بھارت میں شیروں کی گنتی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں شیروں کی تعداد میں واقع ہونے والی کمی کے باعث حکومت نے ایک منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں پائے جانے والے شیروں کی گنتی کی جارہی ہے۔ اس سروے میں نیشنل پارک اور مختلف قدرتی مقامات پر زیادہ زور دیا جائے گا جہاں عمومی طور پر پائے جانے والے شیروں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ اس گنتی کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ ایک مرکزی ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا جس میں نہ صرف شیروں کی تعداد کی تفصیل ہوگی بلکہ اس میں باقاعدہ تصاویر بھی شامل کی جائیں گی تاکہ شیروں کی اصل تعداد کا درست اندازہ ممکن ہو سکے۔ ایک صدی قبل بھارت میں تقریباً چالیس ہزار شیر پائے جاتے تھے۔ یہ تعداد اب کم ہو کر صرف پینتیس سو رہ گئی ہے۔ سروے کے پہلے مرحلے میں ملک کی سترہ ریاستوں میں پائے جانے والے شیروں کے قدرتی مقامات کی آب و ہوا کا جائزہ لیا جائے گا۔ جس کے بعد ماہرین یہ معلوم کریں گے کہ کن مقامات پر شیروں کی تعداد زیادہ ہے۔ مرکزی بھارت کے پنہ نیشنل پارک کے نگرانوں نے پہلے ہی چونتیس شیر کے وہاں موجود ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔ تاہم قومی ادارے کا کہنا ہے کہ بہت کم مقامات پر اتنی تعداد میں شیر پائے جاتے ہیں اور اکثر صورتحال کی ابتری چھپانے کے لیے یہ تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے۔ یہ سروے بین الاقوامی تنقیدکاروں کی تنقید کے بعد کیا جارہا ہے جنہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شیروں کی تعداد میں کمی کے مسئلے سے صحیح طور پر نہیں نمٹ رہا۔ گزشتہ سال یہ بات سامنے آئی تھی دریافت ہوا تھا کہ راجستھان کے سارسکا ٹائیگر ریزرو میں پائے جانے والے تمام شیر ہلاک کردیے گئے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کوشاں اداروں نے پہلے ہی متنبہ کردیا ہے کہ بھارتی حکومت نے یہ قدم اٹھانے میں بہت دیر کردی ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی شیروں کی کھالوں کی تجارت 23 September, 2005 | انڈیا شیروں کی حفاظت کی جائے گی27 June, 2005 | انڈیا بوڑھےشیروں کی پناہ گاہ 24 May, 2005 | انڈیا گجرات کے جنگلوں سے چیتے غائب16 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||