منموہن سنگھ کا آپریشن سنیچر کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ کی تشخیص کے بعد سنیچر کو دلی میں ان کا آپریشن ہوگا۔ وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق منموہن سنگھ کو جمعہ کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں کل ان کا آپریشن ہوگا۔ دارالحکومت دہلی میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ منموہن سنگھ کی صحت یابی تک کابینہ کے سینئر ترین رکن اور وزیرِ خارجہ پرنب مکھرجی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ خیال رہے کہ چھبیس جنوری کو بھارت میں یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے جس کی تقریبات میں عموماً وزیراعظم شریک ہوتے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ منموہن سنگھ ان تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم ان کی غیرموجودگی کا تقریبات پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یومِ جمہوریہ کی تقریب میں وزیراعظم نہیں، ملک کی صدر پرتیبھا پاٹِل کا کردار اہم ہے۔ خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے وزیراعظم کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ’ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کورونری آرٹری بائی پاس گرافٹ آپریشن چوبیس جنوری کو ہوگا۔‘ یاد رہے کہ منموہن سنگھ کا قریباً انیس برس قبل سن 1990 میں برطانیہ میں بائی پاس آپریشن ہو چکا ہے جبکہ 2003 میں ان کی انجیو پلاسٹی بھی کی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بھارت میں آئندہ اپریل اور مئی میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ آپریشن کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ آپریشن کی انتخابی مہم میں شمولیت غیریقینی کا شکار ہوسکتی ہے۔ تاہم آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو ایسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ منموہن سنگھ تین سے چار ہفتوں کے اندر اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گے۔ |
اسی بارے میں ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا ’حملوں کے پیچھے سرکاری ایجنسی ‘06 January, 2009 | انڈیا امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر اتفاق25 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||