بی بی سی کی 100 خواتین: ملالہ یوسفزئی اور عابیہ اکرم سے 50 افغان خواتین تک، 2021 کی فہرست میں کون کون شامل ہے؟

بی بی سی نے 2021 کے لیے دنیا بھر کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست جاری کی ہے۔

اس سال 100 خواتین میں ایسی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جا رہا ہے جنھوں نے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور زندگی کو دوبارہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ وہ خواتین ہیں ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور ہماری دنیا کو نئے سرے سے بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس فہرست میں شامل خواتین میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی، ساموا کی پہلی خاتون وزیراعظم فیامے نومی مطافہ، ویکسین کانفیڈنس پروجیکٹ کی سربراہ پروفیسر ہیڈی جے لارسن اور مشہور مصنفہ چیمامانڈا نگوزی ایڈیچی شامل ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والی خواتین اس سال کی فہرست میں شامل خواتین کا نصف ہیں، جن میں سے کچھ تحفظ کے پیش نظر فرضی ناموں اور تصاویر کے بغیر شامل ہوں گی۔

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے لاکھوں افغانوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ لڑکیوں پر سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگ گئی، خواتین کے امور کی وزارت کو ختم کر دیا گیا اور بہت سے معاملات میں خواتین سے کہا گیا کہ وہ کام پر واپس نہ جائیں۔

اس سال کی فہرست ان کی بہادری اور ان کی کامیابیوں کے دائرہ کار کا احاطہ کرتی ہے۔

100 خواتین کا انتخاب کیسے کیا گیا؟

بی بی سی کی 100 خواتین پروگرام کی ٹیم نے بی بی سی کی عالمی سروس کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں سے کچھ کو منتحب کیا۔ ہم ایسے امیدواروں کو تلاش کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ 12 مہینوں میں شہ سرخیاں بنائیں یا اہم کہانیوں کا حصہ رہیں اور ساتھ ہی وہ لوگ جن کے پاس سنانے کے لیے متاثر کن کہانیاں ہیں، جنھوں نے کچھ اہم حاصل کیا یا اپنے معاشروں کو ایسے طریقوں سے متاثر کیا جو ضروری نہیں کہ خبر بن پائیں۔

اس کے بعد ان ناموں کا اس سال کے تھیم کے حساب سے جائزہ لیا گیا وہ خواتین جو 'ری سیٹ' پر پورا اتر رہی ہیں، وہ جو دنیا کو نئے سرے سے بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں خاص طور پر عالمی وبا کے بعد جب ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگیوں کو نئی ترتیب دینے پر مجبور ہیں۔

حتمی ناموں کے انتخاب سے پہلے علاقائی نمائندگی اور غیر جانبداری کا بھی خیال کیا گیا۔

اس سال بی بی سی کی 100 خواتین پروگرام نے فہرست کا نصف حصہ ایک ملک یعنی افغانستان کی خواتین کو دینے کا بےمثال فیصلہ کیا۔

ملک میں حالیہ واقعات کی شہ سرخیاں بنیں اور لاکھوں افغانوں کو ان کے مستقبل کے حوالے سے بےیقین کر دیا، کیونکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ طالبان کے دور میں مستقبل قریب میں خواتین کی آزادیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

فہرست کا نصف حصہ ان خواتین کے لیے وقف کر کے جو ملک میں ہیں یا ملک کے لیے کام کرتی ہیں، ہم اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتے تھے کہ ان میں سے کتنی خواتین کو عوامی زندگی کے شعبوں سے غائب ہونے پر مجبور کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کی آوازیں بھی آگے پہنچا رہی ہیں جنہیں خاموش کروایا جا رہا ہے۔

تین دسمبر کو، طالبان نے اپنے سپریم لیڈر کے نام سے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں وزارتوں کو خواتین کے حقوق پر ’سنجیدہ اقدام‘ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس حکم نامے میں خواتین کے لیے شادی اور جائیداد کو کنٹرول کرنے کے قواعد وضع کیے گئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو زبردستی شادی پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور انھیں ’جائیداد‘ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

لیکن اس اعلان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ اس میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے لیے خواتین کے حقوق کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فہرست میں شامل کچھ افغان خواتین گمنام ہیں اور ایسا ان کی رضامندی سے اور بی بی سی کی ادارتی پالیسی اور حفاظتی رہنما خطوط کے باعث کیا گیا ہے۔

کریڈٹس

تدوین اور پیشکش: ویلیری پیراسو، امیلیا بٹرلی، لارا اوئن، جورجینا پیئرس، کاوون خاموش، ہانیہ علی، مارک شیے

بی بی سی 100 ویمن ایڈیٹر: کلیئر ولیمز

پروڈکشن: فلپا جوائے، اینا لوسیا گونزیلز

ڈویلپمنٹ:آیو ادجاجا، الیگزینڈر ایوانوف

ڈیزائن: ڈیبی لوئیزو، زوئے بارتھولمیو

السٹریشنز: جیلیا دستمالچی

تصاویر کے کاپی رائٹس: فاضل بریشا، جیرون پولو/تلاماؤ میڈیا، گریگ ڈیگوائر/گیٹی امیجز، نیٹ فلکس، مینی جیفریسن، یونیورسٹی کالج لندن، زونو فوٹوگرافی، برائن موانڈو، ایس ایچ ریحان، کیمجیو، فرحت ایلک، کلوئے ڈیسنوائرز، روئٹرز، بودیون بولمین، عمران کریم خٹک/ریڈآن فلمز، پیٹرک ڈاؤسے، کیٹ وارن، شیریڈن پوائر، فونڈو سیمیلاس، میگنیفیسنٹ لینز لمیٹڈ، ڈارسی ہیملی، رے رائن فوٹوگرافی، کارلا پولیسیلا/ وزارتِ خواتین ارجنٹینا، ماتیئس سالازار، ایکومن پکچرز، مارسیا ونڈوائی،

100 خواتین کیا ہے؟

بی بی سی 100 ویمن کے پرگرام میں ہر سال دنیا بھر کی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔

ہم ان کی زندگی کے بارے میں دستاویزی فلمیں بناتے، فیچرز اور انٹرویوز کرتے ہیں،ایسی کہانیاں جو خواتین کے گرد گھومتی ہیں۔