BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 May, 2004, 01:53 GMT 06:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلکتہ: درختوں کی کٹائی پر احتجاج
کلکتہ
ریاست مغربی بنگال کی حکومت کلکتہ میں بڑے پیمانے پر تعمیر و ترقی کا کام کر رہی ہے
کلکتہ میں سڑکوں کو چوڑا کرنے اور شہر کی تعمیر کے لئے درختوں کی کٹائی زوروں پر ہے۔ میونسپل کارپوریشن اسے شہر کی ترقی کے لئے ضروری بتا رہی ہے۔ شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور ندیوں کے کٹاؤ سے آس پاس کے گاؤں کا بہہ جانا اب عام سی بات ہو گئی ہے۔ اسی بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے کلکتہ میں ماحول کے لئے کام کرنے والے تقریباً پچاس لوگوں نے درختوں کے کاٹے جانے کے خلاف احتجاج کیا اور اپنے سر کے بال منڈوا لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کر کے وہ درختوں کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماحولیات کے تحفظ کی کمیٹی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں کلکتہ میں مرکزی سڑکوں پر دو ہزار سے زیادہ درخت کاٹے جا چکے ہیں اور ان درختوں کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے گئے۔ ریاستی حکومت کے ماحولیات کے محکمے کے مطابق ہر کاٹے جانے والے درخت کی جگہ چار نئے درخت لگائے جانے چاہئیں۔

اگرچہ کلکتہ ہائیکورٹ نے اپریل دو ہزار تین میں ریاستی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ویسٹ بنگال پروٹیکشن آف ٹریز ان نان فاریسٹ ایریاز ایکٹ کے تحت درختوں کی کٹائی کے چھ ماہ پہلے ہی سے نئے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ مغربی بنگا ل کی حکومت کو اس حکم پر عمل کرنے کے لئے تین ماہ کی مہلت دی گئی تھی لیکن آج تک ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا۔

مزید یہ کہ نئے درختوں کو لگائے جانے کی ذمہ داری بھی پرائیوٹ ٹھیکیداروں کو دے دی گئ ہے جو شہر میں بڑ ھتی ہوئی آلودگی کے خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد