بہار: ’بیماریوں سے اموات‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمالی صوبے بہار میں دریائے کوسی کے سیلاب زدہ علاقوں سے اب اسہال جیسی بیماریوں سے ہلاکتوں کی خبریں آنے لگی ہیں۔اموات کی خبر سپول اور ارریہ اضلاع سے مل رہی ہیں۔ سپول ضلعے کے تروینی گنج بلاک کے مانگنج گاؤں میں ایک چھت پر پناہ لیے ہوئے متعدد افراد کی اطلاعات کے مطابق ڈائریا یا بھوک سے موت ہو گئی ہے۔ ان اموات کی کسی سرکاری اہلکار سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے لیکن مانگنج کے مکھیا (مقامی پنچایت کے عوامی نمائندہ) گوری شنکر سنگھ کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے سبب اموات ہوئي ہيں اور ان مرے ہوئے افراد کی لاش بنا کفن پانی میں بہا دینی پڑی ہیں۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس تھانے کے زیرآب آنے کی وجہ سے اس واقعے کی خبر وہاں بھی نہیں دی جا سکی ہے۔ واضح رہے کہ کوسی کے سیلاب سے پانچ اضلاع کے قریب ستائیس لاکھ افراد متاثر ہیں اور صرف سرکاری کیمپوں میں کم از کم تقریباً تین لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ کافی تعداد میں لوگ غیر سرکاری تنظیموں کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان کے ریلیف کیمپ کھچاکھچ بھرے ہوئے ہیں، یہاں کافی گرمی ہے اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ دوسری جانب ریاست کے ڈزاسٹر مینیجمنٹ محکمہ کے اہلکار پرتئے امرت نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً سات سو نئے ہینڈ پمپ لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قریب ڈیڑھ سو طبی کیمپ بھی قائم کیے گیے ہیں۔ ریاست کے ہیلتھ سیکریٹری دیپک پرساد کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں امراض وبائی شکل نہ اختیار کرے اس کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت مرکزی حکومت اور امدادی ایجنسیوں کے ساتھ یہ کام شروع کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں بہار میں ہلاکتیں کتنی؟04 September, 2008 | انڈیا قومی سطح کی کوششوں کا فقدان03 September, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||