BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 July, 2008, 00:40 GMT 05:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیردل مچھیرے نے شیر کو بھگا دیا
بنگال کے آدم خور شیر نے فاتیک ہالدر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سندر بن میں ایک مقام پر جھینگے پکڑ رہے تھے
کئی سال پہلے ایک شیر نے مغربی بنگال کے ایک باسی کو ہلاک کر دیا تھا۔ بیس سال بعد ایک آدم خور شیر نے اسی شخص کے بیٹے پر خوفناک حملہ کیا تاہم بیٹا باپ کی نسبت خوش قسمت نکلا اور وہ اس حملے میں بچ گیا ہے۔

بنگال کے آدم خور شیر نے فاتیک ہالدر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سندر بن میں ایک مقام پر جھینگے پکڑ رہے تھے۔

بیس منٹ تک ہالدر زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ شیر نے ہالدر کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا اور انہیں بار بار کاٹا۔ تاہم شیر انہیں ہلاک کرنے میں ناکام رہا اور بھاگ گیا۔

اس کے بعد ہالدر کو اپنے جسم کے اوپری حصوں کا جہاں شیر نے زخم لگائے تھے، علاج کرانے کی غرض سے کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔

ہالدر کہتے ہیں کہ جب شیر ان پر حملہ آور تھا تو انہیں یہ خیال آ رہا تھا کہ ان کے والد بھی شیر ہی کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صبح دس بجے جھینگے پکڑنے کے لیے جال ڈالا اور شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ ’ایک دو سیکنڈ کے لیے تو مجھے احساس تک نہیں ہوا کہ مجھے پر کس نے حملہ کیا ہے۔‘

’مجھے اپنے بیوی بچوں کا خیال آ رہا تھا۔ میں نے اپنی ایڑیاں مٹی میں گاڑھ دیں اور اپنا ہاتھ شیر کے جبڑے میں ڈال دیا تا کہ وہ وہ مجھے کاٹ نہ سکے۔ لیکن مجھے شیر نے کاٹا اور درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا۔‘

اس حملے کے بعد وہ طبی امداد کے لیے کلکتہ روانہ ہوئے اور دس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہسپتال پہنچے۔

ان کی یہ آزمائش اب لوک کہانیوں کا ایک حصہ بن گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ان کے برے دن ختم ہوگئے ہیں اور انہیں کوئی دوسرا کام کرنا ہوگا۔

اس واقعہ سے ایک روز قبل آدم خور شیر نے نریان داس نامی ایک شخص پر حملہ کیا تھا اور انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔ بعد میں انہیں ہلاک قرار دے دیا گیا تھا۔

شیروں کیلیے فوجی
سابق فوجی شیروں کی حفاظت پر مامور
آخری پانچ ہزار
چین میں بھارتی شیروں کی کھالیں برائے فروخت
شیرشیروں کے حفاظت
شیروں کی حفاظت کے لیے ٹاسک فورس بنے گی
شیرشیروں کی پناہ گاہ
سندر بن میں شیروں کی معدوم ہوتی ہوئی نسل
اسی بارے میں
ٹریفک حادثے میں شیر ہلاک
06 December, 2007 | انڈیا
سابق فوجی شیروں کے محافظ
02 November, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد