ہندوستان: ٹائیگرز کی تعداد میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں شیروں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ وائلڈ لائف انسٹیٹوٹ آف انڈیا کے ایک جائزے کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں شیروں کی تعداد میں دو تہائی کمی آئی ہے۔ جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں سنہ دوہزار دو میں بھی ایک سروے ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں شیروں کی کل تعداد تین ہزار پانچ سو پچپن ہے لیکن وہ غلط ثابت ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ ٹائیگرز کی تعداد میں کمی کی سب سے بڑی وجہ گھٹتے ہوئے جنگل اور ٹائیگر کی کھال اور اعضا کی اسمگلنگ کے لیے ان کی ہلاکت ہے۔ نئے جائزے میں پتہ چلا ہے کہ ٹائیگروں کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی ریاست مدھیہ پردیش میں آئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ پانچ برسوں میں سات سو دس ٹائیگروں میں سے اب صرف دو سو پچپن ٹائیگرز ہی بچے ہیں۔ ٹائیگرز کنزرویشن اتھارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری راجیش گوپال کا کہنا ہے کہ ’اس جائزے میں جو تعداد سامنے آئی ہے وہ پہلے ہونے والے جائزوں سے بہت مختلف ہے۔‘ مسٹر گوپال کا کہنا ہے کہ حالیہ جائزہ ماضي میں ہونے والے سبھی جائزوں سے زیادہ جامع اور قابل بھروسہ ہے۔ جائزے میں ابھی صرف کچھ ریاستوں میں شیروں کی تعداد کی تفصیل دی گئی ہے اور باقی ریاستوں کی تعداد اس برس دسمبر تک آنے کی امید ہے۔
جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شیروں کی گھٹتی تعداد کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔انکا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹائیگروں کی اسمگلنک پر قابو پانے کے لیے ٹھوس انتظامات نہیں کیے ہیں۔ وائیلڈ لائف پروٹیکشن آف انڈیا کی ڈائریکٹر بلنڈا رائٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کو بتایا ہے کہ ’ٹائیگروں کی گھٹتی تعداد بہت افسوس ناک بات ہے۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ بالآخر حکومت کو اب اپنے ہی جائزے سے یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ملک میں ٹائیگروں کی تعداد کم ہورہی ہے۔‘ ایک صدی پہلے ہندوستان میں ٹائیگرز کی تعداد چالیس ہزار تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستا ن میں دنیا بھر کے 40 فی صد ٹائیگر موجود ہیں۔ ملک کی سترہ ریاستوں میں ٹائیگرز کے لیے تیئس محفوظ جنگل ہیں۔ جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہندوستان سے بڑی تعداد میں ٹائیگرز اسمگل کیے جارہے ہیں اور چین اسکا بڑا مرکز ہے۔ | اسی بارے میں سمگلشدہ کھالیں چین میں مقبول 27 September, 2006 | انڈیا شیروں کی حفاظت کی جائے گی27 June, 2005 | انڈیا سمٹتی جگہیں اور کم ہوتے شیر21 July, 2006 | نیٹ سائنس بھارت میں شیروں کی گنتی شروع16 January, 2006 | انڈیا بوڑھےشیروں کی پناہ گاہ 24 May, 2005 | انڈیا گجرات کے جنگلوں سے چیتے غائب16 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||