شیردل مچھیرے نے شیر کو بھگا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی سال پہلے ایک شیر نے مغربی بنگال کے ایک باسی کو ہلاک کر دیا تھا۔ بیس سال بعد ایک آدم خور شیر نے اسی شخص کے بیٹے پر خوفناک حملہ کیا تاہم بیٹا باپ کی نسبت خوش قسمت نکلا اور وہ اس حملے میں بچ گیا ہے۔ بنگال کے آدم خور شیر نے فاتیک ہالدر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سندر بن میں ایک مقام پر جھینگے پکڑ رہے تھے۔ بیس منٹ تک ہالدر زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ شیر نے ہالدر کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا اور انہیں بار بار کاٹا۔ تاہم شیر انہیں ہلاک کرنے میں ناکام رہا اور بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہالدر کو اپنے جسم کے اوپری حصوں کا جہاں شیر نے زخم لگائے تھے، علاج کرانے کی غرض سے کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔ ہالدر کہتے ہیں کہ جب شیر ان پر حملہ آور تھا تو انہیں یہ خیال آ رہا تھا کہ ان کے والد بھی شیر ہی کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صبح دس بجے جھینگے پکڑنے کے لیے جال ڈالا اور شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ ’ایک دو سیکنڈ کے لیے تو مجھے احساس تک نہیں ہوا کہ مجھے پر کس نے حملہ کیا ہے۔‘ ’مجھے اپنے بیوی بچوں کا خیال آ رہا تھا۔ میں نے اپنی ایڑیاں مٹی میں گاڑھ دیں اور اپنا ہاتھ شیر کے جبڑے میں ڈال دیا تا کہ وہ وہ مجھے کاٹ نہ سکے۔ لیکن مجھے شیر نے کاٹا اور درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا۔‘ اس حملے کے بعد وہ طبی امداد کے لیے کلکتہ روانہ ہوئے اور دس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہسپتال پہنچے۔ ان کی یہ آزمائش اب لوک کہانیوں کا ایک حصہ بن گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ان کے برے دن ختم ہوگئے ہیں اور انہیں کوئی دوسرا کام کرنا ہوگا۔ اس واقعہ سے ایک روز قبل آدم خور شیر نے نریان داس نامی ایک شخص پر حملہ کیا تھا اور انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔ بعد میں انہیں ہلاک قرار دے دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ٹریفک حادثے میں شیر ہلاک06 December, 2007 | انڈیا شیر کی کھال کے اسمگلر گرفتار05 December, 2007 | انڈیا سابق فوجی شیروں کے محافظ02 November, 2007 | انڈیا سمگلشدہ کھالیں چین میں مقبول 27 September, 2006 | انڈیا ہندوستان: ٹائیگرز کی تعداد میں کمی 24 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||