گجرات کے جنگلوں سے چیتے غائب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست گجرات میں حکام نے سرسکا کے محفوظ علاقے میں چیتوں کی تلاش بغیر کسی کامیابی کے ختم کر دی ۔ ماہرین ماحولیات کو خدشہ ہے کہ شاید اس پورے محفوظ علاقے میں چیتوں کی آبادی ختم ہو گئی ہے ۔لیکن افسران کو اب بھی اس علاقے میں چیتوں کے پائے جانے کی امید ہے۔ 2004 میں جب اس محفوظ علاقے میں چیتوں کی گنتی کی گئی تھی تو ان کی تعداد 15 بتائی گئی تھی۔ محکمہ جنگلات کے 300 ارکان کی ٹیم نے چیتوں کی تلاش کی ایک بڑی مہم شروع کی تھی جس میں چیتے کے پیروں کے نشانات تلاش کئے گئے تھے لیکن اس دو ہفتے کی مشق میں ٹیم کو ایک بھی نشان نہیں مل سکا ۔ یہ تلاش محکمہ جنگلات کے عالمی فنڈ کے اس انکشاف کے بعد شروع کی گئی تھی کہ سرسکا کے محفوظ جنگلات میں چیتوں کی موجودگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ادارے کے مطابق چیتے وہاں سے گزشتہ چھ ماہ میں غائب ہوئے ہیں۔ تاہم محکمہ جنگلات کے افسران کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں اس علاقے میں چیتے دکھائی دینے کا امکان ہے۔ محکمہ جنگلات کے سینئر افسر ارون سین نے بی بی سی کو بتایا کہ سرسکا میں چیتوں کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں واضح تصویر کے لئے مئی تک انتظار کرنا چاہیے جب پھر سے چیتوں کی گنتی ہوگی۔ لیکن ملک میں چیتوں کے دیوانوں کو زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ ممتاز سماجی کارکن راجندر سنگھ کا، جوگزشتہ دو دہائی سے چیتوں کے تحفظ کا سوال اٹھا رہے ہیں، کہنا ہے کہ کانکنی کا دباؤ اور انسانی لالچ نے چیتوں کی تعداد 1985 میں ہی 5 تک پہنچا دی تھی۔ انہوں نے کہا ’ہم نے اس کے لئے جدو جہد کی اور سرسکا میں چیتوں کے لئے ماحول بنایا تھا جس کے نتیجے میں 2001 میں ان کی تعداد 20 تک پہنچ گئی تھی‘۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ برس اس محفوظ علاقے میں چیتوں کو پکڑنے کے جال برآمد ہوئے تب بھی افسران اس خطرے کو محسوس نہیں کر سکے۔ بھارت میں چیتوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے جو پوری دنیا میں پائے جانے والے چیتوں کی آبادی کا آدھا حصہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||