BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2008, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: ’بیماریوں سے اموات‘

بہار میں سیلاب
سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کیمپ کھچاکھچ بھرے ہوئے ہیں اور یہاں صفائی کی کمی ہے
ہندوستان کے شمالی صوبے بہار میں دریائے کوسی کے سیلاب زدہ علاقوں سے اب اسہال جیسی بیماریوں سے ہلاکتوں کی خبریں آنے لگی ہیں۔اموات کی خبر سپول اور ارریہ اضلاع سے مل رہی ہیں۔

سپول ضلعے کے تروینی گنج بلاک کے مانگنج گاؤں میں ایک چھت پر پناہ لیے ہوئے متعدد افراد کی اطلاعات کے مطابق ڈائریا یا بھوک سے موت ہو گئی ہے۔

ان اموات کی کسی سرکاری اہلکار سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے لیکن مانگنج کے مکھیا (مقامی پنچایت کے عوامی نمائندہ) گوری شنکر سنگھ کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے سبب اموات ہوئي ہيں اور ان مرے ہوئے افراد کی لاش بنا کفن پانی میں بہا دینی پڑی ہیں۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس تھانے کے زیرآب آنے کی وجہ سے اس واقعے کی خبر وہاں بھی نہیں دی جا سکی ہے۔

 واضح رہے کہ کوسی کے سیلاب سے پانچ اضلاع کے قریب ستائس لاکھ افراد متاثر ہیں اور صرف سرکاری کیمپوں میں کم از کم تقریبا تین لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسکے علاوہ کافی تعداد میں لوگ غیر سرکاری تنظیموں کے کیمپوں میں پناہ لینے کو مجبور ہوۓ ہیں

واضح رہے کہ کوسی کے سیلاب سے پانچ اضلاع کے قریب ستائیس لاکھ افراد متاثر ہیں اور صرف سرکاری کیمپوں میں کم از کم تقریباً تین لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔

اس کے علاوہ کافی تعداد میں لوگ غیر سرکاری تنظیموں کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان کے ریلیف کیمپ کھچاکھچ بھرے ہوئے ہیں، یہاں کافی گرمی ہے اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔

دوسری جانب ریاست کے ڈزاسٹر مینیجمنٹ محکمہ کے اہلکار پرتئے امرت نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً سات سو نئے ہینڈ پمپ لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قریب ڈیڑھ سو طبی کیمپ بھی قائم کیے گیے ہیں۔

ریاست کے ہیلتھ سیکریٹری دیپک پرساد کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں امراض وبائی شکل نہ اختیار کرے اس کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت مرکزی حکومت اور امدادی ایجنسیوں کے ساتھ یہ کام شروع کر رہی ہے۔

بہار میں سیلاببہار کے روزدار
سیلاب متاثرین کو افطار اور سحری کی فکر
بہار میں سیلاببہار: کتنے بہہ گئے
بہار سیلاب میں ہلاکتوں کے متضاد دعوے
فائل فوٹوقدرتی آفت۔۔۔
سیلاب قومی سطح کی کوششوں کا فقدان!
بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاںبہار میں سیلاب
بھارتی ریاست میں سیلاب کی تباہ کاریاں:تصاویر
جان لیوا بارشیں
انڈیا میں شدید بارشوں سے عام زندگی درہم برہم
اسی بارے میں
بہار میں ہلاکتیں کتنی؟
04 September, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد