’مس نہ کریں‘: عنوان بھیجیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا کے عوام جلد ہی دنوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کو کئی برسوں بعد پاکستان میں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہوئے دیکھیں گے۔ دونوں ممالک میں ان میچز کے بارے میں بہت گرم جوشی پائی جاتی ہے اور دونوں ٹیمیں ان دنوں تیاریوں میں مصروف ہیں۔ شعیب اختر کی یہ تصویر قذافی سٹیڈیم، لاہور میں نیٹ پریکٹس کے دوران لی گئی۔ اس کے لئے عنوان تجویز کیجئے۔ براہِ مہربانی اپنے عنوان کے لئے کم سے کم الفاظ کا انتخاب کیجئے۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ سراج چترال، برطانیہ ٹنڈلکر کا خوف ابھی تک سوار ہے چاچو عبدالرحمان صدیقی، لاہور گیند کہاں ہے؟ مصور علی، کراچی بچ کے، بہت گرم ہے میرا بھائی فرخ حسین، مہراب پور، سندھ ماموں، مچھلی پکڑ رہے ہو کیا؟ سجاد حیدر کٹھیا ذوالفقار شاہ، میانوالی، پاکستان انور شاہین، البرٹہ، کینیڈا طارق لطیف، کراچی رحمت اللہ، دین پور، پاکستان عاصم افضال، پاکستان عرفان قیوم، امریکہ عطا حسین، اسلام آباد طارق جمال، کینیڈا خالد صدیقی، کینیڈا اوئے اس کو انڈیا کا ویزا سمجھ کر پکڑ یار فرحان احمد، کینیڈا بال کو دیکھ، پویلین کو نہیں سید انور اقبال، ٹورنٹو اللہ دے اور بندہ لے عامر ہاشمی، پاکستان براہِ مہربانی خود نہ ڈراپ ہو جانا بلال احمد کاہلوں، سانگلہ ہل یار بال ہے کہ لڑکی ہاتھ آتی ہی نہیں محمد خورشید عالم ہاشمی، گکھڑ اوئے سگرٹ دو بھر کے، تب کیچ پکڑا جائے گا عبدالجلیل چترالی، لندن گیند کو پھینکنا آسان، پکڑنا مشکل عمران لکھویرا، شکاگو او بھائی بال کہاں ہے؟ شاہدہ اکرام، دوبئی دوچار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا میاں خالد جاوید، لاہور کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ صالح محمد، راوالپنڈی رزاق: شعیب تیرے وس دا کم نئیں عدنان مبین، کراچی یار شعیب پلیز، اپنے بال تو کٹوا لو عاصم افضل، گجر خان رزاق تو دانت نہ نکال، تو بھی کچھ کم نہیں رزاق چیمہ، جاپان اوئے کیچ نہ چھڈیں سمیع اقبال، مسی ساگا اس دفعہ کیچ ڈراپ تو تو ڈراپ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||