور رضامندی کے بارے میں معلومات دی جائیں۔

  • مولو میفسین

    ایتھیوپیانرس

    دس برس سے زیادہ عرصے تک نرس رہنے والی مولو میفسین اب ایتھیوپیا میں قائم ون سٹاپ سینٹر نامی ایک ادارے کے لیے کام کرتی ہیں جو جنسی بدسلوکی اور تشدد کا شکار افراد کو طبّی، نفسیاتی اور قانونی امداد فراہم کرتا ہے۔ وہ اس ادارے کے لیے جنگ زدہ علاقے ٹگرے کے علاقائی دارالحکومت میکیلی میں کام کرتی ہیں۔

    مولو میفسین نے ٹگرے میں نوعمر لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کی کوششیں تین برس قبل شروع کی تھیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو 2020 کے اواخر میں شروع ہونے والی اور اب تک جاری خانہ جنگی کے دوران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

    ذاتی طور پر خود بھی متاثر ہونے اور صدمے و خوف کا شکار بن جانے والی نرس مولو میفسین اس اُمّید میں اپنی جدوجہد جاری رکھنا چاہتی ہیں کہ ایک نہ ایک دن تو امن بحال ہو ہی جائے گا۔

    *میں دنیا کو تنازعات کے خاتمے اور ہتھیار فروخت کرنے کی بات چیت کی بجائے امن کے لیے کام کرنے اور ایسے قوانین کے نفاذ کے لیے بحال کرنا چاہتی ہوں جن کے تحت ریپ کرنے والوں اور نوعمر لڑکیوں اور عورتوں سے بدسلوکی کرنے والوں کو سزائیں دی جا سکیں۔

  • ساغی غہرِمن

    ایرانشاعر

    ایرانی نژاد کینیڈین ساغی غہرِمن ایرانی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ادارے ایرانین کوئیر آرگنائزیشن کی شریک بانی و صدر ہیں۔

    ٹورنٹو میں قائم ان کا یہ ادارہ ایرانین کوئیر آرگنائزیشن اُن تمام ایرانی ہم جنس پرستوں اور ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے جو ایران میں مقیم ہیں یا پھر کہیں اور جِلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ ادارہ ایران میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔

    شاعرہ ساغی غہرِمن نے 2010 میں ایران میں ہم جنس پرست ادبی مواد سے متعلق ادارہ گِلگامیشان بکس بھی قائم کیا۔ مدیرہ، ادیبہ اور چار شعری مجموعوں کی خالق ساغی غہرِمن کو عالمی پذیرائی حاصل ہے اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ وہ کئی مضامین بھی لکھ چکی ہیں۔ اُن کے کام کو مروّجہ اصول و ضوابط کو چیلنج کرنے اور جنس مخالف کی جانب جنسی کشش رکھنے کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

    *جب یہ دنیا بحال ہو رہی ہے تو پھر اس میں ہم سب کو بھی لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ دنیا صرف تب ہی کووڈ سے پاک ہو سکتی ہے اگر ہم اسے اس لیے بحال کریں کہ ہم جنس پرستوں کو بھی ان تمام رعایتیوں میں شامل کر لیا جائے جو تمام غیر ہم جنس پرست افراد نے اپنے طور پر خود ہی حاصل کر رکھی ہیں۔

  • میا کرسنا پراتیوی

    انڈونیشیاماہر ماحولیات

    انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی میا کرسنا پراتیوی ماہر ماحولیات ہیں۔ وہ اپنے غیر منافع بخش ادارے گری یا لوُہوُ کے ذریعے جزیرے بالی پر پلاسٹک پر مشتمل فضلے کے بحران کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ مقامی آبادی کی مدد سے اُن کے ادارے نے ایک ڈیجیٹل ویسٹ بینک تعمیر کیا ہے۔ ایک ایپ کے ذریعے چلنے والا یہ نظام فضلے کو جمع کرنے اور بہتر انداز سے ٹھکانے لگانے اور ویسٹ مینیجمنٹ کے سلسلے میں مزید تبدیلی کے لیے ڈیٹا جمع کرتا ہے۔

    انسٹیٹیوٹ ٹیکنالوجی بندنگ سے ماحولیاتی انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے والی میا کرسنا مقامی ویسٹ بینک میں بطور آپریشن مینیجر کام کرتی ہیں اور ادارے کی روزمرّہ سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔

    وہ انڈونیشیا کے شہر ڈین پسر کی نیشنل انوائرنمنٹ ایجنسی سے بھی بطور ماحولیاتی تجزیہ نگار منسلک ہیں۔

    *اہلیانِ بالی کے فلسفۂ ’تری ہتہ کرانا‘ کی اصل روح کے تحت آئیے مادرِ دھرتی کو اس کا توازن اور ہم آہنگی واپس لوٹا دیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ہی آلودگی کے مسئلے کی وجہ ہوں مگر ہم ہی اس کا حل بھی ہو سکتے ہیں۔

  • سیوَڈا الطونولک

    ترکیگول بال کی پیشہ ور کھلاڑی

    پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ترکی کی سیوَڈا الطونولک گول بال کی پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔ گول بال ایک ایسا کھیل ہےجس میں بینائی سے محروم یا متاثرہ یا آنکھوں پر پٹّی بندھے ہوئے تین تین کھلاڑیوں کی ٹیم مخالف ٹیم کے نیٹ میں ایسی گیند اچھالتی ہے جو گھنٹیوں سے بندھی ہوئی ہوتی ہے۔

    معذور افراد کے لیے اولمپک مقابلوں یعنی پیرالمپک گیمز کی جانب سے گول بال کی دنیا کی سب سے بہترین کھلاڑی نامزد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نہ صرف ان مقابلوں میں بلکہ دو مرتبہ عالمی چیمپئین شپ چار بار یورپیئن چیمپیئن شپ میں بھی سب سے زیادہ گول کرنے والی کھلاڑی رہیں۔ انھوں نے پیرالمپک کھیلوں کے لیے اپنے ملک ترکی کی خواتین کھلاڑیوں کی ٹیمز کو 2016 میں ریو اور 2020 میں ٹوکیو کے عالمی مقابلوں میں سونے کے تمغے دلوانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

    وہ اناطولیا کے علاقے طوکات میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے انقرہ سے فزیکل ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔

    *معذوری کو ایک رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اظہارِ ذات کے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

  • باربرا سمو لنسکا

    پولینڈبانی - ریبورن شوگر بیبیز

    پولینڈ سے تعلق رکھنے والی باربرا سمو لنسکا دراصل بالکل حقیقی نومولود بچّوں جیسی دکھائی دینے والی وہ گڑیا تخلیق (ڈیزائین)کرتی ہیں جنہیں ہائیپر ریئلسٹک ری بورن ڈول کہا جاتا ہے۔ یہ گُڑییں اصل میں ایسی خواتین کو جذباتی دباؤ ، الجھن ، تناؤ ، دھچکوں یا پریشانیوں سے نمٹنے اور نجات حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں جو اسقاطِ حمل کے غیر اختیاری تجربات سے گزری ہوں اور صدمے کا شکار ہوں۔ ڈول ڈیزائنر باربرا سمولنسکا کی تخلیق کردہ یہ بالکل زندہ بچوں جیسی گڑیا طریقۂ علاج بھی سمجھی جاتی ہے۔

    پہلے موسیقار رہنے والی باربرا سمولنسکا کوسمیٹولجسٹ ( ماہرِ نگہداشت بال ، جلد اور ناخن) ہیں اور انھوں نے کوسمیٹولوجی کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رکھی ہے اور اپنے ادارے ری بورن شوگر بیبیز کی بانی ہیں۔ ہاتھ سے بنائی جانے والی اُن کی یہ گڑیا نہ صرف فلموں میں دکھائی جاتی ہیں بلکہ صحت سے متعلق اور طبّی اداروں میں ڈاکٹرز ، نرسوں اور دائیوں کی تربیت میں استعمال ہوتی ہیں۔

    باربرا سمولنسکا اپنے اس فن کے بارے میں بہت پُرجوش ہیں اور یقین رکھتی ہیں کہ اُن کی یہ تخلیقات خواتین کو اُمّید دلوانے اور اُن کی ذہنی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

    *میں چاہوں گی کہ لوگ زیادہ ہمدرد بن جائیں ، زیادہ روادار ، زیادہ کشادہ دل ، وسیع القلب اور برداشت کرنے والے۔ جیسے کہ یہ گڑیوں کی مدد سے اپنایا جانے والا طریقۂ علاج ، جو بہت سی خواتین کی مدد کر سکتا ہے۔

  • مگدھا کالرا

    انڈیاشریک بانی - ناٹ دیٹ ڈفرینٹ

    انڈیا سے تعلق رکھنے والی مگدھا کالرا آٹزم کا شکار بچّوں کے حقوق کے لیے کوشاں ہیں اور خود بھی ایک 12 برس کے آٹسٹک بچے کی ماں ہیں۔ وہ ’ناٹ دیٹ ڈفرنٹ‘ نامی ایک تحریک کی شریک بانی ہیں۔ بچوں کی قیادت میں یہ تحریک ذہنی تغیّر کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے اور اس کی زندگی میں بہتر شمولیت کے لیے کوشاں ہے۔ وہ اپنی طرز کی واحد ایک ایسی تحریک کی روح رواں ہیں جو نہ صرف آٹزم کی بہتر سمجھ بوجھ حاصل کرنے بلکہ آٹسٹک بچوں سے دوستانہ رشتہ و تعلق قائم کرنے اور مختلف ذہنی صلاحیت کے حامل ایسے بچوں کی عام زندگی میں شمولیت کے لیے تمام بچوں کی مدد کرتی ہے۔

    مگدھا کالرا ایک پیشہ ور صحافی ہیں جو دستاویزی فلم کی لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پریزنٹر بھی رہی ہیں اور براڈکاسٹنگ کا 20 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ بطور کوچ تنوّع اور شمولیت کی تربیت بھی دیتی ہیں۔

    وہ پوڈ کاسٹنگ کی ایک انٹرایکٹِو ایپ بیک سٹیج کی چیف کانٹینٹ اسٹراٹیجسٹ بھی ہیں۔

    *وبا (کووڈ) نے سات ارب افراد کو ایک ہی مشترکہ حقیقت میں زندہ رہنا سکھایا ہے۔ اپنی اپنی دنیا میں تنہا مگر ایک مشترکہ مصیبت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔ میں چاہوں گی کہ یہ مشترکہ تجربہ ہم انسانوں میں ایک دوسرے کے لیے زیادہ بہتر ہمدردی پیدا کرنے کا باعث بنے۔

  • این سوئے مے

    میانمارجمہوریت کی حامی کارکن

    میانمار کی فوجی جنتا کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد این سوئے مے (اصلی نام نہیں) چھ ماہ تک قید رہیں اور حال ہی میں معافی دیے جانے کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔ انھیں فوج کے متعدد تفتیشی مراکز اور بدنام انسین جیل میں رکھا گیا تھا۔ وہ اپنی قید کے عرصے کو انتہائی مشکل وقت قرار دیتی ہیں اور ان کا الزام ہے کہ انھیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    اپنے زمانۂ طالبعلمی سے لے کر اب تک نوجوان این کئی تحاریک اور سرگرمیوں میں شامل رہیں۔ یکم فروری کو برپا ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد بھی وہ ملک کی فوج کے خلاف اٹھنے والی کئی احتجاجی تحاریک میں بڑی سرگرمی سے شریک رہیں جن میں فروری کی ’پوٹس اینڈ پین” تحریک بھی شامل ہے اور وہ خاموش ہڑتال بھی جو مارچ کے اواخر میں کی گئی۔

    رہائی کے بعد انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں

    *اگر واقعی دنیا بحال ہو سکے تو ہم کامیابی سے وبا پر قابو پانا چاہتے ہیں اور ایک پُرامن معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اُمّید ہے کہ دنیا بھر سے آمریتوں کو اکھاڑ پھینکا جائے گا اور ایک حقیقی اور پُرامن جمہوریت قائم ہو جائے گی۔

  • نانفوُ وانگ

    چینفلمساز

    چین کے ایک دور دراز گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایوارڈ یافتہ فلمساز نانفوُ وانگ اب امریکہ میں مقیم ہیں اور وہیں کام کرتی ہیں۔

    2016 میں اُن کی پہلی فلم ہوُلیگن سپیرو کو اکیڈمی ایوارڈ کی بہترین دستاویزی فیچر فلموں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ 2019 میں انھوں نے بطور ڈائریکٹر ایک فلم ون چائلڈ نیشن اور 2021 میں ایک اور فلم ان دا سیم بریتھ کی ہدایات دیں۔ ان فلموں میں یہ منظر کشی کی گئی کہ کووڈ-19 کی وبا پھوٹ پڑنے پر امریکہ اور چین کی حکومتوں نے کیسے ردِّعمل کا اظہار کیا۔

    نانفوُ وانگ نے غربت میں پرورش پائی لیکن انھوں نے شنگھائی، اوہایو اور نیویارک کی یونیورسٹیز سے ماسٹرز کی تین مختلف ڈگریاں حاصل کیں۔ 2020 میں انھیں اپنے ایک مقالے پر جو آمرانہ طرزِ حکومت، بدعنوانی اور عدم احتسابی کے اثرات کے جائزے پر مبنی ہے، میک آرتھر جینئس گرانٹ سے نوازا گیا۔

    *پوری دنیا ، بحالی یا معمول کو دوبارہ محسوس کرنے کے لیے بےقرار ہے لیکن جن حالات کو ہم معمول تصوّر کرتے ہیں وہ دراصل وہی ہیں جنھوں نے وہ بحران پیدا کیا جس سے ہم اب تک گزر رہے ہیں۔

  • میلنڈا فرینچ گیٹس

    امریکہسماجی کارکن اور بزنس وومن

    مخیر، انسان دوست، خواتین و لڑکیوں کے حقوق کی عالمی سطح پر معروف طرفدار، وکیل اور کاروباری شخصیت میلنڈا فرینچ گیٹس۔ بطور شریک سربراہ دنیا کے سب سے بڑے فلاحی اداروں میں سے ایک بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی سمت اور ترجیحات کا تعین کرتی ہیں۔

    وہ ایک سرمایہ کار ادارے پیوٹل وینچرز کی بھی بانی ہیں جو خواتین و خاندانوں کی سماجی ترقی کے لیے کام کرتا ہے جبکہ وہ بے حد مقبول اور بے تحاشہ فروخت ہونے والی کتاب دا مومنٹ آف لفٹ کی مصنّفہ بھی ہیں۔

    میلنڈا گیٹس نے ڈیوک یونیورسٹی سے ایم بی اے بھی کیا ہے اور کمپیوٹر سائنسز کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ انھوں نے ایک دہائی کا عرصہ ٹیکنالوجی کے ادارے مائیکرو سافٹ میں ملٹی میڈیا پروڈکٹس کی ڈویلپمنٹ میں صرف کیا اور اب اپنی بھرپور توجہ فلاحی کاموں اور خاندان پر مرکوز کرنے کی خاطر ادارے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

    *کووڈ-19 نے بہت گہرائی تک پوری دنیا میں پھیل جانے والی عدم مساوات کو بےنقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ اب بحالی کی کوششوں میں لڑکیوں اور خواتین کو مرکزی کردار دینے سے نہ صرف موجودہ مصائب و مشکلات میں کمی ہوگی بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد قائم ہو گی۔

  • بیرونس ہیلینا کینڈی کیو سی

    برطانیہڈائریکٹر - انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشنز ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ

    خواتین اور اقلیتیوں کے حقوق کے دفاع کے لیے معروف کوئینز کاؤنسل بیرونس ہیلینا کینڈی کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ گذشتہ چالیس برس سے وکالت کر رہی ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی ایک ادارے انٹرنیشنل بار ایسو سی ایشنز ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ادارہ حال میں خطرات کا شکار افغان خواتین کو امداد فراہم کرتا رہا ہے۔

    وہ کئی برس سے آکسفرڈ یونیورسٹی کے مینز فیلڈ کالج کی پرنسپل ہیں اور انھوں نے انسانی حقوق کا ایک اور ادارہ بوناویرو انسٹیٹیوٹ آف ہئیومن رائٹس بھی قائم کیا ہے۔

    نظام انصاف عورتوں کو کیسے ناکام کررہا ہے ، اس موضوع پر بیرونس ہیلینا کینڈی نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں اور انھیں 1997 میں لیبر پارٹی کی جانب سے برطانوی پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز کا رکنیت دی گئی تھی۔

    *ہمارے انسانی حقوق تب تک بےمعنی ہیں جب تک ہمارے مقدمات کی سماعت اور اُن پر بحث کے لیے وکلا اور آزاد ججز کے طور پر مرد و خواتین دونوں نہ ہوں۔

  • ایمان لی کائر

    مصربانی - ٹرانس ازیلیاز

    مصر سے تعلق رکھنے والی ایمان لی کائر دورِ جدید میں قاہرہ کے اوپرا ہاؤس کی ایک رقّاصہ بھی ہیں اور کوریو گرافر بھی۔ انھیں اُس وقت مصر سے فرار ہونا پڑا جب پولیس نے اُن کے خلاف ہم جنس پرست ہونے کے الزام میں کارروائی شروع کی۔ وہ 2008 میں امریکہ پہنچیں جہاں انھوں نے سیاسی پناہ حاصل کی اور اب بطور فنکارہ ، رقّاصہ ، اداکارہ اور ہم جنس پرست حقوق کی سرگرم کارکن کی حیثیت سے نیویارک میں مقیم ہیں۔

    ایمان لی کائر اب ٹرانس امیگریٹ نامی ایک ادارے سے بطورعربک ریلیشنز مینیجر منسلک ہیں۔ یہ ادارہ ٹرانس جینڈر افراد کو زیادہ محفوظ ممالک میں منتقل ہونے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔

    مارچ 2021 میں ٹرانس جینڈر افراد کے عالمی دن ’ڈے آف ویزیبیلٹی‘ کے موقع پر انھوں نے اپنی فاؤنڈیشن ٹرانس ازیلیاز‘ کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ ٹرانس جینڈر پناہ گزینوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے ، وہاں پناہ کے حصول میں مدد کے ساتھ ساتھ اخلاقی و جذباتی حمایت و امداد بھی فراہم کرتا ہے۔

    *وبا (کووڈ-19) نے ٹرانس جینڈر افراد کو پہلے ہی زمین پر سب سے کمزور بنا کر رکھ دیا ہے بلکہ بدسلوکی کرنے والے خاندانوں میں تو انھیں زبردستی الگ تھلگ رہنے پر مجبور کیے جانے سے بعض اوقات تو وہ اور بڑے خطرات کی زد پر رہے۔ جب پوری دنیا بند پڑی تھی تو مدد کے لیے ٹرانس جینڈر افراد کی چیخیں بہت دلخراش تھیں۔ اب دنیا کو انھیں بچانا ہوگا اور اُن کی بحالی میں مدد دینی ہوگی۔

  • نجلا المنقوش

    برطانیہ لیبیا کی وزیر خارجہ

    اس برس مقرر ہونے والی لیبیا کی پہلی خاتون وزیر خارجہ نجلا المنقوش پیشے کے اعتبار سے سفارتکار اور وکیل ہیں۔ 2011 میں لیبیا کے انقلاب کے دوران وہ لیبیا کی اُس قومی عبوری کاؤنسل کی سربراہ تھیں جس نے معاشرتی و قومی تعمیر کا کام انجام دیا۔

    وہ امریکہ میں قائم ادارے یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں لیبیا کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ وہ مذاہب عالم سفارتکاری اور تنازعات کے حل کے لیے قائم عالمی ادارے سینٹر فار ورلڈ ریلیجنز ، ڈپلومیسی اینڈ کونفلکٹ ریزرو لوشن کے ساتھ قیامِ امن اور نفاذِ قانون کے منصوبوں ہر کام کرتی رہی ہیں۔ لیبیا میں جاری سیاسی رسّہ کشی اور کشمکش سے اُن پر دباؤ پڑا کے وہ مستعفی ہو جائیں۔ اور حال ہی میں ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔

    انھوں نے بن غازی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی جبکہ جارج میسن یونیورسٹی سے تنازعات کے تجزیے اور حل کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔

    *دنیا نے 2021 میں بڑی زبردست پیشرفت کی ہے۔ میں دنیا سے ایک ایسا آغاز چاہتی ہوں جو ہماری زندگیوں میں معنی اور مقاصد لے کر آئے اور انسانیت کی زیادہ بہتر خدمت کی جا سکے۔

  • ملالہ یوسفزئی

    پاکستانشریک بانی، ملالہ فنڈ

    امن کا نوبیل انعام جیتنے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت ملالہ یوسفزئی خواتین کی تعلیم کے لیے سرگرم پاکستانی سماجی کارکن اور اقوامِ متحدہ کی سفیر براِئے امن ہیں۔ وہ 11 برس کی عمر سے خواتین کو تعلیم کے حصول کا حق دینے کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

    ملالہ نے اپنے ایکٹوازم کا آغاز بی بی سی اردو کے لیے بلاگ لکھنے سے کیا جس کا موضوع پاکستان میں طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں خواتین کے حصولِ تعلیم پر پابندیاں تھا۔ ان کے اس کام کی وجہ سے اکتوبر 2012 میں ان پر سوات میں قاتلانہ حملہ ہوا

    صحت یابی کے بعد وہ اپنی تنظیم ملالہ فنڈ کے لیے کام کر رہی ہیں جس کا مقصد ایک ایسی دنیا کی تخلیق ہے جہاں ہر لڑکی بلا خوف و خطر تعلیم حاصل کر سکے۔

    *آج بھی لاکھوں لڑکیاں سکول نہیں جا سکتیں۔ میں ایسی دنیا دیکھنا چاہتی ہوں جہاں ہر لڑکی کو 12 برس کی مفت، محفوظ اور معیاری تعلیم کی سہولت میسر ہو۔ ایسی دنیا جہاں لڑکیاں کچھ سیکھ سکیں اور قیادت کر سکیں۔

  • نجیلہ حبیب یار

    افغانستانبزنس وومن

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی نجیلہ حبیب یار نے بلیو ٹریژر انکارپوریشن اور آرک گروپ جیسے ادارے قائم کیے تاکہ (قالین یا کپڑا یا دیگر اشیا)بُننے والی افغان خواتین کو اپنی تیار کردہ مصنوعات مہنگے اور بہت زیادہ منافع کمانے والے آڑھتیوں کے بغیر بیرونِ ملک فروخت کرنے میں مدد دے سکیں۔ انھوں نے امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ اور عالمی بینک کے بھی ایسے منصوبوں پر کام کیا ہے جو تجارتی نقطۂ نظر سے خواتین کو با اختیار بنانے اور ماحولیات سے متعلق تھے۔

    2012 سے 2015 کے درمیان انھوں نے ایکسپورٹ پروموشن ایجنسی میں بھی بطور چیف ایگزیکٹِو آفیسر (سی ای او) خدمات انجام دیں تاکہ دنیا بھر میں افغان برآمدات کو فروغ دیا جاسکے۔

    انھوں نے 13 برس تک منافع نہ کمانے والے شعبے میں بھی غیر منافع بخش خدمات انجام دیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بے گھر خاندانوں کی نگہداشت کے لیے ایک ادارے افغان ویراسٹی کیئر فار ان شیلٹرڈ فیملیز کا قیام بھی شامل ہے۔

    *بطور ایک افغان عورت ، جن مصائب و مشکلات سے مجھے گزرنا پڑا ، اُن کے باوجود میں اُمّید کرتی ہوں کہ اپنی آئندہ نسلوں کے کیے جنگ کی وراثت کے خاتمے میں شریک ہوسکوں۔

  • لیما آفشد

    افغانستانشاعر

    لیما آفشد ایوارڈ یافتہ افغان شاعرہ و ادیبہ ہیں جن کی شاعری اور مضامین افغان ثقافت میں پدر شاہی کے اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔

    صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لیما آفشد نے بطور رپورٹر اور سماجی مبصّر پانچ برس تک خدمات انجام دیں۔

    وہ کابل یونیورسٹی میں شعرا کی تنظیم ’شعرِ دانشگاہ‘ کی بھی رکن ہیں۔ اس تنظیم نے وبا کے دوران اپنے دو سو سے زیادہ اراکین کے لیے ورچوئل شعری نشستوں کا اہتمام کیا تاکہ صحت کے بحران کے باوجود اجتماعی معاشرت کا احساس برقرار رہے۔

    *سقوطِ افغانستان اُسی دلدل میں واپس ڈوب جانے کے برابر ہے جس سے نکلنے کی جدوجہد ہم بیس برس تک کرتے رہے۔ لیکن بہرحال میں پُر اُمّید ہوں کہ ہم این شاخ کی طرح نمو پائیں گے جنگل کی تاریکی میں بھی روشنی کی سمت بڑھیں گے۔

  • لینا علم

    افغانستاناداکارہ

    فلم ، ٹی وی اور تھیٹر کی ایوارڈ یافتہ افغان اداکارہ لینا عَلَم انسانی حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔ وہ ٹی وی پر نسائی حقوق کے بارے میں دکھائی جانے والی نشریات جیسے کہ ’شیریں‘ اور ’فرخندہ کا قتل‘ وغیرہ میں اپنے کام کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔ فرخندہ وہ خاتون تھیں جن پر قرآن کی بے حرمتی کا جھوٹا الزام لگنے کے بعد انھیں مردوں کے ایک ہجوم نے سرِعام ماڑ ڈالا تھا۔

    وہ 1980 میں افغانستان سے فرار اختیار کرکے امریکہ منتقل ہوگئی تھیں مگر اب بھی اپنے آبائی وطن سے متعلق کہانیاں بیان کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    2009 میں انھیں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن کا سفیرِ امن مقرر کیا گیا تھا۔

    *اتنی قربانیوں اور خون خرابے کے باوجود بھی تعمیرِنو میں ہمیں دہائیاں لگیں۔ اور محض آنکھ جھپکتے ہی اس کو زمین پر گرتے دیکھنا بہت دلخراش تھا۔ مگر لڑائی کو جاری رہنا چاہیے ، اور اس بار زیادہ مضبوط بنیادوں کے ساتھ۔

  • رویا سادات

    افغانستانفلمساز

    افغان فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر رویا سادات کی پیشہ ورانہ خدمات بیس برس سے زیادہ عرصے پر محیط ہیں جس نے انھیں بالآخر آسکر کی نامزدگی کی دوڑ تک پہنچا دیا۔ وہ طالبان دور میں ابھرنے والی ملک کی پہلی خاتون ڈائریکٹر ہیں اور افغان خواتین کے کیے آواز اٹھاتی اُن کی فلموں میں افغان خواتین کی زندگی اور اُن پر عائد پابندیوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

    2017 میں اُن کی فلم “اے لیٹر ٹو دی پریذیڈنٹ” کو 90ویں اکیڈمی ایوارڈ میں غیر ملکی زبان میں سب سے بہترین فلم سب سے بہترین فلم کے طور پر افغان اینٹری کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔

    وہ ایک آزاد و خودمختار فلمی ادارے رویا فلم ہاؤس کی شریک بانی ہیں اور افغان خواتین کا انٹرنیشنل ویمن فلم فیسٹیول قائم کرنے کا سہرا بھی اُن ہی کے سر ہے ، جس کے لیے وہ بطور صدر کام کرتی ہیں۔

    *طالبان دور کے پہلے پانچ سال میں مجھے اُمّید تھی کہ یہ ایک دن ختم ہوجائے اور میرے سکول کے دروازے میرے لیے کھل جائیں گے۔ آج بھی مجھے یقین ہے کہ آزادی کی آواز ، عوام کی ، ایک روز فتح یاب ہوگی۔

  • فرشتہ کریم

    افغانستانچار مغز موبائل لائبریری کی بانی

    کابل میں قائم غیر سرکاری تنظیم چار مغز وہ ادارہ ہے جس نے بسوں کو موبائل لائبریری میں بدل کر فن پاروں اور کتابوں کو شہر کے بہت سے محلّوں کے سینکڑوں بچّوں تک پہنچا دیا۔

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی بچّوں کے حقوق کی سرگرم کارکن فرشتہ کریم نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے پبلک پالیسی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یہ تنظیم 2018 میں قائم کی تھی۔

    فرشتہ کریم نے اپنے سفر کا آغاز 12 برس کی عمر میں ٹی وی پر بچوں کے ایک شو کی میزبانی اور افغانستان میں بچوں کے حقوق کی صورتحال کے بارے میں کئی رپورٹس تیار کرکے کیا تھا۔ اور وہ تب سے ہی اس شعبے سے منسلک ہیں۔

    *میں بچوں کے ساتھ کام کرتی ہوں کیوں کہ میں انھیں افغانستان کے لیے ’جمود توڑنے والا‘ سمجھتی ہوں۔ وہ افغانستان میں ظلم و جبر و تشدد کے نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں اور نئے بیانیے اور نئی سیاست کی جگہ بنا سکتے ہیں۔

  • زرلشت حلیم زئی

    افغانستانسی ای او - ریفیوجی ٹروما انیشیئیٹو

    کبھی خود بھی افغانستان سے نکل کر ایک پناہ گزین رہنے والی زرلشت حلیَم زئی اب پناہ گزینوں کے لیے قائم ایک ادارے ریفیوجی ٹراما انیشی ایٹِو (آر ٹی آئی) کی شریک بانی بھی ہیں اور چیف آپریٹنگ آفیسر بھی۔ یہ ادارہ پناہ گزینوں کو تشدد، بے گھری اور نقلِ مکانی کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد فراہم کرتا ہے۔

    آر ٹی آئی قائم کرنے سے قبل انھوں نے شام اور ترکی کی سرحد پر خطرات (رسک) سے دوچار بچوں کو تعلیم تک رسائی دلوانے میں مدد فراہم کی جبکہ وہ پناہ گزین بچوں کے تعلیم اور نگہداشت کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کو مشاورت بھی فراہم کرتی رہیں۔

    وہ 2018 میں اوباما فاؤنڈیشن کے بانی اراکین میں بھی شامل رہیں۔ سابق امریکی صدر براک اوباما کی سرپرستی و کفالت سے چلنے والا یہ ادارہ سماجی امور میں مہارت رکھنے والے 20 عالمی رہنماؤں پر مشتمل ہے۔

    *مستقبل کی لیے میری اُمّید ہے کہ افغانستان میں تشدد کا یہ سلسلہ ختم ہو جو مسلسل جاری ہے اور جس نے افغان عوام کی زندگیاں تباہ کرکے رکھ دی ہیں۔

  • کرسٹل بیات

    افغانستانسماجی کارکن

    انسانی حقوق کی وکلالت کرنے والی سماجی رہنما کرسٹل بیات کو 2021 میں افغانستان طالبان کے غلبے کے خلاف اُن کے احتجاج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

    وہ 19 اگست کو افغانستان کے یومِ آزادی کے موقع پر کابل میں ہونے والے اس احتجاج کے منتظمین میں شامل تھیں جس میں اُن سمیت محض سات خواتین شریک ہوئیں۔ انھوں نے سیاسی انتظام کے شعبے میں اس برس پی ایچ ڈی کا آغاز کیا مگر ملک پر طالبان کے قبضے کی وجہ سے اُن کا یہ تعلیمی سلسلہ ادھورا رہ گیا۔

    فی الوقت وہ امریکہ میں مقیم ہیں جہاں سے وہ انسانی حقوق کے لیے افغانستان میں حاصل کردہ کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھیں اُمّید ہے کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرکے ایک کتاب لکھ سکیں گی۔

    *بالآخر میں مستقبل میں افغانستان میں آنے والی جمہوری تبدیلیوں کا حصّہ بننا چاہوں گی۔ میرا خواب ہے کہ میں اقوام متحدہ سے خطاب کر سکوں۔ کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ دنیا کو وہ حقیقت سننے کی ضرورت ہے جو افغانوں ، خصوصاً خواتین کے پاس کہنے کو ہے۔

  • غوغہ

    افغانستانموسیقار

    ایک بہت ہی باصلاحیت گلوکارہ ، نغمہ نگار اور موسیقار غوغہ پانچ برس سے موسیقی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ اُن کے مدّاحوں اُن کے وہ نغمے جو زیادہ تر افغان عوام اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتے ہیں پسند کرتے ہیں اور اُن کے گانوں کے بول حالاتِ حاضرہ پر احتجاج پر مبنی ہوتے ہیں۔

    2019 میں غوغہ نے رامین مظہر کی لکھی ہوئی نظم ’میں تمہیں طالبان کے بیچ میں بوسہ دوں گی‘ کی موسیقی ترتیب دے کر اُسے گایا تو یہ آن لائن ہوتے ہی آناً فاناً وائرل ہوگئی۔ اُن کا تازہ ترین نغمہ ’تبسّم‘ اُن افغان بچوں کے نام ہے جن کے خواب جنگ کی وجہ سے چکناچور ہوگئے۔

    غوغہ کہتی ہیں کہ وہ نغمے اس لیے لکھتی ہیں کہ ’میرے ملک میں کبھی ختم نہ ہونے والی جنگ نے انہیں کبھی امن نہیں دیکھنے دیا۔‘ اُن کا یہ دکھ اُن کے نغموں کے بول میں جھلکتا ہے۔

    *میری مادر وطن کا آسمان اتنے ہی رنگوں کی پتنگوں سے سجا ہوا ہے جتنے رنگ کے میزائل ہوا میں ہیں۔ مجھے ہر دم اپنے لوگوں کا خیال ہے ، خصوصاً بچوں اور عورتوں کا ، ہر گھنٹے کی ہر گھڑی ، اُن کی سلامتی کے بارے میں خوف ، میرا مستقل ساتھی ہے۔

  • سعیدہ اعتباری

    افغانستانزیورات کی ڈیزائنر

    روایتی افغان طرز پر مقامی جواہرات سے تخلیق کردہ اُن کے زیورات و فن پارے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی سمتھسونیئن نمائش میں پیش کیے گئے۔

    زیورات و جواہرات کی عالمی سطح پر معروفز تخلیق کار سعیدہ اعتباری ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

    ایک برس کی عمر میں ایک پناہ گزین کیمپ میں گردن توڑ بخار میں مبتلا ہوکر وہ سماعت سے محروم ہوگئیں۔ پھر انہوں نے سماعت سے محروم افراد کے لیے قائم اس ادارے سے تعلیم حاصل کی جسے کی تعمیر و قیام میں اُن کے والد نے بھی مدد کی تھی۔ تعلیم مکمل کرکے انہوں نے ٹرکوائز ماؤنٹین انسٹیٹیٹیوٹ فار آرٹس اینڈ آرکیٹیکچر سے زیورات کی تیاری میں خصوصی مہارت حاصل کی۔

    *اب خواتین بے روزگار ہیں اور صرف مرد ہی کام کر سکتے ہیں۔ اب حکومت بدل گئی ہے۔ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے میری اُمّیدیں مایّوسی میں بدل گئی ہیں۔

  • لیلیٰ حیدری

    پاکستانمدر کیمپ کی بانی

    منشیات کے عادی افراد کے بارے میں تمام تر ممنوعہ تصورات کے باوجود لیلیٰ حیدری نے 2010 سے کابل میں منشیات سے نجات کا واحد مرکز قائم کر رکھا ہے اور اب تک 6400 کے لگ بھگ افغانیوں کی مدد کر چکی ہیں۔ اس مرکز کے قیام کے لیے پہلے تو انھوں نے اپنی بچت سے سرمایہ کاری کی اور پھر ایک ایسا ریسٹورینٹ کھولا جسے انھی کے مرکز میں منشیات سے نجات پا جانے والے افراد چلاتے رہے تاکہ اس مرکز کو مالی مدد ملتی رہے۔ مگر سقوط کابل کے بعد اس ریسٹورینٹ کو بند کرنا پڑا۔

    لیلیٰ حیدری کا خاندان بامیان (افغانستان) سے تعلق رکھتا ہے مگر وہ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم کیمپ میں پیدا ہوئیں۔ وہ خود ایک سابقہ ’کم سن دلہن‘ ہیں جنھیں محض 12 برس کی عمر میں بیاہ دیا گیا تھا مگر وہ خواتین کے حقوق کی زبردست وکیل ہیں۔

    2018 میں تمام تر دھمکیوں اور مخالفت کے باوجود اپنا مرکز چلاتے رہنے کی اُن کی جدوجہد کے بارے میں ایک دستاویزی فلم ’لیلیٰ ایٹ دا برج‘ بنائی گئی جس میں خود وہ بھی دکھائی دیں۔

    *مجھے اُمّید ہے کہ آگہی کے فروغ سے ہم ایک زیادہ اخلاقی و انسان دوست اور شفیق دنیا قائم کرسکتے ہیں۔ ہم باہمی طور پر منسلک ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ایک امریکی شہری کا ووٹ ایک افغان باشندے کی قسمت بدل کر کایا پلٹ کر رکھ سکتا ہے۔

  • سارہ واحدی

    افغانستاناحتساب نامی سٹارٹ اپ کی سربراہ

    سارہ افغانستان میں ٹیکنالوجی سے متعلق ادارے ’احتساب‘ کی بانی ہیں۔ اس ادارے کی بنائی گئی پہلی پروڈکٹ ایک ایپ تھی جو کابل کے شہریوں کو ریئل ٹائم سکیورٹی، ٹریفک الرٹ اور حفاظتی اپ ڈیٹس فراہم کرتی تھی۔ افغان شہریوں کو اُن کے اطراف موجود خطرات یا خطرات کی نوعیت و امکانات مثلاً گھریلو ساختہ دھماکہ خیز مواد ، سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد کے حملے کا امکان عوامی سطح پر تشدد یا گھروں پر حملے کے امکانات وغیرہ کے بارے میں صارفین کو مستند معلومات فراہم میں یہ ایپ بڑی حد تک مددگار ثابت ہوئی۔

    اب 2022 میں سارہ واحدی مضافاتی علاقوں میں بھی ایسی ہی سہولت تک رسائی دینے کے لیے ایس ایم ایس الرٹ جاری کرنے کا نظام قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    ٹیکنالوجی کے شعبے کی یہ آنٹروپرونیور ٹائم میگزین کی جانب سے 2021 کی ’نیکسٹ جینریشن لیڈر‘ قرار دی گئیں اور فی الوقت کولمبیا یونیورسٹی سے انسانی حقوق اور ڈیٹا سائنسز کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

    *افغانوں کا ملک کی تعمیرِ نو اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے مطالبے کے حق میں متحد ہوکر اٹھ کھڑا ہونا ناگزیر ہو گا اور وہاں تک پہنچنے کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی اجتماعی تعلیم و صحت کی سرگرم و شدید جدوجہد بھی ناگزیر و ضروری ہے۔

  • پشتانہ درانی

    افغانستاناستاد، لرن افغانستان

    لرن افغانستان نامی ادارے کی بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پشتانہ دُرّانی پیشے کے اعتبار سے معلّمہ ہیں جنھوں نے اپنی زندگی تعلیم خصوصاً لڑکیوں کے حقِ تعلیم کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اُن کے ادارے لرن نے قندہار میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جو اساتذہ کی تربیت اور طلبا کو سکھانے کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔

    یہ ادارہ ایک ایپ ’رومی ایپ‘ جو چھ منٹ کے ایک ’موبائل فرسٹ‘ تجربے کی مدد سے کام کرتی ہے، کے ذریعے لڑکیوں کو ویڈیوز یا تعلیمی و تربیتی گیمز کی مدد سے تعلیمی وسائل تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔ یہ ادارہ مضافاتی علاقوں کی خواتین کو بھی مڈ وائف کے طور پر کام کرنے کی تربیت فراہم کرتا ہے۔

    وہ اقوام متحدہ میں افغان نوجوانوں کی نمائندہ ہیں اور افغان لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے کی اپنی کوششوں کے اعتراف کے طور پر ملالہ فنڈ ایجوکیشن چیمپیئن ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔

    *یہ تعجب خیز ہے کہ جو کچھ ہم ہیں ، دنیا ہمیں اس بنیاد پر کتنا نیچا دکھانا چاہتی ہے۔ مگر ہم کتنے ہی زخم خوردہ، خوفزدہ اور گھائل ہوجائیں اس سے فرق نہیں پڑتا ، ہم ثابت قدم رہیں گے چاہے راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔

  • ژالہ زازئی

    افغانستانپولیس افسر

    ژالہ زازئی افغانستان کے صوبۂ خوست میں پولیس کے کرائم انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ کی پہلی خاتون ڈپٹی چیف ہیں۔ یہ علاقہ شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں کی بنا پر تیزی سے غیرمستحکم ہوا ہے۔ سیکنڈ لیفٹنٹ ژالہ زازئی افغانستان بھر کی اُن قریباً چار ہزار خواتین میں شامل ہیں جو ترکی کی پولیس اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد پولیس میں خدمات انجام دیتی ہیں۔

    پولیس میں خدمات انجام دینے کے دوران انھیں نہ صرف شدت پسندوں کی بلکہ اپنے ہی ساتھی پویس اہلکاروں کی جانب سے بھی ہراسانی اور دھونس دھمکی اور غندہ گردانہ رویّوں کا سامنا رہا۔

    2021 میں طالبان کے غلبے کے بعد انھیں ملک سے فرار ہونا پڑا اور تب سے ہی وہ اُن دیگر خواتین پولیس اہلکاروں کے تحفظ و سلامتی کے بارے میں فکر و پریشانی کا اظہار کرنے کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں جو محفوظ رہنے کے لیے ملک سے نکل تو نہیں سکیں مگر اب افغانستان میں ہی روپوشی پر مجبور ہیں۔

    *مستقبل کے لیے میرا خواب یہ ہے کہ میں ایک روایتی اور پدر شاہانہ معاشرے و سماج کو چیلنج کرنے کے لیے دوبارہ اپنی وردی پہن سکوں۔ میں افغان خواتین کے لیے ان دوردراز علاقوں میں کام کرنا چاہتی ہوں جہاں خواتین کو کام کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔

  • بنفشہ یعقوبی

    افغانستانمعذور افراد کے لیے سرگرم کارکن

    بنفشہ یعقوبی اور ان کے شریکِ حیات دونوں نابینا ہیں۔ انھوں نے بصارت سے محروم افغان باشندوں کو تعلیم فراہم کرنے اور بحالی میں مدد دینے کے لیے اپنا ادارہ ’راہ یاب آرگنائزیشن‘ قائم کیا۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم بنفشہ یعقوبی ملک کے آزاد انسانی حقوق کمیشن میں بطور کمشنر بھی کام کرتی رہی ہیں اور ان کی توجہ بینائی سے محروم افغان بچوں کی تعلیم پر مرکوز رہی ہے۔

    طالبان کی یلغار کے بعد انھیں ملک چھوڑنا پڑا لیکن وہ ان افغان معذور افراد کی وکالت میں آواز بلند کرتی رہیں جن کے بارے میں انھیں خدشہ ہے کہ طالبان اُن سے امتیاز برتیں گے۔

    رسائی اور امتیازی سلوک افغانستان کے سنگین مسائل رہے ہیں۔ افغانستان آبادی میں معذور افراد کے تناسب کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے جس کی ایک وجہ دہائیوں سے وہاں جاری جنگ بھی ہے۔

    *اگر اب بھی کوئی اُمّید ہے تو میرے لیے وہ اپنے ملک کو زیادہ آزاد دیکھنے اور تمام افغانوں کی اس کی ترقی میں شمولیت کے حوالے سے ہے۔

  • فہیمہ میرزائی

    افغانستانصوفی رقاصہ

    صوفیانہ رقص کے شعبے میں افغانستان کی پہلی اور واحد خاتون فنکارہ فہیمہ میرزائی صوفی اسلامی تقریبات اور محافلِ سماع کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ انھوں نے صوفی ڈانس اور پرفارمنگ آرٹس کا ایک مخلوط ادارہ ’شہود کلچرل اینڈ مسٹیکل آرگنائزیشن‘ قائم کیا ہے جو صوفیانہ و ثقافتی فنون خصوصاً وجدان و رقص سے متعلق ہے۔

    وہ رقص کو اپنے لیے ایک ایسے معاشرے میں جگہ بنانے کا ذریعہ سمجھتی جو بہت گہرائی تک روایتی و مذہبی سماج ہے اور جہاں مرد و خواتین کی مخلوط سرگرمیاں اب بھی ممنوعہ تصور ہوتی ہیں۔ انہیں امُید ہے کہ ملک بھر میں تقریبات کی انعقاد سے وہ افغانستان میں رواداری کو فروغ دے سکیں گی۔

    2021 میں وہ ملک سے چلے جانے پر مجبور ہو گئیں کیوں کہ طالبان صوفیانہ رقص اور دھمال کو بدعت اور اسلامی قوانین کے منافی سمجھتے ہیں۔

    *میں تو اپنی روحانیت کو سب سے پہلی ترجیح دینے پر ایمان رکھتی ہوں۔ ہمیں سکون سب سے پہلے اپنے ہی اندر تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر یہ اندرونی سکون پوری دنیا تک پھیل جائے گا۔

  • ڈاکٹر عالمہ

    افغانستانفلسفی اور ماہرِ سماجیات

    فلسفے اور سماجی علوم کی ممتاز دانشور ڈاکٹرعالمہ وزراتِ امن میں انسانی حقوق اور معاشرتی امور کی نائب وزیر تھیں۔ وہ خواتین کے حقوق کی ایک نامور وکیل اور سیاست میں خواتین کے کردار سے متعلق ایک ادارے انڈیپینڈینٹ ویمنز پلیٹیکل پارٹیسیپیشن کمیٹی کی بانی بھی ہیں۔

    جرمنی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کرنے والی ڈاکٹرعالمہ تنازعات کے تجربے کے شعبے میں 20 برس سے زیادہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔

    وہ افغان جرمن بین اقوام تعلقات اور افغانستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوعات پر کئی کتابوں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ پناہ گزینوں، تارکین وطن اور بے گھری جیسے موضوعات کا احاطہ کرنے والے انسانیت سے متعلق قوانین کی پیشہ ور تربیت کار اور ناظمہ بھی ہیں۔

    *ایک آزاد اور جمہوری افغانستان میرا خواب ہے جہاں ایک جدید آئین کے تحت شہری حقوق کو تحفظ حاصل ہو اور جہاں خواتین کو بھی زندگی کے ہر شعبے میں ہر شہری کے برابر شراکت کے حق کی ضمانت حاصل ہو۔

  • شمسیہ حسنی

    ایرانسٹریٹ آرٹسٹ

    تنازعات سے تباہ حال شہر میں رنگ بھرنے والی شمسیہ حسنی افغانستان کی پہلی سٹریٹ آرٹسٹ ہیں جو دیواروں پر رنگ بکھیر کر اپنے فن (گرافیٹی) کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ کابل کی تباہ شدہ ، لاوارث یا متروکہ دیواروں پر رنگوں سے نقش و نگار بناتی ہیں جن میں وہ خواتین کی تصویر کشی کرتے ہوئے انھیں انتہائی پُراعتماد، طاقتور، باہمّت اور آرزومند دکھاتی ہیں۔

    وہ ایران میں مقیم اپنے افغان والدین کے ہاں پیدا ہوئیں اور انھوں نے بصری فنون (ویژول آرٹس) کی تعلیم کابل سے حاصل کی۔ پھر کابل یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ رہیں اور 15 سے زیادہ ممالک میں دیواروں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرچکی ہیں۔ وہ جریدے ’فارن پالیسی‘ کی جانب سے 100 عالمی مفکرین میں شامل کی گئیں اور پہل کرنے والی خواتین کے خاکوں پر مبنی مقبول کتاب ’گڈ نائٹ سٹوریز فار ریبل گرلز 2‘ میں بھی اُن کا تذکرہ شامل ہے۔

    طالبان کی یلغار کے باوجود شمسیہ حسنی سوشل میڈیا پر اپنے فن پاروں کی نمائش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    *گذشتہ 15 برس سے زائد عرصے تک ، میں نے جب بھی اپنے ملک کے لیے خوش اُمید ہوئی ہمیشہ معاملات بدترین رخ اختیار کر گئے۔ اب مجھے ایک روشن تر افغانستان کی کوئی اُمّید ہی نہیں رہی۔ مایوس ہونے سے بہتر یہی ہے کہ اُمید ہی نہ لگائی جائے۔

  • فائزہ درخانی

    افغانستانماحولیاتی کارکن

    افغانستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں سرگرم چند ہی افراد میں ایسے ایک فائزہ درخانی اسسٹنٹ پروفیسر اور صوبۂ بدخشاں میں قومی ادارۂ تحفظ ماحولیات کی سابق ڈائریکٹر ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق کی بھی سرگرم کارکن ہیں۔

    انہوں نے ملائشیا کی پٹرا یونیورسٹی سے لینڈ سکیپ آرکیٹیکچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور انھوں نے شہری زمین کی پائیدار انتظام کاری اور گنجان آباد شہری علاقوں میں غذائی پیداوار کے لیے جدید عمودی زرعی طریقۂ کار جیسے موضوعات پر تحقیقی مقالہ بھی تحریر کیا ہے۔

    وہ تحفظِ ماحولیات کے لیے عوامی آگہی کے فروغ اور خواتین پر مرکوز پائیدار منصوبوں کے نفاذ پر یقین رکھتی ہیں۔

    *مجمع سے الگ کھڑے رہنا ایک بہادرانہ فیصلہ ہوتا ہے آپ کو اپنے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ضرور کوشاں رہنا چاہیے اور میرا خواب جنگوں اور آلودگی سے پاک ایک صاف اور محفوظ ماحول ہے۔

  • رخسانہ

    افغانستانسرجن

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رخسانہ سرجن بھی ہیں اور اسسٹنٹ پروفیسر بھی۔ وہ ایک ایسے ادارے کی بانی بھی ہیں جو ایسے مریضوں کو ابتدائی طبّی نگہداشت فراہم کرتا ہے جو تنازعات کی وجہ سے ایک صوبے سے بےگھر ہوکر کہیں اور نقلِ مکانی کرگئے ہوں۔

    وہ جنگ کے دوران شدید خطرات سے دوچار اور عدم تحفظ کا شکار افراد کو طبّی امداد پہنچانے کے لیے کئی بار مخدوش حالات میں کام کرتی رہیں۔ وہ سرطان کے سدباب کے لیے قائم ادارے نیشنل کینسر کنٹرول پروگرام سے بطور رضاکار منسلک ہیں ان دنوں چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگہی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    وہ سرجری کے شعبے میں اپنے کام کے بارے میں بہت پُرجوش ہیں اور انہیں اُمید ہے کہ کہ افغانستان میں شعبۂ طب کے طلبا کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    *ہر بڑی تبدیلی دراصل رہنما کی وابستگی، لگن اور مقصد کے لیے وقف ہو جانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں لیڈر نہ بھی ہوں مگر میں بدعنوانی کے شکار اور مفلوج نظام صحت کو تبدیل کرنے کے لیے یہاں افغانستان میں ہی رہوں گی۔

  • زحل اتمر

    افغانستانکاروباری شخصیت، ری سائیکلنگ فیکٹری گلِ مرسل

    افغانستان میں ردّی کی ری سائیکلنگ کا پہلا کارخانہ زحل اتمر نے قائم کیا۔ معیشت و تجارت کا پسِ منظر رکھنے والی زحل اتمر نے خواتین کی سرگردکی میں یہ کارخانہ 2016 میں کابل میں قائم کیا۔ اس کارخانے نے 100 ملازمتیں فراہم کیں جن میں 30 فیصد پر خواتین کام کرتی ہیں۔ ان خواتین میں کارخانے سے مارکیٹنگ کی شعبے تک کی ملازمین شامل ہیں۔

    یہ کارخانہ غیر سرکاری اداروں سے ردّی جمع کرتا ہے اور ہر ہفتے قریباً 35 ٹن ردّی کی ری سائیکلنگ کر کے اسے ٹوائلٹ پیپر رول میں تبدیل کر دیتا ہے جو بعد ازاں ملک کے اندر ہی بیچ دیے جاتے ہیں۔

    زحل اتمر اس موضوع پر اکثر آواز اٹھاتی رہی ہیں کہ افغانستان میں کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے خواتین کے لیے مالی مدد کا حصول کس قدر دشوار ہے۔

    *مستقبل کیسا دکھائی دیتا ہے؟ نوجوانوں اور خواتین کے خواب، عزائم اور امیدیں سب برباد ہو گئِے ہیں

  • مقدسہ احمدزئی

    افغانستانسماجی و سیاسی کارکن

    انھوں نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں 400 سے زیادہ جواں سال خواتین کا ایک نیٹ ورک ترتیب دیا تاکہ وہ قریبی اضلاع میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے افراد کو مدد فراہم کرسکیں۔

    کووڈ-19 کی وبا کے دوران افواہوں کا بازار گرم ہوا تو سماجی و سیاسی کارکن مقدّسہ احمد زئی نے خود کو خواتین اور اُن کی برادریوں کی مدد کے لیے خود کو وقف کردیا۔ وہ افغان یوتھ پارلیمان کی ایک سابقہ رکن ہیں جہاں وہ خواتین اور بچوں کے حقوق کی بڑی شدّت و سرگرمی سے وکالت کرتی رہیں۔

    2018 میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یونائیٹد نیشنز ڈیویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے انھیں قیامِ امن اور تنازعات کے حل کے لیے ممتاز خواتین سے متعلق این- پیس ایوارڈ سے نوازا۔

    *میں نے کبھی ایسی اچانک تبدیلی نہیں دیکھی۔ یوں لگا جیسے کبھی کسی حکومت کا وجود ہی نہیں تھا۔ اب نوجوان نسل کے لیے واحد اُمّید نظام کی اصلاح اور خلا کو پُر کیا جانا ہے ، مگر ایسا صرف بین الاقوامی مدد و حمایت سے ممکن ہوسکے گا۔

  • فاطمہ سلطانی

    افغانستانکوہ پیما

    2019 میں شوقیہ طور پر کوہ پیمائی کا آغاز کرنے والی فاطمہ سلطانی نے کوہ پیمائی میں افغان لڑکیوں کی دلچسپی کو فروغ دینا اپنا مشن بنا لیا۔

    محض 18 برس کی عمر میں انھوں نے پہاڑی سلسلۂ ہندو کش کی دوسری بلند ترین کوہِ نوشاخ سر کرکے تاریخ رقم کی۔ افغانستان میں واقع یہ چوٹی 7,492 میٹر اونچی ہے۔ وہ یہ چوٹی سر کرنے والی سب سے کم عمر خاتون کوہ پیما ہیں۔ نو افغان کوہ پیماؤں کی اُس ٹیم میں تین خواتین تھیں۔

    کھیلوں کی شوقین فاطمہ سلطانی گذشتہ سات برس سے باکسنگ کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹس تائی کوانڈو اور جوُ جٹسوُ کی افغان قومی ٹیم کی بھی رکن ہیں۔

    *افغان خواتین 20 برس تک اپنے حقوق اور آزادی کے لیے لڑتی رہیں۔ انھوں نے فلک بوس پہاڑ سر کرکے اپنا نام کمایا۔ مجھے اُمّید ہے کہ وہ ملک کے اندر و باہر ایک بار پھر بلندیوں کو سر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

  • نسرین حسینی

    افغانستانحیوانات کی ڈاکٹر

    کابل یونیورسٹی میں جانوروں کے علاج کے کورس کے لیے 75 طلبا کی کلاس میں سے صرف دو خواتین تھیں اور نسرین حسینی اُن میں سے ایک تھیں۔ نسرین نے افغان پناہ گزین کے طور پر ایران میں پرورش پائی لیکن پھر وہ تعلیم مکمل کرنے کے لیے افغانستان واپس آئیں اور پھر جانوروں کی صحت سے متعلق مزید تعلیم کے لیے وظیفے پر یونیورسٹی آف گویلپ، کینیڈا منتقل ہوگئیں۔

    نسرین حسینی اب امیونولوجی لیب میں کام کرتی ہیں اور فارغ اوقات میں ایک غیر منافع بخش ادارے کینیڈیئن ہزارہ ہئیومینیٹیریئن سروسز کے ساتھ بطور رضاکار کام کرتی ہیں تاکہ اپنی ہزارہ برادری کے ارکان اور افغانستان کی دیگر پسماندہ برادریوں کے اُن اراکین کی مدد کرسکیں جو کینیڈا منتقل ہونا چاہتے ہیں۔

    وہ نوجوانوں کے پروگرام ’بُکیز‘ کے لیے بھی بطور معاون خدمات انجام دیتی ہیں جو افغان بچوں میں کتب بینی اور قصّہ گوئی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

    *افغان خواتین اور لڑکیاں خوفزدہ ہیں اور موجودہ صورتحال مایوس کُن ہے۔ مگر ایک راستہ ہمیشہ ہوتا ہے جیسے کہ باب مارلے نے کہا تھا کہ ’تم نہیں جانتے کہ تم کتنے مضبوط ہو ، جب تک کہ مضبوط رہنا ہی تمہارا واحد انتخاب نہ بن جائے۔‘

  • آمنہ کریمیان

    افغانستانماہرِ علم فلکیات

    سول انجینئیر اور ہرات ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کی انسٹرکٹر آمنہ کریمہ افغانستان کی اُن چند اور پہلی خواتین میں سے ایک ہیں جو ملک میں علمِ فلکیات کی ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔

    وہ کیہانہ آسٹرونومیکل گروپ کی بانی و چیف ایکزیکٹِو آفیسرہیں جس کی بنیاد انھوں نے 2018 میں رکھی۔ یہ ادارہ علم فلکیات کے بارے میں جاننے کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    جولائی 2021 میں اُن کے آسٹرونومی گروپ نے، جس کی تمام اراکین خواتین تھیں ، پولینڈ میں عالمی مقابلۂ آسٹرونومی اور آسٹروفزکس میں ورلڈ آسٹرنومیکل یونین ایوارڈ جیتا۔ مقابلے میں 50 ممالک کی 255 سے زیادہ ٹیمیں شامل تھیں جہاں انھوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

    *جبکہ طالبان لڑکیوں کا حق تعلیم تسلیم نہیں کرتے تو اب ہمیں پہلے سے بھی کہیں زیادہ جڑ کر رہنا ہوگا۔ ہر رات کیہانہ اسٹرونومیکل گروپ کی آن لائن ملاقات ہوتی ہے۔ اپنے وطن کے نوجوانوں کے لیے راستہ بنانا ہی میری واحد اُمّید ہے۔

  • روحیلہ

    افغانستانطالبہ

    روحیلہ بھی سیکنڈری سکول میں زیرِ تعلیم اُن بہت سی افغان لڑکیوں میں سے ایک ہیں جو لڑکیوں کے سکول جانے پر طالبان کی جبری پابندی کے نتیجے میں مُتاثّر ہوئی ہیں۔ سائنس اور انگریزی اُن کے پسندیدہ مضامین ہیں۔ اُن کی بھی شدید خواہش ہے کہ وہ بھی اپنے بھائیوں یا دوسرے لڑکوں کی طرح ہر صبح سکول جا سکیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ اُن کی سہلیوں میں سے محض چند ہی کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے اور وہ کٹھن جدوجہد کر رہی ہیں کہ کسی استاد کے بغیر بھی پڑھتی رہیں۔

    اُن کا خواب ہے کہ نفسیات کی تعلیم حاصل کرسکیں اور وظیفہ حاصل کرکے ملک سے باہر پڑھنے جا سکیں۔

    *افغانستان اب دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے اور تعلیم جاری رکھنے کے میرے خواب بکھرتے محسوس ہو رہے ہیں۔ مجھے اُمّید ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمیں فراموش نہیں کرے گی اور ہماری برسوں کی محنت ضائع نہ ہو گی۔

  • فاطمہ گیلانی

    افغانستانامن مذاکرات کار

    فاطمہ گیلانی اُن چار خواتین ’امن مذاکرات کاروں‘ میں سے ایک ہیں جنھوں نے ایک منصفانہ سیاسی نظام کے قیام کے لیے 2020 طالبان سے مذاکرات کیے۔ فاطمہ گیلانی ایک معروف سیاسی رہنما ہیں اور سرکردہ کارکن ہیں جو گذشتہ 43 برس سے انسانیت کی خدمت کے کام میں مصروف ہیں۔

    وہ 1980 کی دہائی میں سوویت قبضے کے بعد افغان مزاحمت کے چند زنانہ چہروں میں سے ایک ہیں اور لندن میں اپنی جِلاوطنی کے زمانے میں افغان مجاہدین کی ترجمان رہی ہیں۔ وہ 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں کیے جانے والے حملے کے بعد وطن واپس آئیں جہاں انھوں نے نئے آئین کی تشکیل میں مدد دی۔

    2005 سے 2016 تک وہ افغان ریڈ کراس سوسائٹی کی صدر رہیں اور اب بھی اس ادارے کے بورڈ کی رکن ہیں۔

    *مجھے معنی خیز قومی مذاکرات کی اُمّید ہے جو حقیقی طور پر تعمیرِ قوم پر منتج ہوں گے۔

  • اینجلا غیور

    افغانستاناستاد اور آن لائن سکول کی بانی

    ہرات آن لائن سکول معلّمہ و مُدرّسہ اینجلا غیّور نے قائم کیا تھا جس میں 400 اساتذہ رضاکارانہ طور پر 1000 کے قریب طلبا کو تعلیم دے رہے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں کچھ کرنے کا فیصلہ انھوں نے تب کیا جب طالبان نے افغان لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔ اُن کا یہ آن لائن سکول اب ٹیکیگرام اور سکائپ جیسی ایپس کے ذریعے 170 سے زیادہ جماعتوں میں تعلیم دے رہا ہے جہاں حساب سے موسیقی تک اور کھانا پکانے سے پینٹنگ جیسے مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔

    اینجلا غیّور کو 1992 میں خانہ جنگی شروع ہو جانے کے بعد خود بھی ملک سے ایران نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور خود اُن کی اپنی تعلیم کے بھی پانچ برس ضائع ہو گئے تھے۔ اُن کے خاندان کے پاس عارضی ویزہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی پانچ برس سکول نہیں جا سکی تھیں۔

    تاہم وہ سیکنڈری سکول ٹیچر بننے میں کامیاب ہوئیں۔ کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہونے کے بعد اب بالآخر وہ برطانیہ میں سکونت پذیر ہیں۔

    *میں بدی کی اس نام نہاد ضرورت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ دائمی خوشی تب حاصل ہوگی جب دنیا طالبان یا کسی بھی بدی کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہتے ہوئے اس شیطانی چکّر کی فرسودہ ہوجانے والی برائی کو روک دے گی۔

  • سحر فطرت

    افغانستانخواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن

    صنفی امتیاز کے دقیانوسی تصوّرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہونے والے احتجاج کی قوّت بن جانے والی نسائی حقوق کی نوعمر مگر سرگرم افغان کارکن سحر فطرت نے طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دن ایران اور پاکستان کے پناہ گزین کیمپوں میں بتائے۔ وہ 2006 میں اپنے وطن افغانستان واپس پہنچیں اور حقوق نسواں کی تحریک کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔

    وہ کسی قصّہ گو کی طرح نسوانیت پر مبنی نقطۂ نظر کو اپنی تحریروں اور فلمسازی میں پیش کرتی ہیں جس کی ایک مثال سرِعام ہراسانی کے موضوع پر 2013 کی اُن کی دستاویزی فلم ’ڈو ناٹ ٹرسٹ مائی سائیلنس‘ بھی ہے۔ وہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے شعبۂ تعلیم کے ساتھ بھی کام کرتی رہیں اور انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ سے بھی منسلک رہیں۔

    انھوں نے صنفی جائزے کے شعبے میں سینٹرل یورپین یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اب لندن کے کنگز کالج میں جنگوں کے بارے میں قائم شعبۂ وار سٹڈیز میں زیر تعلیم ہیں۔

    *میری امُّید تو وہ وہ دن دیکھنا ہے جب لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی بنیادی حق ہوجائے گی ، نہ کہ ایسی چیز جس کے لیے لڑنا پڑے۔ میں افغان لڑکیوں کو اپنے اُن خوابوں کے لیے لڑتے دیکھنے کی اُمّید کرتی ہوں جو اُن کے مادرِ وطن کی فلک بوس پہاڑیوں سے بھی زیادہ بلند ہیں۔

  • حلیمہ صدف کریمی

    افغانستانسیاست دان اور سابق رکن پارلیمان

    قانون ساز اور شمالی افغان صوبے جوزجان سے منتخب ہونے والی سابق رکنِ افغان پارلیمان حلیمہ صدف کریمی سیاست کا کئی برس کا تجربہ رکھتی ہیں۔

    وہ اپنی ملک کی قریباً 70 خواتین اراکینِ پارلیمان میں سے ایک رہی ہیں اور ازبک اقلیت سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون رکن اسمبلی بھی تھیں۔ پارلیمان میں وہ اپنی برادری کے حقوق کے لیے لڑتی رہیں۔ انھوں نے سیاسیات اور معیشت کے علوم میں ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ خواتین کی حقوق کی ایک ممتاز کارکن ہیں جنہیں طالبان کی جانب سے متعدد بار دھمکیاں دی جا چکی ہیں اوراُس بنیاد پر وہ کئی بار اپنا ٹھکانہ بھی تبدیل کرتی رہی ہیں۔

    یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم اُن کے چھوٹے بھائی 2020 میں طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    *خودغرض حکومتیں ہمیشہ ابتدا ہی میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ مجھے اُمّید ہے کہ افغان خواتین سیاسی، ثقافتی، معاشی، اقتصادی اور سماجی عمل میں شراکت سے اپنے انسانی حقوق حاصل کر لیں گی اور ایسا کرکے وہ ایک انسانی بحران کا راستہ روک دیں گی۔

  • انیسہ شہید

    افغانستانصحافی

    افغانستان کے چند بڑے صحافیوں میں شمار ہونے والی انیسہ شہید انسانی حقوق ، بدسلوکی ، سیاست اور بدعنوانی سے متعلق خبریں دیتی ہیں۔ وہ ملک کے اہم چینل ’طولو ٹی وی‘ کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ جائے وقوعہ سے بریکنگ نیوز بھی اپنے ناظرین کو فراہم کرتی رہی ہیں۔

    ایک صحافی اور خاتون ہونے دونوں ہی وجوہات کی بنا پر انہیں براہ راست دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں اور 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد انہیں بے گھر ہو جانے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔ 2020 میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے کے دوران صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے بھی ان کی ’جراࣿت مندانہ صحافت‘ کو تسلیم کیا۔

    افغان ادارے فری سپیچ ہب نیٹ ورک نے 2021 میں انھیں سال کی بہترین صحافی کے طور پر جرنلسٹ آف دی ایئر اور ’آزادئ اظہار کا چہرہ‘ قرار دیا۔

    *بےگھری اور مایوسی کی انتہا پر بھی مجھے اُمّید ہے کہ افغانستان میں امن دیکھوں۔ مجھے اُمّید ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو مسکراتا دیکھ سکوں گی اور مجھے اُمّید ہے کہ میں بھی اپنے مادر وطن واپس جا سکوں گی اپنے گھر، اپنے کام پر۔

  • واحدہ امیری

    افغانستانلائبریرین

    قانون کی تعلیم حاصل کرنے اور کتابوں سے محبّت کرنے والی واحدہ امیری لائبریریئن بھی ہیں اور احتجاجی کارکن بھی۔ جب طالبان نے افغانستان میں طاقت حاصل کرلی اور وہ بھی واپس لائبریری اپنے کام ہر نہ جا سکیں۔ تو وہ بھی بے شمار خواتین کے ساتھ احتجاجی اجتماعی مارچ میں شامل ہونے کے لیے کابل کی سڑکوں پر نکل آئیں جس کا مقصد افغان خواتین کو کام اور تعلیم حاصل کرنے کا حق دلوانے کے لیے بین الاقوامی برادری سے مدد و حمایت طلب کرنا تھا۔

    جب طالبان نے احتجاج کو غیرقانونی قرار دے دیا تو واحدہ امیری دیگر خواتین کے ساتھ بحث و مباحثے اور مطالعے کی خاطر دیگر خواتین سے آ ملیں۔

    اُن کی لائبریری 2017 سے فعال تھی اور اُن کا کہنا ہے کہ اپنی کتابوں کے بغیر تو وہ اپنی شناخت ہی کھو چکی ہیں۔

    *دنیا نے بطور انسان ہمارا احترام نہیں کیا۔ لیکن ایسے میں جب افغانستان تباہی سے دوچار ہے ہم اپنی اُمّید کو احتجاج، انصاف کے مطالبے اور کتب بینی کی حوصلہ افزائی کرکے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

  • ماہرہ

    افغانستانڈاکٹر

    ڈاکٹر ماہرہ اب بھی امراض نسواں کے اُس ہسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروف ہیں جہاں وہ کام کرتی ہیں۔

    اب انہیں ضرورتمند مریضوں کا بروقت علاج کرنے کے لیے اُن اضلاع میں بھی لازماً جانا پڑتا ہے جہاں طالبان کے قابض ہوجانے کے بعد شعبۂ صحت کی خدمات رُک گئی ہیں یا معطل ہیں۔

    اس سے پہلے وہ صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے شکار افراد کے لیے بھی کام کرتی تھیں مگر اب جب سے طالبان اقتدار میں آئے ہیں یہ کام بھی بند ہوگیا ہے۔

    *اگرچہ کہ اب بہت ذرا ہی سی اُمّید رہ گئی ہے لیکن اب افغان خواتین بھی وہ نہیں ہیں جو وہ 20 سال پہلے تھیں۔ اب وہ کسی حد تک اپنے حق کا دفاع کر سکتی ہیں۔ لیکن میری بنیادی تشویش یہ ہے کہ لڑکیوں پر سکول کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے ہیں۔

  • روشنک وردک

    افغانستانماہر امراضِ نسواں

    سابق رکنِ پارلیمان اور ایک تربیت یافتہ ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر روشنک وردک 25 برس سے زیادہ عرصے سے خواتین کو صحت سے متعلق خدمات اور طبّی سہولتیں فراہم کررہی ہیں۔ حتّیٰ کہ وہ طالبان کے پہلے دورِ اقتدار میں بھی اپنے آبائی صوبے میدان وردک کی واحد خاتون ڈاکٹر رہیں۔

    2001 میں طالبان کے پہلے دور کے زوال کے بعد وہ رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ اُن کا ضلع گزشتہ 15 برس سے طالبان کے زیرِ قبضہ ہے اور کئی مضافاتی علاقوں کی طرح انھوں نے بھی اُس شدید جنگ کو دیکھا جس میں نیٹو افواج بھی ملوّث رہیں۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کا قبضہ اور جنگ کا اختتام ’ایک خواب‘ تھا۔ میں تو اس دن کا انتظار کر رہی تھی کہ جب ان بدعنوان افراد کو اقتدار سے بےدخل کیا جائے۔ لیکن حالیہ دنوں میں اُن کی توجہ ان کوششوں پر مرکوز رہی کہ کسی طرح سکول دوبارہ کھل جائیں اور طالبان کی اسی وعدہ شکنی نے انھیں لڑکیوں کی تعلیم کا بڑا بے جھجھک، بےباک اور صاف گو وکیل بنا دیا۔

    *افغانستان کے لیے میری واحد اُمّید گزشتہ 40 برس کے رہنماؤں اور حکمرانوں کو قوم کے خلاف اُن کی کارروائیوں پر جوابدہ بنانے سے جُڑی ہے۔

  • ہدیٰ خاموش

    ایرانماہواری کے حوالے سے مہم چلانے والی کارکن

    حقوق نسواں کی سرگرم کارکن اور علمبردار ہدیٰ خاموش افغانستان کے سکولوں میں لڑکیوں کے لیے ماہواری کے موضوع پر ایک آگاہی منصوبہ چلاتی رہی ہیں جس کا عنوان تھا ’ماہواری کوئی ممنوعہ تصوّر نہیں‘۔ اس آگاہی مہم کا مقصد ماہواری یا حیض کے موضوع پر کھل کر بات کرنے کو فروغ دینا تھا۔

    بےگھر ہوکر ایران پہنچ جانے والے اپنے افغان والدین کی اولاد ہدیٰ خاموش بالآخر اپنے وطن افغانستان واپس آئیں تو اپنے قدامت پرست دیگر رشتہ داروں کے نقطۂ نظر کے برخلاف انھیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی والدہ کی جانب سے مدد و حمایت ملی۔ وہ شاعرہ اور صحافی بھی ہیں اور 2015 میں ریڈیو پریزینٹر بھی بن جانے پر انھوں نے افغان خواتین کے خلاف ناانصافیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے اپنے گاؤں کی دیگر خواتین کے لیے ایک تعلیمی منصوبے کا آغاز بھی کیا۔

    طالبان کے قبضے کے بعد وہ ساتویں جماعت اور اس سے زیادہ تعلیمی سطح کی اُن لڑکیوں کے لیے ان دنوں تعلیمی نشستوں کا اہتمام بھی کرتی ہیں جن کے سکول جانے پر اب پابندی ہے۔

    *ہر طرف محض اندھیرے کے باوجود 2021 ہی دراصل وہ سال ہے جب خواتین نے کوڑوں اور گولیوں کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے حقوق براہ راست اُن سے طلب کیے جنہوں نے یہ حقوق چھین رکھے ہیں۔ میں تو اس سال کو سالِ اُمّید قرار دوں گی۔

  • ریحانہ پوپل

    افغانستانوکیل

    شہری قوانین اور نقلِ مکانی (امیگریشن) سے متعلق قوانین کے ماہر وکیل ریحانہ پوپل اس وقت ان مترجّمین ، ترجمہ کاروں اور ایسے دیگر افغان شہریوں کی مدد کررہی ہیں جو برطانوی افواج کی مدد کررہے تھے اور اب برطانوی انخلا کے بعد افغانستان میں بے یارو مددگار رہ گئے ہیں۔

    ریحانہ پوپل پہلی افغان خاتون ہیں جنھوں نے انگلینڈ اور ویلز میں بطور بیرسٹر وکالت کی۔ وہ پانچ برس کی تھیں جب ایک پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ آئی تھیں پھر یہاں بین الااقوامی سیاست اور اور قانون کی تعلیم حاصل کی اور اب انسانی حقوق کی ایک وکیل کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

    2019 میں انھیں شعبۂ قانون میں متاثر کُن خواتین ایوارڈ ز ’انسپریشنل ویمن ان لا ایوارڈ ز‘ کی جانب سے بیرسٹر آف دی ایئر قرار دیا گیا۔

    *مجھے اُمید ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو یہ آزادی مل سکتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرسکیں ، ملازمت کرسکیں اور بےخوف ہو کر زندہ رہ سکیں۔

  • مومنہ ابراہیمی

    افغانستانپولیس اہلکار

    افغان پولیس میں شمولیت کے تین برس بعد مومنہ ابراہیمی جنہیں مومنہ کربلائی کے نام سے جانا جاتا تھا ، اپنے افسران ہی کی جانب سے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنیں۔ پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس وقت اپنے اس تجربے پر بھی بولیں گی اور افغان پولیس میں بدسلوکی کے دیگر الزامات پر بھی آواز اٹھائیں گی۔

    تب ہی سے وہ دھمکیوں کے باوجود اپنے ساتھ ساتھ جنسی حملوں اور جنسی بدسلوکی کا شکار ہونے والے دیگر لوگوں کو انصاف کی فراہمی کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سمجھتی ہوں کہ کسی نہ کسی کو تو بولنا چاہیے پھر میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوسکتی ہوں ، چاہے اس کی قیمت مجھے اپنی جان دے کر ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

    مومنہ ابراہیمی اُن ہزاروں افراد میں شامل ہیں جنھیں گزشتہ اگست میں طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان سے نکال کر برطانیہ پہنچایا گیا ہے۔

    *میری خواہش ہے کہ وہ تمام خواتین جو برسوں سے لڑ رہی تھیں، جنھوں نے تعلیم حاصل کر کے اپنے کریئر بنائے ہیں، وہ اپنے کام ہر واپس جا سکیں اور اُس قوّت سے آزادی حاصل کر سکیں جو لوگوں کے خلاف اپنی طاقت استعمال کر رہی ہے۔

  • بصیرہ پیغام

    افغانستانصنفی مساوات اور صنفی حقوق کی سرگرم کارکن

    افغانستان میں ہم جنس پرستوں یا دیگر جنسی میلان و رجحان رکھنے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کرنا مشکلات سے بھرپور ہے مگر تمام تر مشکلات کے باوجود بصیرہ پیغام گذشتہ آٹھ برس سے صنفی مساوات اور صنفی حقوق کی سرگرم کارکن رہی ہیں۔

    انھوں نے صنفی و جنسی آگاہی کے بارے میں کئی ورکشاپس کا انعقاد کیا اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والے ہم جنس پرست افراد کو مشاورت اور طبّی علاج معالجے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی۔ انھوں نے خودکشی پر مائل یا خودکشی کے خطرات سے دوچار ہم جنس پرست افراد کو نفسیاتی علاج تک رسائی میں بھی مدد فراہم کی۔

    اب آئرلینڈ میں رہائش پذیر بصیرہ پیغام مسلسل افغانستان کی ہم جنس برادری کو تسلیم کیے جانے اور اُن کے انسانی حقوق اور آزادی کی وکالت کر رہی ہیں۔

    *مجھے اُمید ہے کہ افغانستان کے عوام اپنے مذہب ، صنف اور جنسی رجحان کے بارے میں سوچے بغیر آزادانہ سانس لینے کے قابل ہوسکیں گے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ اور اپنی تمام تر کوششوں سے ہم ذہنیت کو بدل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

  • ردا اکبر

    افغانستانفنکار

    عورت پر ظلم و ستم اور جور و جبر، زن بیزاری اور خواتین کے خلاف نفرت جیسے موضوعات اس فنکارہ کے بصری فن اور کام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ردا اکبر نے ہمیشہ ہی ، خواتین کو معاشرے میں ایسا ظہور دینے کے لیے جس کی وہ مستحق ہیں اور اپنی آواز بلند کرنے کی خاطر اس فن کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

    2019 سے وہ ہر برس آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر ایک سالانہ نمائش ’ابر زنان‘ یا ’سپر ویمن‘ کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ یہ موقع اُس مرکزی کردار کو منانے کے لیے استعمال کیا جائے جو اُن کے ملک کی تاریخ میں خواتین نے ادا کیا۔ حال ہی میں وہ کوشاں رہیں کہ کابل سمیت ہر جگہ ایسے میوزیم کھولے جائیں جہاں تاریخ میں خواتین کے کردار کی نمائش کی جا سکے۔

    وہ سمجھتی ہیں کہ اُن کا فن ایسے سماجی قوانین کی مذمت کرنے میں مددگار ہے جو سیاسی ، اقتصادی مذہبی اقدار کے تحت خواتین مخالف یا عورتوں کی مذمت پر مبنی ہیں۔

    *افغانستان اور اس کے شہری کئی دہائیوں سے انتہا پسندوں اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے حق تلفی اور بدسلوکی کا شکار ہیں۔ مگر ہم نے کبھی ایک ترقی پسند ملک کے لیے کام کرنا ترک نہیں کیا اور ہم دوبارہ ایک آزاد اور خوشحال افغانستان میں رہیں گے۔

  • محبوبہ سراج

    افغانستانخواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن

    26 برس تک امریکہ میں جِلا وطن رہنے کے بعد محبوبہ سراج 2003 میں اپنے آبائی وطن افغانستان واپس پہنچیں اور تب ہی سے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کی شریک بانی اور سربراہ رہی ہیں جن میں بڑی منظم تنظیم افغان ویمن نیٹ ورک بھی شامل ہے جو ملک میں نوعمر خواتین کی تحریک کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

    انھوں نے اپنی زندگی گھریلو تشدد کا شکار ہونے والوں کو بااختیار بنانے، بچوں کی صحت و تعلیم کے لیے لڑتے رہنے اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کرنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

    عالمی جریدے ٹائم نے انھیں ’2021 کے 100 سب سے زیادہ بااثر افراد‘ میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    *اپنے وطن کے لیے میری اوّلین خواہش امن ہے۔ میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی آنکھوں میں دہشت کی جھلک نہیں دیکھنا چاہتی جس میں ایک غیریقینی مستقبل اُن کا منتظر ہو۔ بس بہت ہوگیا!

  • عالیہ کاظمی

    افغانستانماہرِ تعلیم

    کابل پر طالبان کے قبضے سے قبل عالیہ کاظمی کا وقت انسانی حقوق اور تعلیم پر کام کرنے کے لیے وقف تھا۔ انھوں نے تین برس تک عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ خواتین کے لیے ایک بیکری اور مٹھائی کے کاروبار کا آغاز کیا اور 2020 میں بزنس مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پھر وہ یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہو گئیں اور لیکچرر بننا چاہتی تھیں۔

    2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد وہ امریکہ منتقل ہوگئیں اور پی ایچ ڈی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بی بی سی کے لیے لکھے جانے والے ایک خط میں انھوں نے خواتین کے انتخابِ آزادی کی بات کی ہے خاص طور جب معاملہ لباس منتخب کرنے کا ہو۔

    *افغانستان کے لیے میری واحد اُمّید امن ہے۔ امن جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • سلیمہ مزاری

    ایرانسیاست دان اور سابق ضلعی گورنر

    افغانستان کی صرف تین ضلعی کورنرز میں سے ایک ، سلیمہ مزاری نے اس برس شہ سرخیوں میں ایک بےخوف رہنما کے طور پر تب جگہ پائی جب وہ حکومت کی حامی ملیشیا کے ساتھ اگلے مورچوں پر لڑیں۔

    ایک پناہ گزین کی حیثیت سے سلیمہ مزاری نے اپنی ڈگری ایران سے حاصل کی جس کے بعد وہ افغانستان واپس پہنچیں۔ 2018 میں وہ صوبۂ بلخ کے ضلع چارقنط کی گورنر مقرر ہوئیں جہاں انھوں نے 100 سے زائد طالبان باغیوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات کیے۔2021 میں اُن کے ضلعے نے طالبان کے خلاف زبردست، اہم، نمایاں اور معنی خیز مزاحمت کی اور طالبان کے ہاتھوں سقوطِ کابل تک اُن کا ضلع اُن چند اضلاع میں سے ایک تھا جہاں طالبان کا قبضہ نہیں ہو سکا تھا۔

    اُن کے بارے میں گمان اور قیاس کیا گیا کہ شاید طالبان نے انھیں گرفتار کرلیا ہے مگر وہ کسی نہ کسی طرح امریکہ پہنچ جانے میں کامیاب ہو گئیں جہاں وہ اب اپنی دوبارہ آبادکاری کی منتظر ہیں۔

    *مجھے اُمید ہے کہ وہ دن ضرور آئے گا جب عورت، ہزارہ، شیعہ اور فارسی بان ہونا، جو کہ سب میری شناخت کا حصّہ ہیں، میرے وطن میں جرم نہیں رہے گا۔

  • شیلا انسان دوست

    افغانستاناستاد

    لڑکیوں اور خواتین میں حقِ تعلیم کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا افغان معلمہ شیلا انسان دوست کی اولین ترجیح ہے۔ خود انھوں نے مذہبی تعلیمات میں ڈگری حاصل کی ہے اور سکولوں میں تدریس میں مصروف رہی ہیں۔

    وہ سیاسی و سماجی امور میں خواتین کے کردار کے فروغ کے لیے سرگرم رہی ہیں اور خواتین کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حق کے بارے میں افغان میڈیا کی نشریات میں بولتی ہوئی دکھائی دیتی رہی ہیں۔ حال ہی میں وہ کابل میں ہونے والے ایک عوامی مظاہرے میں شامل تھیں جہاں وہ ملک میں خواتین کے خلاف ظلم و ستم اور جور و جبر پر احتجاج کے طور کفن نما سفید چادر پہن کر شریک ہوئیں۔

    ایک معلّمہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ افغانستان میں خواتین کی کئی تنظیموں کی بھی رکن ہیں۔

    *میں خواتین کو سیاسی ، سماجی اور اقتصادی امور میں شریک ہوتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ خواتین کے حقِ تعلیم کو برقرار رہتے اور خواتین اور اقلیتوں کے خلاف تشدد اور عدم مساوات کو جڑ سے اکھڑتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔

  • نیلوفر بیات

    افغانستانوہیل چیئر باسکٹ بال کی کھلاڑی

    قومی وہیل چیئر باسکٹ بال ٹیم کی کپتان نیلوفر بیات معذور خواتین کی ممتاز و سرگرم وکیل کے طور پر بھی بہت نمایاں ہیں۔ طالبان سے بچنے کے کیے انھیں افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہ اور اُن کے شوہر اور وہیل چیئر کھلاڑی رامش دونوں ہی عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ملازم بھی ہیں۔

    جب وہ صرف دو برس کی تھیں تو گھر پر ایک راکٹ لگنے سے اُن کے بھائی ہلاک اور خود وہ ریڑھ کی ہڈّی میں چوٹ لگنے سے زخمی ہوگئی تھیں۔ نیلوفربیات نے کابل کے وسط میں قائم ایک کورٹ میں ہونے والے باسکٹ بال کے اپنے پہلے مقابلے میں شرکت کی اور یہ افغانستان میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک فیصلہ کُن موڑ اور سنگِ میل تھا۔ وہ اپنے وطن سے جان بچا کر جانے پر مجبور ہو جانے والے پناہ گزینوں کی آواز بن گئیں اور انھوں نے افغان خواتین کے لیے ایک تنظیم بھی قائم کی۔

    نیلوفر بیات کو اُمّید ہے کہ وہ ایک بار پھر باسکٹ بال کھیل سکیں گی۔

    *مجھے اُمید ہے کہ افغانستان میں اب کھیل ختم ہو گیا۔ اب ہم ایک لمحے کے لیے بھی جنگ کی قیمت ادا نہیں کریں گے۔ میں اپنے لوگوں کے چہروں پر ایک حقیقی مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہوں۔

  • مرل

    افغانستانحقوقِ انسانی کی کارکن

    مرل کا خاندان نہیں چاہتا تھا کہ وہ خواتین کی حقوق کے لیے سرگرم ہوں یا شہریوں کی معاشرتی تنظیموں کا حصّہ بنیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ مرل کو ایک عورت ہونے کے ناطے کام کرنے کے لیے باہر نہیں جانا چاہیے مگر مرل نے کسی نہ کسی طرح یہ کر ہی دکھایا۔

    مرل 2004 سے ہی اپنے حقوق کے بارے میں جان لینے، کام کرنے کے لیے باہر جانے اور مالی آزادی حاصل کرنے کے لیے مقامی خواتین کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔

    وہ مصافاتی اور دیہی علاقوں کی اُن خواتین کے ساتھ بھی کام کررہی ہیں جو گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ وہ انصاف کے حصول کے لیے ان خواتین کی مدد کررہی ہیں اور یقینی بنا رہی ہیں کہ انھیں پناہ میسّر آ جائے۔

    *پہلے میں سوچا کہ ہم نے سب کچھ کھو دیا ہے اور مایوس ہو گئی مگر جب میں نے وہ سب یاد کیا جو ہم کر چکے ہیں تو پھر میں نے تجدیدِ عزم کیا، سب کچھ جاری رکھنے کے لیے۔ میں شکست تسلیم نہیں کروں گی، ہار نہیں مانوں گی۔ مستقبل اُن کا ہے جو انسانیت اور امن چاہتے ہیں۔

  • شگوفہ صافی

    افغانستانموسیقار

    صرف لڑکیوں پر مشتمل افغانستان کے پہلے سازندوں کے طائفے ’زہرہ‘ کی سربراہ شگفتہ صافی 13 سے 20 برس تک کی لڑکیوں کے اس بینڈ کی سربراہ ہیں جس کی کئی اراکین غریب گھروں سے ہیں اور کئی یتیم بھی ہیں۔

    موسیقی کی فارسی اساطیری دیوی ’زہرہ‘ کے نام پر قائم موسیقاروں کا یہ طائفہ 2014 سے قومی و بین الاقوامی سٹیج پر افغانی اور مغربی کلاسیکی موسیقی پیش کرتا رہا ہے۔

    طالبان نے اب موسیقی کا سرکاری ادارہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میوزک بند کر دیا ہے جہاں کبھی شگفتہ صافی پریکٹس کیا کرتی تھیں۔ جان بچا کر وہ اور اُن کی کچھ ساتھی فنکارائیں کسی طرح قطر کے دارالحکومت دوہا تو جا پہنچیں ہیں مگر چونکہ وہ اپنے ساز وہیں افغانستان میں چھوڑ آئی ہیں یا ساتھ نہ لا سکیں لہٰذا دوبارہ مل کر کچھ بجانا یا موسیقی پیش کرنا ابھی تو بہت مشکل لگتا ہے۔

    *اُمّید کبھی نہیں مرتی۔ مکمل تاریکی میں بھی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری ’چھڑی‘ بھی افغانستان کی اُمّید اور روشنی کے لیے مینار نور اور چراغ راہ بن جائے گی۔

  • رمزہ

    افغانستانموسیقار

    ایک کامیاب موسیقار رزما وہ ساز بجاتی ہیں جو عام طور پر مردوں کے لیے مخصوص ہے۔ فنِ موسیقی اور دیگر فنون میں گریجویٹ اور موسیقاروں کے گھرانے کی چشم و چراغ رزما افغانستان اور بین الاقوامی سطح پر ممتاز و نمایاں فنکاروں کے ہمراہ اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ انھیں اُمّید تھی کہ موسیقی کے ذریعے وہ افغانستان کی ایک مختلف شکل دنیا کے سامنے پیش کر سکیں گی مگر اس کے برخلاف یہ افغان خواتین کے لیے ’تاریک ترین سال‘ رہا۔ ایک موسیقار کے لیے تو، جو اب دوسروں کے ساتھ گانا بجانا نہیں کرسکتا ، یہ خاص طور پر تباہ کن سال رہا۔

    1996 سے 2001 تک ملک پر طالبان کی حکومت میں موسیقی پر پابندی عائد رہی اور رزما کو خدشہ ہے کہ افغان موسیقاروں کے لیے تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

    *نغموں اور موسیقی کے بغیر کسی معاشرے کے تصوّر ہی نے مجھے ہمیشہ سے زیادہ افسردہ، اداس اور دل شکستہ کر دیا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہمارے ملک کی خواتین کی گھٹ جانے والی آوازیں آہ و فغاں میں بدل جائیں گی۔

  • سحر

    افغانستانفٹبالر

    افغانستان میں فٹبال کھیلنے کی شوقین کئی نوعمر لڑکیوں کی طرح سحر بھی فٹبال کی کھلاڑی تو ہیں مگر اب طالبان کی حکمرانی میں یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ کھیل سکیں۔ سحر کئی برس ایک مقامی ٹیم کے ساتھ فٹبال کھیلتی رہیں اور اسی کھیل کی وجہ سی کئی دوستوں سے ان کی ملاقات ہوتی رہی۔

    جب اس برس طالبان نے ملک پر قبضہ کیا تو وہ پہلے تو اپنے خاندان سمیت روپوشی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں اور پھر انہیں ملک سے چلے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔

    اب وہ اب تک ملک میں ہی رہ جانے والی ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہیں لیکن اب وہ فٹبال کے میدان میں واپسی کے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ بھی دے سکتی ہیں۔

    *میں اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے اور کڑی محنت کر کے اپنے مقصد تک پہنچ کر، اپنی کامیابیوں سے خود کو اور اپنے اہلُخانہ کو قابلِ فخر بنانے کے اپنے مقصد تک پہنچنا چاہتی ہوں۔ میں کامیاب ہونا چاہتی ہوں تاکہ کوئی نہیں کہہ سکے کہ لڑکیاں فٹبال نہیں کھیل سکتیں۔

  • معصومہ

    افغانستانقانون دان

    افغانستان کی ایک قانون دان کی حیثیت سے معصومہ عدلیہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے ثبوت و شواہد اکٹھے کرنے اور قانونی مقدمات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ شعبۂ قانون میں ڈگری حاصل کرنے والی معصومہ گذشتہ 20 برس میں تعلیم حاصل کرنے والی بہت سی خواتین میں شامل رہیں اور اٹارنی جنرل کے دفتر میں پانچ برس سے زیادہ عرصے تک کام کرتے ہوئے وہ بہت خوش اور متفخّر تھیں کہ وہ اپنے لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں۔

    اگست میں قبضے کے بعد طالبان نے جیل میں بند عادی جرائم پیشہ اور اسلامی شدّت پسندوں سمیت بہت سے قیدیوں کو رہا کر دیا۔ کس کے بعد اب انسانی حقوق کے بہت سے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے سرکاری ملازمین کو عام معافی دینے کے اعلان کے باوجود بھی ماورائے عدالت قتل کی کئی وارداتیں اور اغوا کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

    معصومہ اب روپوش ہیں اور نہیں جانتیں کہ آگے اب کیا ہونے والا ہے۔

    *خواتین اور لڑکیاں دنیا کی آدھی آبادی کی نمائندہ ہیں۔ اگر انھیں مواقع فراہم کیے جائیں تو خواتین میری طرح اپنے لوگوں اور ملک کی خدمت کر سکتی ہیں۔

  • محدثہ میرزائی

    افغانستانپائلٹ

    افغانستان کی پہلی کمرشل پائلٹ محدّثہ میرزائی نے اس برس فضائی ادارے کام ایئر کی پہلی تمام خواتین عملے پر مشتمل تاریخی فلائیٹ بوئنگ 737 کا کنٹرول سنبھال کر تاریخ رقم کی۔ ستمبر 2020 میں کمرشل پائلٹ بن کر وہ ترکی، سعودی عرب اور انّڈیا پرواز لے جا چکی ہیں۔

    جب طالبان کابل میں داخل ہوئے تو محدثہ ہوائی اڈّے پر اُس پرواز کی تیاری کر رہی تھیں جو کبھی اڑان نہ بھر سکی۔ طیارہ اڑنے کی بجائے انھیں خود ایک جہاز میں بطور مسافر سوار ہو کر اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک سے جانا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ایسی مساوات کے لیے کوشاں ہیں جہاں معاشرے میں خواتین اور مرد مل کر ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کام کر سکیں۔

    انھیں اُمّید ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ اڑان بھر سکیں گی۔

    *انتظار نہ کریں ! اگر آپ مضبوطی سے قائم نہیں ہیں تو کوئی آپ کو پرواز کے لیے ’پر‘ دینے نہیں آئے گا۔ میں نے اپنی لڑائی لڑی ہے ، آپ اپنی لڑائی لڑیں گے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

  • رضیہ بارکزئی

    افغانستاناحتجاج کرنے والی خاتون

    کئی برس تک صدارتی محل میں اور دیگر کئی عہدوں ہر کام کرنے کے بعد رضیہ بارکزئی اس وقت بےروزگار ہوئیں جب طالبان افغانستان میں برسرِاقتدار آ گئے۔

    اس کے بعد سے وہ باقاعدگی سے کابل میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ یہ مظاہرے ایسی خواتین کر رہی ہیں جو کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق مانگ رہی ہیں۔ وہ #AfghanWomenExist نامی مہم کا بھی حصہ رہی ہیں۔ اس مہم کے تحت اس بات کو اجاگر کیا جا رہا ہے کہ خوف کی وجہ سے افغان خواتین سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہیں۔

    رضیہ بارکزئی نے سیاسیات اور قانون کی تعلیم کے علاوہ ایم بی اے بھی کیا ہے۔ بی بی سی کے لیے لکھے گئے ایک خط میں انھوں نے احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا ’آزادی کے حصول کے دوران جان دے دینا غلامی کی زندگی سے بہتر ہے۔‘

    *افغانستان کے نوجوان اور تعلیم یافتہ شہری خصوصاً بہادر خواتین ایک دن آزادی کے علمبردار ہوں گے۔ یہ میں روزانہ سڑکوں پر احتجاج کے دوران دیکھتی ہوں۔

Short presentational grey line

100 خواتین کا انتخاب کیسے کیا گیا؟

بی بی سی کی 100 خواتین پروگرام کی ٹیم نے بی بی سی کی عالمی سروس کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں سے کچھ کو منتحب کیا۔ ہم ایسے امیدواروں کو تلاش کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ 12 مہینوں میں شہ سرخیاں بنائیں یا اہم کہانیوں کا حصہ رہیں اور ساتھ ہی وہ لوگ جن کے پاس سنانے کے لیے متاثر کن کہانیاں ہیں، جنھوں نے کچھ اہم حاصل کیا یا اپنے معاشروں کو ایسے طریقوں سے متاثر کیا جو ضروری نہیں کہ خبر بن پائیں۔

اس کے بعد ان ناموں کا اس سال کے تھیم کے حساب سے جائزہ لیا گیا وہ خواتین جو 'ری سیٹ' پر پورا اتر رہی ہیں، وہ جو دنیا کو نئے سرے سے بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں خاص طور پر عالمی وبا کے بعد جب ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگیوں کو نئی ترتیب دینے پر مجبور ہیں۔

حتمی ناموں کے انتخاب سے پہلے علاقائی نمائندگی اور غیر جانبداری کا بھی خیال کیا گیا۔

اس سال بی بی سی کی 100 خواتین پروگرام نے فہرست کا نصف حصہ ایک ملک یعنی افغانستان کی خواتین کو دینے کا بےمثال فیصلہ کیا۔

ملک میں حالیہ واقعات کی شہ سرخیاں بنیں اور لاکھوں افغانوں کو ان کے مستقبل کے حوالے سے بےیقین کر دیا، کیونکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ طالبان کے دور میں مستقبل قریب میں خواتین کی آزادیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

Abia Akram
،تصویر کا کیپشنعابیہ اکرم 2021 کی فہرست میں شامل دو پاکستانی خواتین میں سے ایک ہیں

فہرست کا نصف حصہ ان خواتین کے لیے وقف کر کے جو ملک میں ہیں یا ملک کے لیے کام کرتی ہیں، ہم اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتے تھے کہ ان میں سے کتنی خواتین کو عوامی زندگی کے شعبوں سے غائب ہونے پر مجبور کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کی آوازیں بھی آگے پہنچا رہی ہیں جنہیں خاموش کروایا جا رہا ہے۔

تین دسمبر کو، طالبان نے اپنے سپریم لیڈر کے نام سے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں وزارتوں کو خواتین کے حقوق پر ’سنجیدہ اقدام‘ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس حکم نامے میں خواتین کے لیے شادی اور جائیداد کو کنٹرول کرنے کے قواعد وضع کیے گئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو زبردستی شادی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور انھیں ’جائیداد‘ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

لیکن اس اعلان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ اس میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے لیے خواتین کے حقوق کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فہرست میں شامل کچھ افغان خواتین گمنام ہیں اور ایسا ان کی رضامندی سے اور بی بی سی کی ادارتی پالیسی اور حفاظتی رہنما خطوط کے باعث کیا گیا ہے۔

Short presentational grey line

کریڈٹس

تدوین اور پیشکش: ویلیری پیراسو، امیلیا بٹرلی، لارا اوئن، جورجینا پیئرس، کاوون خاموش، ہانیہ علی، مارک شیے

بی بی سی 100 ویمن ایڈیٹر: کلیئر ولیمز

پروڈکشن: فلپا جوائے، اینا لوسیا گونزیلز

ڈویلپمنٹ:آیو ادجاجا، الیگزینڈر ایوانوف

ڈیزائن: ڈیبی لوئیزو، زوئے بارتھولمیو

السٹریشنز: جیلیا دستمالچی

Short presentational grey line

تصاویر کے کاپی رائٹس: فاضل بریشا، جیرون پولو/تلاماؤ میڈیا، گریگ ڈیگوائر/گیٹی امیجز، نیٹ فلکس، مینی جیفریسن، یونیورسٹی کالج لندن، زونو فوٹوگرافی، برائن موانڈو، ایس ایچ ریحان، کیمجیو، فرحت ایلک، کلوئے ڈیسنوائرز، روئٹرز، بودیون بولمین، عمران کریم خٹک/ریڈآن فلمز، پیٹرک ڈاؤسے، کیٹ وارن، شیریڈن پوائر، فونڈو سیمیلاس، میگنیفیسنٹ لینز لمیٹڈ، ڈارسی ہیملی، رے رائن فوٹوگرافی، کارلا پولیسیلا/ وزارتِ خواتین ارجنٹینا، ماتیئس سالازار، ایکومن پکچرز، مارسیا ونڈوائی،

line
100 women BBC season logo

100 خواتین کیا ہے؟

بی بی سی 100 ویمن کے پرگرام میں ہر سال دنیا بھر کی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔

ہم ان کی زندگی کے بارے میں دستاویزی فلمیں بناتے، فیچرز اور انٹرویوز کرتے ہیں،ایسی کہانیاں جو خواتین کے گرد گھومتی ہیں۔