BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں

عزیز جو بچھڑ گیا
عزیز جو بچھڑ گیا

عزیز حیدری سے میری ملاقات تقریباً بارہ برس قبل ہوئی، میرا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب سے ہے لیکن ہم لوگ کافی عرصے سے یہاں اسلام آباد میں رہ رہے ہیں۔ ہماری شادی پر میرے خاندان والوں کو شدید اعتراض تھا۔ وہ کسی صورت بھی اس پر رضامند نہیں تھے۔ اس سلسلے میں میری والدہ اور ان کے تمام خاندان کو بہت تشویش تھی۔ میرے بھائی بھی شدید مخالف تھے۔ لہذا میں نے تنگ آ کر اپنے دادا جان کو اپنی مدد کے لئے کہا تو انہوں میرے اصرار پر عزیز کو اپنے گھر بلا لیا، اس سے اچھی طرح چھان بین کی اور آخر کار میرے حق میں فیصلہ دے دیا۔

اس طرح میری شادی انیس سو چھیانوے میں طے پائی۔ لیکن مجھے اس بات کا شدید افسوس تھا کے میری شادی میں میرے والدین اور میرے دادا کے سوا کوئی بھی شریک نہیں تھا۔ نہ میری بہنوں نے مجھے مہندی لگائی اور نہ ہی شادی کی دیگر تقریبات ہوئیں اور یہ تمام ارمان میرے دل ہی میں رہ گئے۔ لیکن مجھے اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ میرا ہونے والا جیون ساتھی عزیز ہی ہے۔ شادی کے بعد ہم سات سال اکٹھے رہے اور ہمارے دو بچے ہیں۔ انکے انتقال تک ہر دن ہماری زندگی میں خوشی ہی لے کر آیا۔ وہ انتہائی پیار کرنے والے باپ اور شوہر تھے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جسے اتنی چاہ کے بعد حاصل کیا ہے وہ یوں زندگی کی تپتی راہوں میں چھوڑ کر چلا جائے گا اور پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔

سترہ نومبر دو ہزار ایک کو (رمضان کا مہینہ تھا) صبح سات بجے وہ افعانستان کے لئے روانہ ہوئے۔ روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ میں پندرہ بیس دنوں کے لئے افعانستان جا رہا ہوں اور تم اپنا اور بچوں کا بہت خیال رکھنا۔ اب افعانستان میں امن ہے اور طالبان وہاں سے جا چکے ہیں اس لئے فکر کی کوئی بات نہیں اور ویسے بھی وہ میرا اپنا ملک ہے۔ لیکن پھر بھی میں بہت فکر مند تھی۔ اس وقت ہمارے بچے سو رہے تھے (دو سالہ محمد عماد حیدری اور پانچ سالہ علینا حیدری) وہ ان سے ملے بغیر ہی چلے گئے۔

اسی دن یعنی سترہ نومبر کو ان کا پشاور سے فون آیا اور مجھ سے بچوں کا حال احوال پوچھا، زیادہ تفصیل سے بات نہیں ہوئی وہ کچھ تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ اس کے بعد ان سے میری بات نہیں ہوئی۔ البتہ انیس نومبر کو ہی عزیز کا ایک خط مجھے ملا جو انہوں نے ڈرائیوار کے ہاتھ اپنے موبائیل فون کے ساتھ مجھے بھیجا تھا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’اپنا اور بچوں کا بہت خیال رکھنا کیونکہ یہ بچے میری زندگی ہیں اور میری لئے دعا کرنا اور پریشان نہ ہونا اللہ میری حفاظت کرے گا‘۔

انیس نومبر کی شام کو کوئی تین چار بجے کے قریب مجھے عزیز کے دفتر سے ٹیلی فون آیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ عزیز کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے اور وہ لاپتہ ہے یہ خبر سنتے ہی میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید وہ کسی بس میں سفر کر رہے ہونگے اور فائرنگ کے بعد کہیں چھپ گئے ہونگے۔ اور میں مسلسل دعا کئے جا رہی تھی کہ اللہ کرے وہ لاپتہ ہی ہوں۔

میرے والدین اور عزیز کے دفتر سے کچھ لوگ ہمارے گھر آنا شروع ہو گے اور دوسرے شہروں میں رہنے والے رشتے داروں نے فون کرنا شروع کر دیئے۔ میں سب کو یہی کہے جا رہی تھی کہ سب ٹھیک ہے اور وہ لا پتہ ہیں لیکن ایک وسوسہ سا میرے دل میں تھا۔ اس رات ہم سب گھر والوں نے اللہ کے حضور بہت دعائیں کیں، جو وظیفہ کسی نے کہا ہم نےکیا اور عزیز کی سلامتی کی دعائیں کرتے ہوئے سارا وقت گزارا۔ اس طرح بیس نومبر کا دن آ گیا مجھے کوئی کچھ نہیں بتا رہا تھا اور میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ عزیز کے دفتر کے لوگ اور میرے خاندان والے سب ہی یہ کہہ رہے تھے کہ دعا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن میری طبیعت مسلسل بے چین ہو رہی تھی اس دوران مجھے کسی نےدوائی لا کر دی کہ میں یہ کھا لوں اس سے میری طبیعت سنبھل جائے گی اس دوا کے کھانے کے بعد میں سو گئی وہ شاید نیند آور دوا ہی تھی۔

اکیس نومبر کو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر میں سفید چادریں بچھائی جا رہی ہیں یہ دیکھتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ میرے گھر والوں کو تو سب معلوم تھا لیکن انہوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا۔ اب ہر کوئی میرے گلے لگ کر مجھے تسلی دیئے جا رہا تھا مجھے ان تمام لوگوں سے وحشت ہو رہی تھی۔ میرا دل یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ عزیز اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ اتنے میں مجھے کسی نے کہا کہ عزیز کی میت آ رہی ہے یہ الفاظ میرے اوپر بجلی بن کر گرے۔ جو شخص چار روز قبل ہنستے ہوئے ہم سے رخصت ہوا تھا آج ہم سے اس طرح ملے گا کہ ہماری کوئی بات بھی نہیں سن سکے گا۔ عزیز کی میت کو دیکھ کر میں نے اس زور سے انہیں آوازیں دیں کہ شاید وہ میری آواز سن لے۔ ۔ ۔

تب سے میری زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کی یادوں کے ساتھ گزر رہا۔ میں تو کسی سے گلہ بھی نہیں کر سکتی ہوں۔ میرے بچے جو اب تک اس بات سے بےخبر ہیں کہ انکے ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ان کے ابو اپنی ملازمت کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے ہیں اور جب بھی اپنے صحن میں کھڑے ہو کر فضا میں کسی ہوائی جہاز کو دیکھتےہیں تو ہاتھ ہلا کر اپنے ابو کو بلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب مجھ سے میرے بچے یہ سوال کرتے ہیں کہ ابو کب آئیں گے تو میں لاجواب ہو جاتی ہوں، میں بچوں کو کیسے سمجھاؤں کہ انکے ابو کے انکے ہم وطنوں نے ’یعنی افعانون‘ نے آپ سے ہمیشہ کے لئے دور کر دیا ہے۔ عزیز کا مشن تھا کہ وہ اپنی تصویروں کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنےملک ’افعانستان‘ کے لوگوں کے مسائل اجاگر کریں اور اب یہی میرا مشن ہے۔ میں اپنے اس مشن میں تو شاید کامیاب ہو جاؤں لیکن مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ میں اپنے بچوں کو افغان شہریت کا حق دلانے میں کامیاب ہو سکوں گی جو ان کا بنیادی حق ہے۔


افغانستان میں سن دو ہزار ایک کی افعان جنگ کے دوران جو انیس نومبر دو ہزار ایک کو کابل کے مشرق میں تقریباً ساٹھ میل دور سبوری کے مقام پر صحافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو پہلے سے گھات لگائے ہوئے چند لوگوں نے قتل کر دیا۔ ان چار افراد میں ایک آسٹریلوی، ایک اطالوی ، ایک ہسپانوی اور ایک افعان شامل تھا۔ یہ واقع ہے پیش آیا۔ اس جنگ کے دوران اس طرح کے اور بہت سے واقعات ہوئے جو لوگوں کو بھول چکے ہوں گے لیکن اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں میں تینتیس سالہ افغان عزیز حیدری بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف حصّہ پاکستان میں بحثیت افعان پناہ گزین کے طور پر ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے میں فوٹو گرافر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے گزارا جن کی شریک حیات سعدیہ حیدری ایک لمحے کے لئے بھی یہ واقعات نہیں بھول پاتی ہیں۔ اور عزیز حیدری کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی تمام یادوں کو ایک قیمتی خزانے کی طرح سنبھال رکھا ہے۔ حیدری نے اپنی زندگی کی یہ یادیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے محمد اشتیاق کو اسلام آباد میں بتائیں۔ اگر آپ کی بھی کوئی ایسی کہانی ہے جو آپ ہمیں سنانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ آپ اگر چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد