صومالیہ، مغوی جہاز رانوں کی رہائي | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ میں سمندری قزاقوں کی قید میں تقریبا دو ماہ رہنے کے بعد جاپانی جہاز کے بھارتی نژاد جہاز رانوں اور کپتان پربھات گوئل سمیت سبھی کو رہا کردیا گيا ہے۔ رہائی پانے والے افراد بھارت واپس آرہے ہیں۔ پربھات گوئل کی بیوی سیما گوئل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رہائی کے بعد جہاز تیز رفتاری سے واپسی کی طرف گامزن ہے لیکن خطرے سے باہر آنے کے لیے اسے ابھی بھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ سٹالٹ ویلیر ہانگ کانگ کی فلیٹ شپ مینجنگ کمپنی کا ایک مال بردار جہاز ہے۔ اس کے کپتان پربھات گوئیل ہیں۔ اس جہاز کو صومالیہ کی خلیج عدن میں صومالی قزاقوں نے پندرہ ستمبر کو اغوا کرلیا تھا۔ اس جہاز کی دیکھ بھال اور اسے چلانے کے لیے تقریبا اٹھارہ بھارتی شہری کام کر رہے تھے اور یہ سب کے سب یرغمال بنا لیے گئے تھے۔ قزاقوں نے جہاز اور اس میں سوار لوگوں کی رہائی کے لیے کئی ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ جاپانی کمپنی نے اس جہاز کی رہائی کے لیے ایک خطیر رقم دی ہے۔ تاہم اس بارے میں جہاز کے مالکان نے کچھ بھی نہیں کہا ہے۔ صومالیہ کے نزدیک خلیج عدن میں مال بردار جہازوں پر حملے لوٹ مار اور اغوا کی کئی وارداتوں کے بعد ہندوستانی جہازوں کے تحفظ کے لیے ہندوستانی بحریہ نے 23 ستمبر سے خطے میں گشت کرنا شروع کیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق بحریہ کے اس گشت کا مقصد’ہندوستانی مال بردار جہازوں کو قزاقوں کے حملے سے بچانا اور اس راستے سے بڑی تعداد میں گزرنے والے ہندوستانی جہازرانوں میں تحفظ اوراعتماد کا احساس پیدہ کرنا ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ کے خطرناک سمندری قزاق24 April, 2008 | آس پاس پینتیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ27 September, 2008 | آس پاس صومالیہ، انڈیا جنگی جہاز بھیجےگا17 October, 2008 | آس پاس خلیج میں غیر ارادی تصادم کے خطرات12 January, 2008 | آس پاس صومالی قزاقوں پر بھارتی بحریہ کا حملہ11 November, 2008 | انڈیا بھارت: جنگی طیاروں کیلیےٹینڈر طلب 29 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||