منموہن سنگھ کا آپریشن کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے دل کا آپریشن کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے اور اب ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔ آپریشن کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ منموہن سنگھ کے دل کی بائی پاس سر جری ہوئی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اب ان کا علاج بھی اچھی طرح چل رہا ہے۔ انہیں دل کی شریانوں میں رکاوٹ کی تشخیص کے بعد انہیں جمعہ کو دلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کیا گیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان وی رپّا موئیلی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا آپریشن کامیاب رہا ہے جس کے لیے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔’پورے ملک کو اس بات پر خوشی ہے کہ کہ ہمارے وزیراعظم منموہن سنگھ کا آپریشن کامیاب رہا ہے۔ یہ بہت خوش آئند خبر ہے کہ ان کا علاج بھی کامیابی سے جاری ہے اور ان کی مکمل صحت یابی کے بعد واپسی پر لوگ مزید خوش ہوں گے‘۔ وی رپا موئیلی کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف ایک دو ہفتوں کی بات ہے جس کے بعد وزیراعظم واپس کام پر آ جائیں گے اس لیے قائم مقام وزیراعظم مقرر کرنے کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی آئین میں اس طرح کی کوئی بات کہی گئی ہے۔
منموہن سنگھ کے صحت یابی تک وزیر خارجہ پرنب مکھرجی ان کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ ’ہم وزیر اعظم کی جلدی صحت یابی چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر پر اعتماد ہیں اور ہمیں امید ہے کہ سب جلدی ہی ٹھیک ہو جائے گا‘۔ دلی اور ممبئی کے آٹھ ڈاکٹروں کی ٹیم نے چھہتر سالہ وزیرِ اعظم کا آپریشن کیا۔اس ٹیم کے ایک ڈاکٹر سدھیر وشنو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو آپریشن تھیٹر میں صبح سوا پانچ بجے لے جاگیا اور سوا سات بجے آپریشن کی شروعات ہوئیں جو آٹھ گھنٹے تک چلا۔ منموہن سنگھ کا تقریباً انیس برس قبل بھی برطانیہ میں بائی پاس آپریشن ہو چکا ہے۔ 2003 میں بھی ان کی انجیو پلاسٹی کی گئی تھی۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ تناؤ کے تناظر میں وزیرِاعظم کے لیے سیاست سے دور رہنے کا یہ اچھا وقت نہیں ہے۔ بھارت میں آئندہ اپریل اور مئی میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور آپریشن کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ کی انتخابی مہم میں شمولیت غیریقینی کا شکار ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا ’حملوں کے پیچھے سرکاری ایجنسی ‘06 January, 2009 | انڈیا امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر اتفاق25 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||