ماحولیاتی آلودگی اور الیکٹرانک ردی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ صدی کی بہت سی ایجادات میں کئی الیکٹرانک اشیاء بڑی اہمیت کی حامل ہیں کمپیوٹر، فیکس مشین، ٹی وی، موبائیل فون، اور کئی طرز کے برقی کھلونوں جیسی بہت سے اشیاء ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن روزمرہ استعمال میں آنے والی یہ چیزین تیز رفتاری سے خراب بھی ہو رہی ہیں جسں سے الیکٹرانک فضلات میں زبردست اضافہ ہوتاجارہا ہے جو ماحولیات کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔ عام طور پر الیکٹرانک چیزیں اور اس میں کام آنے والی بیٹریوں کی تخلیق میں پلاسٹک کے علاوہ جن خصوصی دھاتوں کا استعمال ہوتا ہے ان میں ٹاکسن یعنی زہریلے مادوں کی کافی مقدار ہوتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق الیکٹرانک ردی [ فضلات، کوڑے] میں تین سے پانچ فیصد کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے اور ان سب میں زہریلے مادوؤں کی موجودگی ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں برصغیر میں الیکٹرانک اشیاء کے صارفین میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اس میں اضافہ تیز رفتاری سے جاری بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت اگر چہ الیکٹرانک اشیاء سے پیدا ہوئی آلودگی نظر نہیں آ رہی ہے لیکن اگر اس پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں یہ ایک بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سال رواں کے آخر تک ہی تین سو ملین کمپیوٹر کوڑے خانے میں پھینک دیۓ جائیں گے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کئی طرح کے خطرے سامنے ہیں۔ الیکٹرانک فضلات کے ڈھیر کو ختم کرنے کے لیے اگر زمین میں دفنا دیا جائےتو کچھ مدت کے بعد اس علاقے کا پانی ٹاکسن کے سبب زہرآلود ہوجائے گا اور اگر اسے جلا یا جائے تو فضا آلودگی بڑھ جاتی ہے جس سے کئی طرح کی بیماریاں پیداہوتی ہیں الیکٹرانک ردی سے نجات حاصل کرنے کے یہ دونوں ہی طریقے صحت اور ماحولیات پر بلاواسطہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے بنانے میں لیڈ بکثرت استعمال ہوتا ہے جو نروس سسٹم ، گردے اور نسل کی افزائش کے لیے بہت ہی مضر ہے۔ دہلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے مطابق الیکٹرانک فضلات کو دوبارہ کارآمد بنانے کے لیۓ اکثر کمپنیوں میں مشینوں کی بجائے مزدوروں سے کام لیا جاتا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایسے مزدور جہاں خود خطرناک قسم کی ٹاکسن کے شکار ہوتے ہیں وہیں علاقے کی فضاء میں ٹاکسن کی موجودگی کے سبب وہاں کی آبادی بھی اس سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ حال ہی میں ہندوستان میں آ ئی ٹی کے لیے مشہور جنوبی شہر بنگلور میں اس سلسلے میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں الیکٹرانک فضلات کے نظم ونسق کے متعلق کچھ خصوصی بندوبست پر توجہ دی گئی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ الیکٹرانک صنعت اور اشیاء دونوں میں ہی دن بدن اضافہ ہورہا ہے ایسی صورت میں جہاں اس پر کچھ کنٹرول کی ضرورت ہے وہیں اسکے فضلات کو دوبارہ کارآمد بنانے یا ختمے کے لیۓ چند اصول وضوابط کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کے اس سنگین خطرے پر قابو پایاجا سکے ۔ ماہرین کے مطابق بلا تاخیر اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ حالات مزید بدتر ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||