’پاکستانی ریاست ملوث نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کی ریاست ملوث نہیں تھی لیکن حملہ آوروں کے ٹھکانے پاکستان میں ہی تھے اور ان کے خلاف کارروائی کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ ڈیوڈ ملی بینڈ ہندوستان کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ دلی میں اپنے ہم منصب پرنب مکھرجی سے بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ نے کہا کہ ’یہ بات اہم ہے کہ میں اس بات کو یہاں دوہراؤں کہ ممبئی حملوں میں پاکستان ریاست کا ہاتھ نہیں تھا۔‘ انہوں نے کہا جو بات اہم ہے وہ یہ کہ پاکستان کا لشکر طیبہ تنظیم کی طرف رویہ کیا ہے۔ ’ ممبئی حملوں میں واضح طور پر لشکر طیبہ ملوث تھی اس لیے پاکستان کی پوری انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تنظیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ نے ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف پاکستان میں ہی مقدمہ چلانے کی بظاہر حمایت کی۔ انہوں نے کہا ’ پاکستان میں ایک آزاد عدالتی نظام موجود ہے۔’ 2008 میں پاکستان کے وکلاء اور ججوں نے یہ دکھا دیا تھا کہ وہ کسی خوف اور دباؤ کے آگے نہیں جھکتے۔ اس لیے یہ بات اہم ہے کہ جو ثبوت جمع کیےگئے ہیں ان کی بنیاد پر ممبئی حملے کے سلسلے میں جو بھی افراد گرفتار کیےگئے ہیں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا‘۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ ممبئی حملوں کو ہند پاک تعلقات کے نکتہ نظر سے نہیں دکھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا مقابلہ بین الاقوامی براداری کو اجتماعی طور پر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ’مجھے امید ہے ہم نے پاکستان کو جو ثبوت پیش کیے ہیں وہ ان کی بنیاد پر قدم اٹھائیں گے اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ممبئی حملوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘ مکھرجی نےان افراد کو ہندوستان کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو مختلف معاملات میں ہندوستان کو مطلوب ہیں جنہوں نےمبینہ طور پر پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ دلی میں مختلف رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ممبئی جائیں گے جہاں وہ تاج اور اوبرائے ہوٹل میں دہشتگردی کے موضوع پر لیکچر دیں گے۔ممبئی حملوں میں شدت پسندوں نے ان دونوں اہم ہوٹلوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ |
اسی بارے میں ’انڈیا ایک مہمان نواز ملک ہے‘25 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’حملوں پر پاکستان سے بات کریں‘28 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||