بش اور ڈاکٹر کے کی ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے خفیہ اداروں کے ذریعے حاصل ہونے والی ان معلومات کی آزادانہ انکوائری کا حکم جاری کیا ہے جنہیں عراق پر حملے کا جواز بنایا گیا۔ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ ہونے کے بارے میں امریکی معائنہ کاروں کے سابق سربراہ ڈیوڈ کے کے بیان کے بعد بش انتظامیہ پر شدید دباؤ تھا کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرائے۔ صدر بش اس سے پہلے اس سلسلے میں کوئی آزادانہ انکوائری کرانے کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم اب انہوں نے اس کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ان کی ڈیوڈ کے کے ساتھ ملاقات کی یہ تصویر اس انکوائری کے اعلان کے دو دن بعد لی گئی ہے۔ اس کے لئے عنوان تجویز کریں۔ براہِ مہربانی اپنے عنوان کے لئے کم سے کم الفاظ کا انتخاب کیجئے۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ اعجاز اعوان، کراچی لگتا ہے تم کو بھی ہیرو بننے کا شوق ہے محمد عامر خان، کراچی صبح ہوگئی ماموں خان گل، پاکستان ہوشیار باش ملک وسیم الحق، کراچی، پاکستان محمد علی میمن، کراچی، پاکستان امجد عبداللہ، ملکہ ہانسی، پاکستان پرویز بلوچ، بحرین اعجاز احمد، ٹورانٹو حیدر رند، ٹھٹہ عنبرین بنگش، ٹورانٹو علی شاکر، دوحہ وہاب خان، بنوں، پاکستان شاہدہ اکرم، ابوظہبی افضال ملک، راولپنڈی نعیم الرحمان، دوبئی محمد انور، بارسلونا اظہر اقبال بٹ، شارجہ ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد محمد شاہد، لاہور محمد عمران، نیوزی لینڈ آصف نذیر، کراچی فیصل زرتاشہ، متحدہ عرب امارات مرزا عاصم محمود، گجرات جاوید احمد، کراچی فرحان فہیم الحق، لاہور عباس ہامیہ، ہنزہ محمد فدا، ٹورانٹو سید نبیل نعیم، سعودی عرب |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||